Header Ads

Breaking News
recent

برطانوی معاشرے میں نسلی امتیاز ’سرایت کر گیا ہے

انسانی حقوق کی علمبردار ایک تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ میں سیاہ فام
اور نسلی اقلیتوں کو اب بھی تعلیم اور صحت سمیت کئی شعبوں میں امتیازی سلوک کا سخت سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ملازمت، مکانات، اجرت اور کرمنل جسٹس نظام پر نظر رکھنے والی تنظیم ’دی ایکوالٹی اینڈ ہیومن رائٹس کمیشن‘ نامی تنظیم کے ایک تجزیے سے اس بارے میں خطرناک تصویر سامنے آئی ہے۔ اس کے مطابق سفید فام نوجوانوں کے مقابلے میں سیاہ فام گریجویٹس کو اوسطاً 23 فیصد کم اجرت ملتی ہے جبکہ نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں بےروزگار ہیں۔

کمیشن کے چیئرمین ڈیوڈ آئزک کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ برطانیہ کے یورپی یونین سے الگ ہونے کے فیصلے کے بعد نفرت پر مبنی جرائم، منظم طریقے سے ہونے والی دور رس بےانصافیوں اور نسلی امتیاز سے متعلق کئی باعثِ فکر پہلوں کا انکشاف کرتی ہے۔ انھوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں نسلی امتیاز کو قابو میں کرنے کے لیے فوری طور پر کوششیں دوگنا کرنے کی ضرورت ہے ورنہ معاشرے میں تفرقہ بڑھنے اور اور نسلی کشیدگی میں اضافہ ہونے کا خطرہ رہے گا۔‘ ان کا کہنا تھا: ’اگر جدید برطانیہ میں آپ سیاہ فام ہیں یا نسلی اقلیت، تو آپ اکثر محسوس کر سکتے ہیں کہ آپ کسی اور دنیا میں رہتے ہیں، کبھی آپ کو قومی معاشرے کا حصہ ہونے کا احساس نہیں ہو گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ سماج میں کس قدر سخت اور دور رس نسلی امتیاز کی جڑیں پائی جاتی ہیں۔ کمیشن کے مطابق انگلینڈ میں کسی سفید فام شخص کے مقابلے میں سیاہ فام شخص کے قتل کا تین گناہ زیادہ خطرہ رہتا ہے۔ اسی طرح نسلی اقلیتوں میں بے روزگاری کی شرح دوسروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ سفید فام لوگوں کے مقابلے میں نسلی اقلیت کے زیادہ لوگ غربت کا شکار رہتے ہیں، طاقتور اور بڑے عہدوں، جیسے ججوں اور پولیس سربراہ وغیرہ کے عہدوں پر نسلی اقلیتوں کے لوگوں کی نمائندگی بہت کم ہے۔ کمیشن کی رپورٹ کے مطابق غریب سفید فام لوگ بھی اسی طرح کی مشکلات سے دوچار ہیں۔ کمیشن نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمان کی تعداد میں پہلے سے اضافہ ہوا ہے جبکہ نسلی گروپ کے لوگوں میں اعلیٰ تعلیم میں بھی پہلے سے بہتری آئی ہے اور اب ان میں سے زیادہ گریجویٹس نکلتے ہیں۔

ڈیوڈ آئزک کا کہنا ہے کہ ایسے سماج کے تعمیر، جس میں کسی کی نسل سے اس کی منزل کا تخمینہ نہ لگایا جائے، اور سماجی برابری کے لیے حکومت کو جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ ادھر حکومت کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں حقیقی ترقی ہوئی ہے اور اگر گذشتہ 15 برسوں کا جائزہ لیا جائے تو اس وقت سیاہ فام اور نسلی اقلیتوں میں روزگار کی شرح پہلے سے کہیں بہتر ہے۔ حکومت کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ واضح طور پر اس سمت میں اور بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے اسی لیے حکومت اس سلسلے میں ایک جامع منصوبے پر کام کر رہی ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

No comments:

Powered by Blogger.