Sunday, August 7, 2016

KHAWAJA UMER FAROOQ

سائبر کرائم بل 2016ء - الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کا بل

ان دنوں ملک بھر میں سائبر کرائم بل 2016ء کا بے حد چرچا ہے۔ پاکستان دنیا کے ان 42 ممالک میں شامل ہے جن کے پاس سائبر کرائم کے لئے کسی نہ کسی شکل میں قانون ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ اگرچہ بعض حلقوں کی طرف سے اس حوالے سے قانون میں سقم اور آزادی اظہار پر قدغن لگانے جیسے خدشات سامنے آئے ہیں ۔ تاہم ہمارے ملک میں آزادی اظہار کے لیے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم کو تمام قیود و ضوابط سے مبرا ہو کراستعمال کیا جاتا رہا ہے جس کے منفی اثرات سامنے آئے ہیں ۔ سائبر کرائم سے مراد الیکٹرانک ٹیکنالوجی کی دنیا ،خواہ وہ بینکنگ ہو یا انٹرنیٹ سے وابستہ مختلف شعبہ جات ،میں ہونے والی غیر قانونی سرگرمیاں ، کمپیو ٹر سسٹم کو نقصان پہنچانا، اکاونٹس کی ہیکنگ ، انٹر نیٹ دہشت گردی ،فیس بک پر ہراساں کرنا، شہرت کو داغدار کرنا، جعلی شناخت ظاہر کرنا ،ممنوعہ و حساس معلومات تک رسائی و ڈیٹا چوری یا سوشل میڈیا کے ذریعے انتہا پسند تنظیموں کی معاونت ، فرقہ پرستی ، نفرت انگیزی یا مذہبی منافرت پھیلانے کا قبیح فعل،غیر قانونی سم کارڈ کا اجراء ،یہ سب سائبر کرائم کے زمر ے میں آتے ہیں۔
خواتین کو ہراساں کرنے کے لئے ان کی شناخت چوری کرکے مو بائل فون نمبر اور جعلی تصاویر لگانے کی شکایات بہت بڑھ چکی ہیں ،متاثرہ خواتین نے داد رسی کے لئے بڑی تعداد میں ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کے زیر تحت قائم نیشنل رسپانس سنٹر برائے سائبر کرائمز سے رجوع کیا۔ ایف آئی اے اب تک ایک ہزار سے زائد شناخت کی چوری پر مبنی شکایات کی چھان بین کر رہا ہے اور ایک اندازے کے مطابق فیس بک و دیگر سماجی رابطوں کی سائٹس پر ایسی جعلی شناخت بنانے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہے ۔ ایف آئی اے پاکستان الیکٹرک کرائم آرڈیننس 2007ء کے تحت سائبر کرائمز پر کاروائی کرنے کا خصوصی اختیار رکھتا ہے جبکہ دوسرا قانون الیکٹرانک ٹرانسیکشن آرڈیننس 2002 ء ہے۔ پاکستان الیکٹرک کرائم آرڈیننس 2007ء سائبر دہشت گردی ، ڈیٹا کو نقصان پہنچانے،الیکٹرانک فراڈ، جعل سازی ، جاسوسی اور غیر ضروری پیغامات وغیرہ بھیجنے جیسے جرائم پر کارروائی کرتا ہے ۔ کچھ عرصے سے انٹر نیٹ کی دنیا میں دھوکہ دہی اور جعل سازی کے لئے جدید ترین طریقے اپنائے جانے کے بعد ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ پاکستان میں اس حوالے سے ٹھوس اور پائیدار قانون سازی عمل میں لائی جائے ۔

خوش آئند امر ہے کہ ایوان بالانے بالآخر گذشتہ دنوں الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے ترمیم شدہ بل المعروف سائبر کرائم بل2016ء کی اتفاق رائے سے منظوری دے دی جس کے بعد قومی اسمبلی سے حتمی منظوری اور صدر مملکت کے دستخط کے بعدیہ بل باقاعدہ قانون کی شکل میں ملک بھر میں نافذ ہو جائے گا۔ پاکستان میں کافی عرصہ سے ایسے قانون کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی تھی جس کے ذریعے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس خاص طور پرسوشل میڈیا پر آزادی اظہار کی آڑ میں عرصہ دراز سے شتر بے مہار کی طرح جاری غیر اخلاقی ، غیر قانونی اور ملک دشمن سر گرمیوں کا تدارک کیا جا سکے۔ خوش آئند بات ہے کہ پارلیمان کی سطح پر اتفاق رائے کو فروغ دیتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کی 50سے زائد ترامیم کو بھی بل کا حصہ بنایا گیا ہے۔

بعض حلقوں کی طرف سے اس قانون کی مختلف شقوں اور ان پر عملدرآمد بارے تحفظات اور شکوک و شبہات بھی سامنے آئے ہیں تاہم ہمارے ملک میں اس شعبے میں پہلی بار قانون سازی ہو رہی ہے لہذا وقت کے ساتھ بل میں موجود نقائص اورسقم کو دور کیا جا سکتا ہے جبکہ حکومتی سطح پر بھی اس بل کے سیاسی و غلط استعمال کی روک تھام یقینی بنانیکا بھرپوراعادہ کیا گیا ہے۔ قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں قائم ہونے والے مقدمات کی سماعت کے لئے عدلیہ کے تحت خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی ۔ بل میں سائبر کرائم کے حوالے سے کئی شقیں شامل ہیں اور عدالت کی اجازت کے بغیر دو کے علاوہ کسی جرم میں گرفتاری نہیں کی جا سکتی۔ سائبر کرائم کے حوالے سے قائم خصوصی عدالتوں کے فیصلے کے خلاف 30 دن میں عدالت عالیہ میں اپیل کی جا سکے گی۔اس قانون پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لیے پارلیمنٹ کی ایک مشترکہ کمیٹی بنائی جائے گی اور سال میں دو مرتبہ اس بل پر عملدرآمد بارے رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کی جائے گی۔

مذکورہ بل میں صوبوں کے خلاف بات کرنے کو جرم قرار نہیں دیا گیا جبکہ قبل ازیں یہ قابل سزا جرم تھا۔ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے جن ٹی وی یا ریڈیو چینلز کو لائسنس جاری کیا گیا ہے، وہ اس بل کے دائرہ کار میں نہیں آئیں گے۔ بل میں ایسے 21 جرائم کی وضاحت کی گئی ہے، جن پر ضابطہ فوجداری کی30 دفعات لاگو ہو سکیں گی۔ کسی بھی شخص کے خلاف مقدمہ متعلقہ عدالت میں بھیجنے سے پہلے ایک تحقیقاتی عمل شروع کیا جائے گا۔سکیورٹی ایجنسیوں کی مداخلت کی روک تھام کے لئے اقدامات کئے جائیں گے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ یہ قانون سیاسی مقاصد کیلئے استعمال نہ ہو۔سائبر کرائم بل 2016ء کے تحت جرم کے دائرہ کار میں آنے والے عوامل میں نفرت انگیز تقریر، تنازعہ کھڑا کرنے کی کوشش یا مذہب اور فرقے کی بنیاد پر نفرت پھیلانے پر 5 سال قید اور ایک کروڑ روپے جرمانہ، بنیادی حساس معلومات کی نقل یا منتقلی پر 5 سال قید اور 50لاکھ روپے جرمانہ،کسی شخص کو تشہیر کی غرض سے پریشان کن پیغام بھیجنے پر50ہزار روپے جرمانہ اور جرم دوہرا ہونے کی صورت میں 3 ماہ قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ، منفی مقاصد کیلئے ویب سائٹ قائم کرنے پر 3 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ،کسی شخص کو غیر اخلاقی حرکت کے لئے مجبور کرنے،کسی کی تصویر بغیر اجازت شائع کرنے،بے ہودہ پیغامات بھیجنے یا سائبر مداخلت پر ایک سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ،حساس ڈیٹا انفارمیشن سسٹم میں مداخلت پر سات سال قید اور ایک کروڑ روپے جرمانہ، ممنوعہ معلومات تک غیر قانونی رسائی پر 3 ماہ قید اور 50 ہزار روپے جرمانہ، کسی شخص کی شناختی معلومات حاصل کرنے فروخت کرنے یا اپنے پاس رکھنے پر 3 سال قید اور 50 لاکھ روپے جرمانہ،غیر قانونی طریقے سے سم کارڈ کے اجراء پر 3 سال قید اور 5لاکھ روپے جرمانہ،غیر قانونی طریقے سے وائرلیس سیٹ یا موبائل فون میں تبدیلی کرنے پر 3 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ اور کسی شخص کے بارے میں غلط معلومات پھیلانے پر بھی 3 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی جا سکے گی۔ پاکستان کو عرصہ دراز سے دہشت گردی کے جس ناسور کا سامنا ہے، ملک کی نازک صورتحال میں بعض صورتوں میں بدامنی پھیلانے والی قوتوں کا سوشل میڈیا پر مذموم کردار سامنے آیا ہے اسے لگام دینا انتہائی ضروری ہو چکا تھا۔

صوبہ پنجاب میں بھی ملک کو دہشت گردی کی عفریت سے نجات دلانے کے لئے 20 نکاتی نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرتے ہوئے نفرت انگیز موا د کی نشرو اشاعت اور ابلاغ کے ایکٹ میں ترمیم کے بعد سوشل میڈیا کے ذریعے نفرت انگیزی کو فروغ دینے والے ہزاروں افراد کو گرفتار کرکے مقدمات درج کئے گئے اور مرتکب افراد کو جرمانے اور قید کی سزائیں دی گئی ہیں ۔ صوبہ پنجاب میں وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف کی قیادت میں مذہبی انتہا پسندی کے خاتمے، دہشت گردوں اور دہشت گرد تنظیموں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے پر پابندی ، دہشت گردوں کے کمیونیکیشن نیٹ ورک کو توڑنے اور انٹر نیٹ و سوشل میڈیا کے ذریعے دہشت گردی کے فروغ کی بیخ کنی کے لیے جاری اقدامات میں بھی یہ سائبر کرائم بل 2016ء مو ثر کرادار ادا کرے گا ۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کا سائبر کرائم بل کے حوالے سے شعور اجاگر کیا جائے تا کہ وہ جانے انجانے میں خلاف ورزی کے مرتکب ہو کر کسی پریشانی کا شکار نہ ہو جائیں ۔ ملکی سکیورٹی اور ای کامرس کے حوالے سے بھی اس قانون بارے متعلقہ افراد کی تعلیم و تربیت کی اشد ضرورت ہے۔ عالمی سطح پر سائبرکرائم کے بڑھتے ہو ئے واقعات اور ان میں جدیدیت کے بعد ہمارے ملک میں بھی اس حوالے سے ضروری اقدامات کئے جانا ضروری ہے ۔ امید کی جانی چاہیے کہ اس قانون کو سیاسی مقا صد کے حصول کے لیے لاگو کرنے کے حوالے سے بعض حلقوں کے خدشات غیر ضروری ثابت ہو نگے ۔ حکومت کی طرف سے ملک میں ہیکنگ اور کریکنگ کے حملوں کی روک تھام اور سائبر کرائم میں ملوث افراد کی گر فتاری کے لئے پاکستان سائبر کرائم رپورٹ کی ویب سائٹ قائم کی گئی ہے سائبر کرائم کا نشانہ بننے والوں کیلئے فارم Incident Reporting Form کو پر کرکے اپنا کیس ریکارڈ کروا سکتے ہیں۔

فارم تک رسائی کا لنک www.nr3c.gov.pk/html/incidentht.ml?ہے۔ ویب سائٹ پر دیئے گئے معلوماتی مواد کے ذریعے کوئی بھی شخص اپنے کمپیوٹر کریڈٹ کارڈ، ڈیٹا، ویب سائٹ اور ای میل کی حفاظت بخوبی کر سکتا ہے۔

سید مبشر حسین


KHAWAJA UMER FAROOQ

About KHAWAJA UMER FAROOQ -

Stand Up for What is Right Even If You Stand Alone.

Subscribe to this Blog via Email :