Sunday, October 23, 2016

KHAWAJA UMER FAROOQ

رینالہ خورد : باغات کا شہر

ضلع اوکاڑہ کا ایک اہم قصبہ اور تحصیل۔ لاہور خانیوال ریلوے سیکشن پر لاہور سے ۶۸میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہاں سے شمال میں ست گھرہ اور چوچک جبکہ جنوب میں شیر گڑھ، حجرہ شاہ مقیم اور منڈی ہیر ا سنگھ سے ہندوستان کی سرحدوں تک پختہ سڑکیں جاتی ہیں۔ ایک سڑک اسے دیپالپور سے ملاتی ہے۔ کسی دور میں اسے باغات کا شہر کہا جاتا تھا۔ ریلوے لائن اور جی ٹی روڈ کے ساتھ ۱۵کلومیٹر طویل پاکستان کا واحد پھلوں کا باغ تھا۔ اس کے علاوہ یہ سرسبز و شاداب خطہ زمین، لہلہاتے کھیتوں، گھنے درختوں، کھلے میدانوں اور آلودگی سے پاک ماحول کا حامل تھا، جو کہ اب بڑھتی ہوئی آلودگی کی وجہ سے متاثر ہوا ہے اور طویل باغ اب قریباً تین کلومیٹر تک محدود رہ گیا ہے۔ 
رینالہ خورد ۱۹۱۴ء میں آباد ہوا۔ اس کے اردگرد کے دیہات میں فوجیوں کی اراضی ہے۔ پہلے یہاں لاہور ملتان روڈ پر ملیاں والا نام کا گائوں تھا۔ روایت ہے کہ یہاں ملہ کی جھاڑیاں ہوا کرتی تھیں، جس کی وجہ سے اس کا پرانا نام ملیا نوالہ مشہور تھا۔ رینالہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک انگریز خاتون کا نام تھا، جو یہاں کی جاگیر کی مالک تھی۔ بہرحال یہاں ۱۹۱۴ء میں رینالہ خورد کے نام کے قصبہ کی بنیاد رکھی گئی۔ شروع شروع یہ ایک قصبہ نما چوک اور غلہ منڈی پر مشتمل تھا۔ چوک کے ایک جانب مندرتھا۔ انگریز، ہندوئوں اور سکھوں کی ایک بڑی تعداد یہاں آباد تھی۔ انگریزوں کو گھوڑے پالنے کا بہت شوق تھا ،جس کی وجہ سے یہ خطہ گھوڑوں کی پرورش کے لئے بھی بہت مشہور ہوا اور اس علاقے کے پرورش کردہ گھوڑوں نے کئی مرتبہ بین الاقوامی ریس ڈربی جیتی۔ رینالہ خورد کا مچلز فروٹ فارم جو کہ دنیا کی بڑی فوڈ کمپنیوں میں شمار ہوتا ہے، اسے دو انگریز بھائیوں جنہیں مچلز (Michell,s) برادرز کہا جاتا تھا نے ۱۹۳۳ء میں قائم کیا تھا۔

فرانسس جے مچل سکاٹ لینڈ کا رہنے والا تھا۔ اس کا ایک بھائی جنگِ عظیم اوّل سے بھی پہلے ہندوستان میں تھا اور برصغیر کے ان علاقوں میں جو بعد میں پاکستان میں شامل ہوئے گورنمنٹ کنٹریکٹر کے طور پر ریل کی پٹڑی بچھوا رہا تھا۔ حالات کو سازگار پا کر اس نے فرانسس کو بھی ہندوستان بلا لیا چنانچہ وہ ۱۹۱۹ء کے لگ بھگ بمبئی پہنچا۔ ان دنوں نہری نظام کی بدولت پنجاب کے ضلع منٹگمری میں نئی نئی آباد کاری ہو رہی تھی۔ ذرا سی کوشش سے وہ سات سو بیس ایکڑ اراضی لیز پر حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ یہ رقبہ رینالہ خورد سے کسان ریلوے اسٹیشن تک نہر باری دوآب اور لاہور کراچی ریلوے لائن کے درمیان قریباً سات میل میں پھیلا ہوا تھا۔ ابتداً اس نے اس رقبے میں انگور اُگا کر کِشمش تیار کرنے کا تجربہ کیا ،جو کامیاب نہ ہوسکا کیونکہ موسم برسات میں انگور پر کیڑے حملہ کر دیتے جبکہ انگور کو کِشمش بننے کے لیے خشک موسم کی ضرورت ہوتی ہے۔ 

مرحوم سیاستدان سیّد سجاد حیدر کرمانی یہاں کے رہنے والے تھے۔ یہاں کی ایک اور اہم شخصیت ڈاکٹر صغیر احمد کی ہے ،جو کونسل آف آرتھوپیڈک آف پاکستان اور جناح ہسپتال کراچی کے شعبہ آرتھوپیڈک کے چیئرمین رہے۔ انہوں نے جناح ہسپتال کراچی میں رینالہ وارڈ بھی قائم کیا۔ قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر عبدالرئوف اور قومی ہاکی ٹیم کے دو اولمپین کھلاڑی محمد سرور اور محمد زبیر کا تعلق بھی رینالہ خورد سے ہے۔ ادبی لحاظ سے اقبال اسد، رائو سخاوت اور دلبر ساقی یہاں کی نمایاں شخصیات تھیں۔ محمد اقبال اسد کی کتب پنجاب دے لجپال پتر، گنجی یار دے ڈھولے شائع ہوئیں جبکہ چوہدری رحمت علی کی کہانی میری زبانی اور نکات القرآن (تفسیر) غیرمطبوعہ کتب ہیں۔ محمد یٰسین سلیم کی کتب تعلیمی ترقی کے جدید تقاضے، عظیم تقریریں بھی شائع ہوئیں۔ دلبر پنجابی زبان کے شاعر تھے اور ان کا شعری مجموعہ ساڈے حرفاں چُکے دُکھ شائع ہوا۔ 

اسد سلیم شیخ
(کتاب ’’نگر نگر پنجاب:شہروں اور قصبات کا جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی اور ادبی انسائیکلوپیڈیا‘‘ سے مقتبس)

KHAWAJA UMER FAROOQ

About KHAWAJA UMER FAROOQ -

Stand Up for What is Right Even If You Stand Alone.

Subscribe to this Blog via Email :