Wednesday, August 3, 2016

KHAWAJA UMER FAROOQ

تونسہ بیراج

تونسہ بیراج بنیادی طور پر آبپاشی کے لیے بنایا گیا۔ بیراج کی اوپر کی جانب پانچ عدد مٹی کے بند ہیں۔ ان بندوں کی وجہ سے 6,576 ایکڑ رقبے میں پانی کا ذخیرہ جمع ہوگیا ہے، جس میں مختلف اقسام کی آبی حیات آباد ہوچکی ہے صرف 1987ء کے موسم سرما میں تونسہ بیراج پر24,000 مختلف اقسام کے پرندے شمار کیے گئے تھے۔ دریاؤں پر بیراج بننے کے نتیجے میں قائم ہونے والے سب ہی آبی ذخائر کم و بیش ایک جیسے ہی ہیں۔ ان میں پانی کی گہرائی کا دارو مدار دریا میں پانی کی مقدار پر ہوتا ہے۔ دریائے سندھ جب کنارے کنارے بہتا ہے، تو تونسہ کے آبی ذخیرے میں 5 میٹر تک پانی ہوتا ہے۔ موسم سرما میں یہ پانی ایک میٹر سے بھی کم ہو جاتا ہے۔ تونسہ بیراج کے اردگرد کی زمین زرخیز ہے اور یہاں کپاس، گندم اور گنا وغیرہ کاشت ہوتا ہے۔ دریائے سندھ کے کنارے خود رو جھاڑیوں میں پلچھی کی تعداد زیادہ ہے، اگرچہ زیر کاشت رقبے پر درختوں کی نئی نسلیں متعارف ہوچکی ہیں۔
رامسر آب گاہ کا درجہ حاصل ہونے کے بعد تونسہ بیراج آبی حیات پر تحقیق کا اہم مراکز بن چکا ہے۔ 1983ء سے لے کر اب تک باقاعدگی سے پرندوں کے شمار کے علاوہ ’’ڈولفن منصوبے‘‘ پر محکمہ ماہی پروری پنجاب اور زولوجیکل سروے کے مشترکہ کام قابل قدر ہیں۔ ہجرت کرکے آنے والے بگلوں کے لیے تحقیقی سینٹر کے تونسہ بیراج پر قیام کی تجویز بھی زیر غور ہے اور محکمہ جنگلی حیات پنجاب میں جنگلی حیات کے لیے یہاں مصنوعی گھونسلے بنانے پر بھی غور ہو رہا ہے تاکہ مہمان آبی پرندوں کو زیادہ محفوظ اور پرسکون ماحول میسر آسکے اور ان کی آبادی میں خاطر خواہ اضافہ ہو۔ پنجاب میں واقع رسول قادر آباد، چشمہ بیراج، اور السلام ہیڈ ورکس کی طرح تونسہ بیراج رامسر آب گاہ میںبھی بڑے پیمانے پر ماہی پروری کا آغاز ہوچکا ہے، جس سے ہر سال کروڑوں روپے حاصل کیے جا رہے ہیں۔ چولستانی ہرن Hog Deer ابھی تک اس علاقے میں موجود ہے۔ تونسہ بیراج کا رامسر سائٹ نمبر 817 ہے۔

شیخ نوید اسلم

 (پاکستان کی سیر گاہیں)
 

KHAWAJA UMER FAROOQ

About KHAWAJA UMER FAROOQ -

Stand Up for What is Right Even If You Stand Alone.

Subscribe to this Blog via Email :