Header Ads

Breaking News
recent

ابھی نہیں تو پھر کبھی نہیں

سابق وفاقی وزیر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے قریبی معتمد ڈاکٹر عاصم حسین کا انسداد دہشت گردی کی عدالت نے نوے روز کے لیے رینجرز کو ریمانڈ دیدیا ہے۔

رینجرز کا کہنا تھا کہ ان کے پاس ٹھوس شہادتیں موجود ہیں کہ وہ فنڈز کی خورد برد میں ملوث تھے جب کہ ان فنڈز کے ڈانڈے مبینہ طور پر دہشت گردی سے بھی ملتے تھے۔ان کی گرفتاری کے بعد پیپلز پارٹی کے لیڈروں نے دھمکی بھی دی کہ اگر آصف علی زرداری کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی تو اس سے جنگ چھڑ جائے گی۔ پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ نے تصدیق کی کہ عوامی تاثر یہ ہے کہ اس سے بالآخر شکنجہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین تک پہنچ جائے گا۔
دوسری طرف ایف آئی اے نے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی‘ مخدوم امین فہیم اور دیگر رہنماؤں کے خلاف 12 الگ الگ مقدمات میں ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔
ان مقدمات کا تعلق جعلی کمپنیوں کو اربوں روپے کی تجارتی سبسڈیز دی گئیں جن کے لیے سابقہ تاریخوں کے جعلی کلیم داخل کرائے گئے۔ ایک اور وارنٹ گرفتاری سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے نام ہے۔ مہینہ پہلے جو پیپلز پارٹی نے اندازہ لگایا تھا اور جب زرداری بھڑک اٹھے تھے وہ بات اب سچ ثابت ہو رہی ہے۔ رینجرز نے کراچی میں ایم کیو ایم کی اسٹریٹ پاور کسی حد تک توڑ دی ہے۔
آصف زرداری نے اپنے بیان میں میاں نواز شریف کو خطرناک مضمرات کا انتباہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ 1990ء کی انتقامی سیاست سے باز رہیں تاہم وہ اس مرتبہ اتنے محتاط ضرور تھے کہ فوج کو اس بار ہدف نہ بنائیں۔ ان کے دیرینہ دوست ذوالفقار مرزا نے تو ان پر انتہائی سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے ہیں۔

ریکارڈ درست کرنے کے لیے یہ بتانا ضروری ہے کہ میاں نواز شریف اس احتساب کے حوالے سے، جو فوج نے شروع کیا ہے، قطعاً بے بس ہیں۔ سندھ کے برائے نام وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ یہ شکایت کرتے ہوئے بڑے دلچسپ نظر آتے ہیں کہ نیب اور ایف آئی اے سندھ میں ان کو بتائے بغیر ’بدعنوان افراد‘ کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔

انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر اس قسم کے اقدامات جاری رہے تو جمہوریت قائم نہیں رہ سکے گی۔ تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں جو سیاستدان اقتدار میں بیٹھے ہیں وہ آئین میں ترمیم کے ذریعے بدعنوانی کو قانونی حیثیت دے سکتے ہیں تا کہ جمہوریت کو نقصان نہ پہنچے؟ اور کیا سپریم کورٹ اس بات کی تردید کرے گی یا اسے درست قرار دے کر بدعنوانی کرنے والوں کو کسی بدلے ہوئے بھیس میں کام کرنے دے گی تا کہ جمہوریت کا ایک اور باب تحریر کیا جا سکے؟

ایک اہم شخصیت کا بیٹا جس کے بارے میں افواہ ہے کہ وہ کئی ارب ارب روپے لے کر ملک سے فرار ہوگیا ہے۔ آخر منی لانڈرنگ کے قوانین اس ملک میں کیا ہیں جہاں روپیہ بھیجا جا رہا ہے۔ برطانیہ اور دیگر بہت سے ممالک میں ’’رئیل اسٹیٹ‘‘ وہ شعبہ ہے جہاں کالے دھن کی سرمایہ کاری بآسانی کی جاتی ہے۔ آخر برطانیہ اس قسم کے فنڈز پر پابندی کیوں عائد نہیں کر سکتا؟ یہ سب کچھ سوچنے کی باتیں ہیں۔

مغربی ممالک جو مسلسل کرپشن اور منی لانڈرنگ وغیرہ کا شور مچاتے رہتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ کام تیسری دنیا کے ممالک میں ہوتے ہیںلیکن ان کے اپنے ملک میں سب کچھ ہو رہا ہے۔ ترقی پذیر ممالک کے لوگ کرپشن کا سرمایہ وہاں منتقل کر رہے ہیں۔ گویا مغربی ممالک نے دوہرا معیار اختیار کر رکھا ہے۔

جب سوٹزر لینڈ کے بینکاری کے شعبے میں کی جانے والی حالیہ اصلاحات کے بارے میں پوچھا کہ اس کا پاکستان کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے کیونکہ بہت سے سیاستدانوں نے مبینہ طور پر اپنی دولت سوئس بینکوں میں رکھی ہوئی ہے۔
اس بارے میں کراچی میں سوئس قونصل جنرل ایمل وائس (Emil Wyss) سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا ’’گیند حقیقت میں پاکستان کی کورٹس میں ہے ’’یہ معاملہ پاکستانی عدالتوں کے ذریعے ہی آگے جائے گا۔ تب حکومت پاکستان کو ہماری حکومت سے رسمی طور پر درخواست کرنا پڑے گی اور ثبوت پیش کرنا پڑے گا کہ سوئس بینکوں میں رکھی ہوئی رقم غیر قانونی ذرایع سے حاصل کی گئی تھی۔ اگر حکومت پاکستان یہ ثابت کر سکی تو سوئس حکومت رقم واپس کر دے گی‘‘۔

ایمل وائس یقیناً بہت اچھے اور سلجھے ہوئے آدمی ہیںلیکن انھیں اس بات کی سمجھ نہیں آ رہی کہ حکومت پاکستان کے لیے یہ ثابت کرنا تقریباً نا ممکن ہو گا کیونکہ منی لانڈرنگ کے بارے میں ہمارے اپنے قوانین ہیں تو بہت سخت ہیں لیکن یہ صرف تھیوری کی حد تک ہیں۔ کیا سوئس حکام یہ پوچھ سکتے ہیں کہ وہاں لائی جانے والی دولت کا ذریعہ کیا ہے اور وہ سوئٹزر لینڈ تک کیسے پہنچی۔ اور اگر کسی رقم پر ان کو ایسا شک ہو جائے تو کیا وہ پوچھیں گے کہ آیا اس رقم پر مطلوبہ ٹیکس ادا کر دیے گئے تھے یا نہیں؟

دہشت گرد کرپشن کے ساتھ ساز باز کے بغیر کوئی کارروائی نہیں کر سکتے۔ انھیں منظم جرائم کے گروہوں کے ساتھ تعلق قائم کرنا پڑتا ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم نے ’’جرائم کے خلاف ساجھے داری‘‘ (PACI) کے عنوان سے ایک اقدام کیا جس میں اسی بات پر بار بار زور دیا گیا۔ اگر منظم جرائم کے مافیا کی پشت پناہی حاصل نہ ہو تو دہشت گرد اپنی سرگرمیاں کسی طور بھی جاری نہیں رکھ سکتے۔ کرپشن کے ذریعے حاصل کی جانے والی دولت پر پہلا قدم منی لانڈرنگ کے ذریعے اسے جائز ثابت کیا جاتا ہے۔
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے وادی شوال میں فوج کے اگلے مورچوں پر جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کرپٹ افراد کے خلاف نیب‘ ایف آئی اے اور رینجرز کی کارروائیوں پر اعتراض کے جواب میں دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے ’’ہم ہر گز اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ ہمارے لوگوں اور ہمارے بچوں کو شہید کیا جائے۔ ہم ان تمام چہروں کو بے نقاب کر دینگے جو دہشت گردوں کی کسی بھی طریقے سے کسی بھی مرحلے پر مدد کرتے ہیں‘‘۔

رینجرز بڑی تندہی سے اپنے فرائض کی ادائیگی میں مصروف ہے لیکن اسے خود احتسابی کا بھی خیال رکھنا چاہیے تا کہ ان کے میجروں‘ کرنلوں اور دیگر افسروں پر نگاہ رکھی جا سکے۔ ایک عشرہ پہلے کے افسروں اور فوجیوں کا موجودہ جنگجو فوجیوں سے بڑا فرق ہے جنہوں نے سوات اور فاٹا میں باقاعدہ جنگ لڑی۔ مشرف کے دور میں ایک دو افسروں کو بلا دیکھے پروموٹ کر دیا تھا حالانکہ انھوں نے کبھی ایک گولی نہیں چلائی تھی۔

تاہم اب پاکستانی فوج پر لازم ہے کہ وہ اپنا احتساب بھی پوری سختی کے ساتھ کرے۔ ایک بہت اچھا منصوبہ بھی اس وقت تک کوئی وقعت نہیں رکھتا جب تک کہ اس پر کامیابی کے ساتھ عمل درآمد نہ کیا جا سکے۔ فوج کے لیے بھی خود احتسابی کے ساتھ کڑے احتساب کی نگاہ بھی ناگزیر ہے مبادا وہ خود اس آلائش کا شکار نہ ہو جائے جس کو دور کرنے کے لیے اسے متعین کیا گیا ہے اور یہ کام اگر ابھی نہ کیا گیا تو پھر کبھی نہیں ہو سکے گا۔

اکرام سہگل

بشکریہ روزنامہ جنگ

No comments:

Powered by Blogger.