Saturday, January 23, 2016

KHAWAJA UMER FAROOQ

ہم اپنے کام سے وہ اپنے کام سے - وسعت اللہ خان

پرانے ٹھکانوں سے نکالے گئے دہشت گرد نئے ٹھکانے ڈھونڈ رہے ہیں، ایک دوسرے سے رابطے کے نت نئے طریقے اپنا رہے ہیں، نیا خام مال بھرتی کرنے کے لیے، اصل مقصد کو دینی لبادے سے ڈھانپنے کے لیے زیادہ پرکشش تاویلات گھڑ رہے ہیں۔ پہلے سے زیادہ سفاک وارداتوں کے لیے پہلے سے زیادہ مہارت حاصل کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔

فوج دہشت گردی کے خلاف ترجیحاتی جنگ لڑنے پر بالاخر کمر بستہ نظر آتی ہے۔ یہ الگ بات کہ جہیز میں ملے پرانے اسٹرٹیجک اثاثوں سے پوری طرح جان نہیں چھڑائی جا سکی چنانچہ دہشت گردی کے یک نکاتی ترجیحاتی پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے جس بنیادی یکسوئی کی ضرورت ہے وہ اب تک پیدا نہیں ہو سکی۔

ایک وقت میں ایک اژدھے پر ہاتھ ڈالنے کے بجائے تمام اژدھوں سے بیک وقت کشتی لڑنے کی خواہش کسی کو بھی قبل از وقت تھکا سکتی ہے بھلے وہ رستم ہو کہ سہراب۔ دنیا کی کوئی بھی فوج بیک وقت چار جنگیں نہیں جیت سکتی۔ بھلے وہ رومن ایمپائر ہی کیوں نہ تھی، بھلے وہ آج کا امریکا ہی کیوں نہ ہو، بھلے وہ پاکستان کی پراعتماد عسکری قیادت ہی ہو۔

ایک سے زائد جنگیں صرف ایک طریقے سے جیتی جا سکتی ہیں۔ یعنی اپنے دشمنوں کو آپس میں لڑوا دو۔ مگر یہاں تو ریاستی ادارے ہی ایک پیج پر نہیں تو دشمن کے دماغ کا پیچ کیسے کَس پائیں گے۔ ہم اسٹرٹیجک ڈیپتھ کا خواب ہی دیکھتے رہ گئے اور دشمن نے اسٹرٹیجک ڈیپتھ حاصل کر بھی لی۔ یقین نہ آئے تو ہم میں سے ہر کوئی اپنے دل و دماغ، زبان، قلم اور قدم کو ٹٹول کر محسوس کر لے۔

جہاں تک سویلین حکومت کا معاملہ ہے تو اب نہیں تو کب معلوم ہو گا کہ جس کا اختیار ہے دراصل وہی بااختیار ہے یا اختیار کسی کے نام پر ہے اور استعمال کوئی اور کر رہا ہے۔ کیا دہشت گردی کے لیے پاکستان کی سرزمین استعمال ہونے کا مسئلہ امورِ خارجہ میں اس وقت سرِفہرست ہونا چاہیے یا تلور کے شکار کو خارجہ پالیسی کا ستون ہونا چاہیے۔
اگر یہی طے نہیں ہو رہا کہ کراچی میں رینجرز کتنے با اختیار و بے اختیار رہیں گے۔ پنجاب میں شدت پسندوں کے خلاف نیم فوجی آپریشن کی ضرورت ہے کہ نہیں۔ کیا پولیس مقابلوں، انٹیلی جینس کی بنیاد پر ہونے والے آپریشنز، لوگوں کے پراسرار طریقے سے غائب ہونے، سرسری سماعت کے ذریعے سزائیں سنانے اور کڑے زمینی حقائق کو خلائی حقائق بتانے سے بربادی کے شعلے اگلنے والا عفریت قابو میں آ سکتا ہے۔ جب تک آپ کچے جوان ذہنوں کے خام مال کو کسی تعمیری سوچ اور مصروفیت میں کھپانے کا انتظام نہ کریں؟

صرف سرکش سروں کی تعداد گھٹانے سے سرکشی کتنی دیر کے لیے قابو میں آ سکتی ہے جب تک ان فکری سرچشموں پر جوابی نظریاتی بند باندھنے کی تدبیر نہ کی جائے جو ذہنوں کو مسلسل آلودہ کر رہے ہیں۔

ہاں ہم آپ کی تعریف کر سکتے ہیں کہ آپ نے انتہاپسندی کے تربیلا ڈیم کی جھیل میں چار لاکھ کیوسک پانی مقید کر دیا ہے۔ مگر اس چار لاکھ کیوسک کے بارے میں بھی سوچا جو ابھی راستے میں ہے۔ اور اس دو لاکھ کیوسک کے بارے میں بھی سوچا جو جھیل لبالب بھرنے کے سبب اوور فلو کر رہا ہے۔ سرچشمے پر کنٹرول کے بجائے اپنی اپنی فصل بچانے کی تگ و دو سے کیا تباہ کاری کم ہو جاتی ہے؟

کیا اس وقت ریاست کی تمام تر توانائیاں خود کو اندرونی طور پر محفوظ کرنے کے طریقوں پر سوچ بچار میں صرف ہونی چاہئیں یا پھر گھر کو خدا کے بھروسے چھوڑ کے ایران اور سعودی عرب کو بچوں کی طرح سمجھانے پر نکل کھڑے ہونا اس وقت زیادہ اہم ہے؟ کیا ان دونوں ممالک کو بھی کبھی پرواہ رہی کہ پاکستان میں برسوں سے لگی آگ بجھانے وہ ہماری کیسے مدد کر سکتے ہیں؟

یہ ٹھیک ہے کہ لمبی لڑائی میں گیہوں سے زیادہ گھن پستا ہے اور سب سے زیادہ زخم عام آدمی کو ہی لگتے ہیں۔ مگر عام آدمی کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ سیاہ اور سفید کے درمیان جو بھورا رنگ ہے اسے وہ کیا سمجھے اور کس نظر سے دیکھے اور کتنے یقین سے دیکھے۔ وہ اس لڑائی میں کس کا کھل کے ساتھ دے اور کسے اپنا اصل دشمن جانے۔ اس بازار میں ہر دکاندار ایک ہی برانڈ کا ملتانی سوہن حلوہ بیچ رہا ہے۔ کیسے پتہ چلے کہ کون سا حلوہ اوریجنل اور کون سا دو نمبر ہے۔ پیکنگ تو سب ہی کی دیدہ زیب اور یکساں ہے۔

عام آدمی چونکہ طبعاً مذہبی ہے لہذا وہ رہنمائی کے لیے علما کی طرف دیکھتا ہے۔ مگر بیشتر علما اب تک نہیں طے کر سکے کہ وہ خرگوش کے ساتھ ہیں کہ شکاری کے ساتھ۔ وہ کھل کے یہ بھی نہیں بتا پا رہے کہ حق کیا ہے اور ناحق کیا؟ ظلم کیا ہے اور مظلومیت کیا؟ فتنہ کیا ہے اور تدارک کیا؟

یہ وقت شادی کی عمر کے شرعی تعین کا ہے یا اسکولی بچوں کو مارنے والوں کی شرعی حیثیت متعین کرنے کا؟ اس بات پر گتھم گتھا ہونے کا ہے کہ کون سا فرقہ اسلامی ہے اور کون سا دائرہ اسلام سے خارج یا یہ بتانے کا ہے کہ قاتل ہی دائرہِ اسلام سے خارج ہے؟ یہ وقت مدارس کے آڈٹ اور تعلیمی نصاب سے نفرت انگیز مواد نکالنے پر تعاون کرنے کا ہے یا ایسی تجاویز دینے والوں کو کوسنے کا؟ کیا کہیں سے بھی کسی کو لگ رہا ہے کہ یہ ملک حالتِ جنگ میں ہے اور ہم اس جنگ کو جیتنے میں اپنا اپنا حصہ ڈال رہے ہیں؟

کیا آج بھی میڈیا کو ریٹنگ کے علاوہ کچھ اور سجھائی دے رہا ہے؟ کیا رشوتیوں نے یہ سوچ کر اپنا نرخ کم کیا ہے کہ جب تک حالات نارمل نہیں ہوتے وہ کم رشوت پر ہی گزارہ کریں گے؟ کیا سیاستدانوں نے خود سے کوئی ایسا وعدہ لیا ہے کہ حالت کی سنگینی کو منہ پھٹ بیانات سے اور سنگین نہیں بنائیں گے۔
کیا لینڈ مافیا نے کوئی خفیہ عہد کر لیا ہے کہ جب تک اس ملک کی زمین اندرونی و بیرونی دشمنوں کے قبضے سے آزاد نہیں ہو جاتی تب تک ہم کسی ہموطن کی زمین جعلسازی، دھونس یا دھوکے سے نہیں ہتھیائیں گے؟

 کیا ٹیچر اس نکتے پر متفق ہو پائے ہیں کہ اب جہالت کی فصل مزید نہیں بوئی جائے گی اور جتنی توجہ تنخواہ بڑھانے کے مطالبے پر ہے کم از کم اتنی ہی توجہ بچوں کو پڑھانے پر بھی دی جائے گی۔ کیا گھوسٹ ملازمین کی ایسوسی ایشن نے حلف اٹھایا ہے کہ حالات کی بحالی تک وہ اپنے حصے کا کام کرنے کی زحمت بھی اٹھاتے رہیں گے اور جو لوگ دہشت گردی و انتہا پسندی کے خلاف اس جنگ میں اپنی اپنی بساط کے مطابق کچھ بھی نہیں کر رہے وہ تو کمال کر رہے ہیں۔

وزارتِ داخلہ نے انسدادِ دہشت گردی کے لیے ون سیون ون سیون کی جو ہیلپ لائن قائم کی ہے اس کے ساتھ عام شہری کیا سلوک کر رہے ہیں؟ اس کا اندازہ یوں ہو سکتا ہے کہ راولپنڈی کے ایک شہری یاسر محمود نے اس ہیلپ لائن پر چار سو نواسی بار اور چکوال کی ایک خاتون نے دو سو پچیس بار کال کر کے انگیج کیے رکھا اور وہ وہ گفتگو فرمائی جس کا ہیلپ لائن کے اصل مقصد سے کوئی لینا دینا نہیں۔ پولیس نے دونوں شہریوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ کراچی میں فائر بریگیڈ کی ہیلپ لائن پر روزانہ دس تا پندرہ ہزار کالیں آتی ہیں۔ نوے فیصد کالیں کچھ اس قسم کی ہوتی ہیں ’’ میرے دل میں آگ لگ گئی ہے۔ پلیز فائر ٹینکر روانہ کر دیں۔۔۔۔ 

کیا یہی لچھن ہوتے ہیں اپنی بقا کی جنگ سے دوچار قوموں کے؟؟

وسعت اللہ خان

KHAWAJA UMER FAROOQ

About KHAWAJA UMER FAROOQ -

Stand Up for What is Right Even If You Stand Alone.

Subscribe to this Blog via Email :