Thursday, October 6, 2016

KHAWAJA UMER FAROOQ

میلسی : ماضی میں اس شہر کے چار دروازے ہوتے تھے

ضلع وہاڑی کی تحصیل، ملتان سے ۵۴ میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ شہر قصور سے کراچی جانے والی سڑک اور ریلوے لائن کے ذریعے ملک کے کئی اہم شہروں سے ملا ہوا ہے۔ مغلیہ عہد کے دوران پتھورا اور راجہ بیکانیر کی اولاد میں سے کھچی خاندان کے دو بھائی محمد علی خاں اور فدا حسین خاں یہاں ہجرت کرکے آئے۔ محمد علی خاں عرف میلسی خاں نے میلسی شہر کی بنیاد رکھی اور فدا حسین خاں کے نام پر میلسی کا نواحی موضع ’’فدہ‘‘ آباد ہوا۔ بعد میں کھچی خاندان کے دوسرے افراد میلسی کے گردونواح میں پھیل گئے۔ ماضی میں اس شہر کے چار دروازے ہوتے تھے، جو بیکانیری دروازہ ، ملتانی دروازہ، لوہاری در وازہ اور کہر وڑی دروازہ کے نام سے مشہور تھے۔

ریاست بہاولپور سے فتح پنجاب کے بعد یہ علاقہ انگریزوں نے نواب بہاولپور سے بہاولنگر کے بدلے میں لیا تھا۔ ۱۸۴۸ء میں اس علاقہ کو ریاست بہاولپور میں تحصیل کا درجہ دیا گیا۔ شہر کے گرد فصیل کو از سر نو قابل حفاظت بنا یا گیا۔ دریائے ستلج سے پانی کا انتظام کیا گیا۔ ۱۸۴۹ء میں میلسی کو ملتان میں شامل کر کے تحصیل کا درجہ دیا گیا۔ ۱۹۴۲ء میں جب وہاڑی کو تحصیل بنایا گیا ،تو تحصیل میلسی کا علاقہ کم ہوگیا۔ ۱۹۲۹ء میں میلسی میں تھانہ اور ۱۹۲۷ء میں ریلوے سٹیشن قائم ہوا۔ اسی سال سے منڈی ٹائون، ۱۹۵۸ء میں ٹائون کمیٹی، ۱۹۶۳ء میں سب ڈویژن اور ۱۹۶۶ء میں میونسپل کمیٹی کا درجہ دیا گیا۔ یہاں کے لوگوں کی زندگی، معاشرت تمدن اور زبان پر ملتانی اور بہاولپوری رنگ کی جھلک واضح طور پر نظر آتی ہے۔ قیامِ پاکستان سے قبل یہاں ہندو کافی تعداد میں آباد تھے۔ وہ یہاں کی تجارت پر چھائے ہوئے تھے۔

۱۹۴۷ء سے قبل یہاں کی دونوں کاٹن فیکٹریاں ہندوئوں کی ملکیت میں تھیں۔ ایک رام نارائن بھولا ناتھ کاٹن فیکٹری جبکہ دوسری رابرٹس کاٹن فیکٹری کے نام سے مشہور تھی۔ یہاں چوہدری بالک رام کا تعمیر کردہ ’’چشمہ بائولی‘‘ کنواں اب بھی خستہ حالت میں موجود ہے۔ سیّد نتھے شاہ گردی نامی بزرگ کا سینکڑوں برس پُرانا مزار بھی ہے۔ میلسی میں طلبا کا پرائمری سکول ۱۸۶۴ء میں قائم ہوا تھا جو ۱۹۲۰ء میں مڈل اور ۱۹۴۰ء میں ہائی ہوا۔ لڑکیوں کا پرائمری سکول ۱۸۹۰ء میں قائم ہوا جو ۱۹۷۲ء میں ہائی ہوا۔ لڑکوں کا انٹر کالج ۱۹۷۶ء میں جبکہ لڑکیوں کا انٹر کالج ۱۹۸۰ء میں قائم ہوا۔ یہ دونوں کالج ۱۹۹۵ء میں ڈگری ہوئے جبکہ یہاں کا کمرشل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ ۱۹۸۶ء میں قائم ہوا۔ یہاں سے ریل گاڑی وہاڑی، بوریوالہ، ساہیوال اور لاہور جبکہ دوسری طرف سمہ سٹہ کے راستے کراچی تک جاتی ہے۔ اس علاقے میں کھچی قوم کی اکثریت ہے جبکہ بورانہ، جھنڈیر، آرائیں، مترو، خاکوانی، راجپوت، ملینرئی اور سندھڑ قوموں کے افراد بھی آباد ہیں۔

سرکلر روڈ، شنکر پورہ، دھرم پورہ، پکا بازار اور پرانی آبادی وغیرہ یہاں کی رہائشی بستیاں جبکہ مین بازار، تحصیل بازار، پیپل بازار، پکا بازار، فدہ بازار، تھانہ بازار، قائداعظم روڈ، ملتان روڈ، کالونی روڈ، بلدیہ مارکیٹ ، پیلس سٹیٹ سنٹر، غلہ منڈی اور سبزی منڈی یہاں کے اہم تجارتی مراکز ہیں یہاں لڑکوں اور لڑکیوں کے الگ الگ ڈگری کالج، کامرس کالج، لڑکیوں کا ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ اور متعدد سرکاری و غیر سرکاری سکول موجود ہیں۔ یہاں کپاس اوٹنے اور تیل نکالنے کے درجنوں کارخانے ہیں۔ یہاں گلشن ٹیکسٹائل ملز کے علاوہ تین فلورملز بھی ہیں۔ اتفاق کاٹن فیکٹری، یار کاٹن فیکٹری، محفوظ کاٹن فیکٹری اور رحیم بخش کاٹن فیکٹری یہاں کے اہم صنعتی یونٹ ہیں۔ یہا ں کپاس، کھجور، تمباکو، گندم، لہسن اور سرخ مرچ کی پیداوار بکثرت ہوتی ہے۔

فتح پور کا تاریخی قصبہ میلسی سے ۱۳کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جبکہ ایک تاریخی مسجد میلسی کے مشرق کی طرف قریباً ۸ کلومیٹر کے فاصلے پر موضع ملک واہن میں موجود ہے۔ یہ مسجد اورنگ زیب عالمگیر کے زمانے کی تعمیر شدہ ہے۔ اس کا طرزِ تعمیر اور خوبصورتی بہت دلکش ہے۔ اس مسجد کے مین دروازے کے دونوں طرف دو چھوٹے چھوٹے دروازے ہیں۔ اس کا ایک بڑا اور دوچھوٹے گنبد ہیں جبکہ دیواریں پانچ چھ فٹ چوڑی ہیں۔ اس کی آبادی ۱۹۷۲ء میں ۲۱۳۱۸، ۱۹۸۱ء میں ۳۳۶۵۲ اور ۱۹۹۸ء کی مردم شماری کے مطابق ۵۵۴۳۴ نفوس پر مشتمل تھی۔ اب اس کی آبادی ۸۰ہزار کے لگ بھگ ہے۔ میلسی میں زیادہ تر لوگ سرائیکی، پنجابی اور ہریانوی لہجہ بولتے ہیں۔ ادبی اعتبار سے یہاں کی مرحوم شخصیات میں نعمت علی جگر، سیّد علی اطہر اثر، عبدالرحمن خالد، میاں صادق محمد، معین نجمی، الطاف بسمل، منظور اسد اور حشمت اللہ دہلوی کے نام نمایاں ہیں۔

ان میں نعمت علی جگر جو ۱۹۴۷ء میں یہاں آکر مقیم ہوئے نے ادارہ علم و فن پاکستان کی میلسی میں شاخ قائم کی، اُن کا انتقال ۱۹۹۱ء میں ہوا۔ سیّد علی اطہر اثر نے یہاں بزم ادب میلسی کی بنیاد رکھی۔ وہ ۱۹۹۷ء میں فوت ہوئے۔ عبدالرحمن خالد جن کا انتقال ۲۰۰۲ء میں ہوا، کے چار شعری مجموعے کلیاں میرے گلشن کی، خیاباں خیاباں ارم، چراغ اوّل شب اور اک جہاں اندر جہاں شائع ہوئے۔ منظور اسد کا سرائیکی شعری مجموعہ ’’چھمکاں‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ انگریزی کے معروف اُستاد محقق اور شاعر محمد اسماعیل بھٹی کا تعلق میلسی سے ہے۔ 

(اسد سلیم شیخ کتاب ’’نگر نگر پنجاب:شہروں اور قصبات کا جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی اور ادبی انسائیکلوپیڈیا‘‘ سے مقتبس)

KHAWAJA UMER FAROOQ

About KHAWAJA UMER FAROOQ -

Stand Up for What is Right Even If You Stand Alone.

Subscribe to this Blog via Email :