Saturday, November 19, 2016

KHAWAJA UMER FAROOQ

تیمر کے جنگلات

اگر صرف تیمر اور اس سے متعلق ماحولیاتی نظام کا جائزہ لیا جائے، تو معلوم ہوگا کہ پاکستان کے ساحلی علاقوں میں جہاں یہ قدرتی جنگلا ت موجود ہیں قریباً بارہ لاکھ افراد آباد ہیں، ان میں سے نوے ہزار افراد صرف دریائے سندھ کے ڈیلٹا کے علاقے میں بستے ہیں ۔ اس دیہی آبادی میں سے ایک لاکھ پینتیس ہزار سے زیادہ افراد اپنی ضروریات زندگی تیمر اور ان سے متعلق ذرائع سے حاصل کرتے ہیں ۔ ان قدرتی جنگلات کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ بہت سی آبی حیات اپنی زندگی کا خاصا حصہ ان ہی علاقوں میں گزارتی ہیں۔ ان میں مچھلیاں، کیکڑے اور خول دار جانور ( جھینگا) وغیرہ شامل ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دریائے سندھ کے ڈیلٹا کے علاقے میں موجود تیمر کے جنگلات سے جو مختلف قسم کی مچھلیاں حاصل کی جاتی ہیں، ان کی مالیت قریباً بیس ملین یا دو کروڑ ڈالر سالانہ ہے۔

انہی علاقوں سے چھوٹا جھینگا بھی خاصی مقدار میں حاصل کیا جاتا ہے اور اس کی مالیت کا تخمینہ ستر ملین یا سات کروڑ ڈالر ہے جبکہ اس کی برآمدی قیمت اس سے بھی ڈیڑھ گنا بڑھ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ کیکڑے کی برآمد سے بھی کوئی تیس لاکھ ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے اور یہ سب علاقائی اقتصادیات کے لیے بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ جنگلات یہاں کی بیشتر دیہی آبادی کے لیے گھریلو ایندھن کا بھی کام دیتے ہیں اور اندازہ ہے کہ ان سے اٹھارہ ہزار ٹن ایندھن جلانے کی لکڑی حاصل ہوتا ہے ،جس کی مالیت کا اندازہ چار لاکھ ساٹھ ہزار ڈالر سالانہ ہے ۔ تیمر کی لکڑی کے علاوہ اس کے پتے اور ٹہنیاں بھی گائے بھینسوں او بھیڑ بکریوں کے لیے چارے کے طور پر استعمال ہوتی ہیں ،اس طرح اگر تیمر سے علاقائی ماحول اور معاشیات کو ہونے والے فوائد کو دیکھا جائے، تو کہا جاسکتا ہے کہ کوئی 67000 ٹن پتیاں اور بیس ہزار ٹن گھاس ( چاول جو گھاس کی شکل میں اگتے ہیں) وغیرہ ہر سال مویشیوں کے چارے کے طور پر حاصل ہوتا ہے اور اس کی مالیت کا اندازہ ساڑھے تیرہ لاکھ ڈالر ہے۔

ایک اور مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ ان ہی علاقوں میں تیمر کو پہنچنے والے نقصانات سے کوئی ایک لاکھ پینتیس ہزارنفوس کا روزگار متاثر ہوا ہے اور یوں ایندھن، چارہ اور ساحلی اور آبی حیات کے نقصانات کا سالانہ انداز اٹھارہ لاکھ ڈالر کے قریب ہے۔ ان علاقوں سے صرف مچھلی کی برآمدی مالیت ساڑھے بارہ کروڑ ایک سو پچیس ملین ڈالر ہے، جو موجودہ حالات میں ایک بڑا نقصان تصور کیا جاتا ہے۔ انڈس ڈیلٹا میں لاکھوں ایکڑ رقبے پر تیمر کے جنگلات واقع تھے ،تا ہم میٹھے پانی کے اخراج میں کمی کا اثر ان پر بھی پڑا ہے اور اندازہ کیا جاتا ہے کہ ان جنگلات کی تعداد میں 40 فی صد سے زائد کمی ہوئی ہے۔ 1978ء میں ڈیلٹا کا کل مجموعی رقبہ جو تیمر کے درختوں سے ڈھکا ہوا تھا، وہ دو لاکھ 63 ہزار ہیکٹر تھا، جو 90 کی دہائی کے اختتام تک سمٹ کر صرف ایک لاکھ 58 ہزار 300 مربع ہیکٹرز تک رہ گیا اور اب یہ باقی ماندہ رقبہ بھی مسلسل تنزلی کا شکار ہے۔ 

1998ء میں سٹیلائٹ کی مدد سے کیے گئے ایک مشاہدے کے نتیجے میں یہ معلوم ہوا کہ ڈیلٹا کے علاقے میں تیمر کے جنگلات کم ہو کر 4لاکھ ایکڑ رہے گئے ہیں۔ ان میں سے بھی صرف ایک لاکھ 25 ہزار ایکڑ پر واقع درخت بہتر حالت میں ہیں جبکہ مزید ایک لاکھ 25ہزار ایکڑ پر مشتمل جنگلات زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ 1999ء میں زیر یں سندھ میں آنے والا خوفناک سمندری طوفان صرف تیمر کے جنگلات کی وجہ سے کراچی تک نہیں پہنچ پایا تھا۔ عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق تیمر کے یہ جنگلات ڈیلٹا میں رہائش پذیر ایک لاکھ 20 ہزار نفوس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے لکڑی اور اینڈھن فراہم کرتے ہیں۔ 

آبی حیات کی مختلف انواع کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ تیمر کے یہ جنگلات 44 اقسام کی تجارتی سمندری غذا کے لیے نرسری کا کام بھی انجام دیتے ہیں۔ اس علاقے میں ٹائیگر، شرمپ، پلہ مچھلی، ڈانگری، اور بڑا منڈی سمیت مختلف انواع، جو پہلے نہایت وافر مقدار میں پائی جاتی تھیں، اب ان کی تعداد دن بد دن کم ہو رہی ہے۔ یہ ہمارا اولین فرض ہے کہ تیزی سے معدوم ہوتے ہوئے ان قدرتی جنگلات اور انواع و اقسام کے حامل خزانوں کو مزید دست برد ہونے سے بچایا جا سکے تا آنکہ ہم یہ ورثہ اور اثاثہ بلاشبہ آئندہ آنے والی نسلوں کو منتقل کر سکیں۔

 (بحوالہ NCS جریدہ) -

KHAWAJA UMER FAROOQ

About KHAWAJA UMER FAROOQ -

Stand Up for What is Right Even If You Stand Alone.

Subscribe to this Blog via Email :