Header Ads

Breaking News
recent

شکریہ جسٹس خواجہ

سپریم کورٹ کے حالیہ چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے جاتے جاتے تاریخ رقم کر دی۔ تقریباًدس سال سے سپریم کورٹ میں زیر التواء ایک پٹیشن پر اردو زبان کو سرکاری اداروں میں نافذ کرنے کا فیصلہ سنا دیا۔سپریم کورٹ میں اس طرح کی عوامی فلاح سے متعلق بہت سی درخواستیں سال ہا سال زیرِ التوا رہتی ہیں۔ وجہ تسمیہ اسکی یہ ہوتی ہے کہ ایسی درخواستیں میرٹ پر تو درست ہوتی ہیں لیکن کسی نہ کسی طرح ان پر فیصلہ سنانا عملی طور پر مشکل ہوتا ہے، سو ایسی درخواستوں کیلئے سال ہا سال اور بعض اوقات غیر معینہ مدت کیلئے زیرِ التواء رہنا ہی مناسب خیال کیا جاتا ہے۔ اگر قریب دس سال پرانی ایسی درخواست پر فیصلہ سنایا گیا ہے تو اس کا کریڈٹ جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسٰی، جسٹس دوست محمد پر مشتمل بنچ کو جاتا ہے۔

درخواست گزار کوکب اقبال ایڈووکیٹ کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا جانا چاہئے کہ انہوں نے سپریم کورٹ میںاردو زبان کے نفاذ کے حوالے سے آئین کے آرٹیکل کی خلاف ورزی کے خلاف سپریم کورٹ میں یہ درخواست دی۔ حسنِ اتفاق ہے کہ میں نے وکالت کے آغاز میںلاہور کی مشہور لاء فرم میں پارٹ ٹائم انٹرن شپ کی جس میں جسٹس جواد ایس خواجہ کبھی پارٹنر ہوا کرتے تھے۔انہی دنوں میں سول سروس اکیڈمی میں زیر تربیت تھا لیکن کچھ وکالت کا جنون تھا اور کچھ افتادِ طبع کا کمال کہ طبعیت سول سروس کے’’ تقاضوں ‘‘کیلئے موزوں نہیںتھی، سو سول سروس کی تربیت کے دوران ہی حامد خان صاحب جواس لاء فرم کے سینئر پارٹنر تھے ، سے انٹرن شپ کی درخواست کی۔ حامد خان صاحب سے انہی دنوں سے احترام کا رشتہ قائم ہوا، جو آج دن تک قائم ہے۔
فرم میں مجھے اعجاز الحسن صاحب کے ساتھ انٹرن شپ کا موقع ملا جو آجکل لاہور ہائی کورٹ کے قابل جج صاحبان میں شمار ہوتے ہیں۔ سی ایل ایم میں جسٹس جواد ایس خواجہ کا ذکر ِ خیر ہوتا رہتا تھا، وہ روایتی طور پر وکالت کی اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے وکیل تھے ۔ وکالت کی اشرافیہ سے میری مراد یہ ہے کہ کھاتے پیتے گھرانوں کے نوجوان امریکہ یا برطانیہ سے ڈگری لیکر آتے ہیں ، اچھی لاء فرم میں کام کرتے ہیں ، پھر اعلیٰ عدلیہ کا حصہ بن جاتے ہیں یا پھر اپنی بڑی بڑی فرمز بنا لیتے ہیں جو کروڑوں روپے کماتی ہیں۔ اس وکیل اشرافیہ کی چند ایک خصوصیات ہیں جن سے اختلاف یا احتراز ناقابلِ قبول تصور کیا جاتا ہے۔ ان خصوصیات میں مغربی لباس یعنی پینٹ کوٹ، مغربی طور طریقے اور کلچر، اور انگریزی زبان شامل ہیں ۔ وکالت کی اشرافیہ میں ان خصوصیات کو اپنانا مذہبی فریضے کے برابر تصور کیا جاتا ہے ۔اسی طرح جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، بلوچستان کے چیف جسٹس بننے سے پہلے پاکستان کی ایک بڑی کامیاب لاء فرم کے پارٹنر تھے۔

اتفاق کی بات ہے کہ جب وہ جج بنے میں انکی فرم کے اسلام آباد آفس سے وکالت کا باقاعدہ آغاز کر چکا تھا۔ وہاں بھی وکیل اشرافیہ کی ان خصوصیات پر سختی سے عمل ہوتا تھا۔۔کہتے ہیںدنیا گول ہے! اپنے کوکب اقبال ایڈووکیٹ صاحب سے تو اسلام آبادبار کے حوالے سے ایک تعلق خاطر ہے ، جب سے معلوم ہوا کہ اردو کو نافذ کرنے کی درخواست انہوں نے دائر کر رکھی ہے تو ان سے کئی ملاقاتیں کیںاور انکا شکریہ ادا کیا۔

 چند روز پہلے جب سپریم کورٹ نے اردو زبان کو نافذ کرنے کا تاریخی فیصلہ دیا تو میں حیرت کا بُت بنا رہا کہ کوکب اقبال کی عوامی بہبود کی ایک گم گشتہ درخواست پر جسٹس خواجہ اور جسٹس عیسیٰ جیسے انگریزی دان جج صاحبان نے تاریخی فیصلہ رقم کر دیا۔ اس کیس کی پچھلی تاریخ کے موقع پر میں عدالت میں موجود تھا ، تو جسٹس جواد خود اس بات کا اظہار کر رہے تھے کہ وہ تو انگریزی زبان میں پلے بڑھے، لیکن اردو زبان کا نفاذ کسی کی ذاتی پسندیا نا پسند کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ آئین کا حکم ہے۔

اردو زبان کے نفاذ کی کوششوں میں کچھ تھوڑا بہت حصہ بندہ ناچیز کا بھی ہے اسی طرح اس کوشش میں ایک بڑا حصہ روزنامہ جنگ کا بھی ہے جس نے اردو زبان کے نفاذ کے لئے بہت سے کالموں کیلئے اپنا فورم مہیا کیا۔ انہی کالموں کی بدولت قومی زبان تحریک سے تعارف ہوا جسکی بہت فعال رکن فاطمہ قمرمسلسل رابطے میں رہتی ہیں ۔ قومی زبان تحریک نے پاکستان میں قومی زبان کے نفاذ کا بیڑہ اٹھایا ہوا ہے ۔ اس تحریک کی اردو کے نفاذ کیلئے کوششوں کو سراہنا بھی از حد ضروری ہے۔خیر سپریم کورٹ نے تو اپنا فرض ادا کر دیا اب اردو کے نفاذ کو ایک اور دریا عبور کرنا ہے وہ اس حکم پر عمل درآمد کا ہے۔ جیسا کہ قرائین بتاتے ہیں اس فیصلے پر عمل درآمد آسان نہیں ہوگا۔

میری دانست میں اس فیصلے پر عمل درآمد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سول اور ملٹری بیوروکریسی کی جانب سے آئے گی۔ یہ دونوں ادارے پاکستان کے سب سے مضبوط اور منظم ادارے ہیں لیکن یہ آزادی کے اڑسٹھ سال گزرنے کے باوجود برٹش راج کی روایات سے بہت مضبوطی سے جُڑے ہوئے ہیں۔ انگریزی زبان کے ساتھ انکی محبت بلکہ عادت بہت پکی ہے۔ انگریزی زبان بولنے کا جو لطف ہمارے سول و ملٹری بیوروکریسی سے تعلق رکھنے والے حضرات لیتے ہیں ، خودانگریز کبھی خواب میں بھی نہیں لے سکتے۔انکے لئے انگریزی زبان ایک روایت ہے ، ایک جنون ہے ، ایک باعث تفاخر چیز ہے ، جو انہیں باقی پاکستانیوں سے برتر بناتی ہے۔

انکے لئے انگریزی زبان کو ترک کردینا ایسے ہی ہے جیسے کسی جادوگر سے اسکا گُر چھین لیا جائے۔ پھر اردو کے نفاذ کے خلاف مزاحمت وکالت کی اشرافیہ اور اعلیٰ عدلیہ کی طرف سے بھی آئے گی۔ کیونکہ یہاں بھی انگریزی زبان کا درجہ بیوروکریسی سے مختلف نہیں ، بلکہ یہاں تو انگریزی زبان سخت مسابقت کے ماحول میں پیشہ ورانہ برتری کا ذریعہ بھی ہے۔لیکن اسکے باوجود ہمارے ہاں انگریزی زبان پر مہارت کا جوحال ہے ، وہ قابلِ رحم ہے۔ اپنے تئیں انگریز ی زبان کے زعم میں مبتلا یہی اشرافیہ کے لوگ جس طرح انگریزی زبان کی ٹانگ توڑنے میں مصروف ہوتے ہیں اس پر گریہ کی ایک الگ داستان ہے ۔ جسٹس خواجہ نے بھی اس کیس کی سماعت کے دوران یہ آبزرویشن دی،کہ وہ توکرسی عدالت پر بیٹھے ہوئے بڑوں بڑوں کی ’’انگریزی دانی‘‘ کا مظاہرہ دیکھتے رہتے ہیں۔

قومی ترقی اور عوام کی زندگی میں بہتری اور آسانی کے حوالے سے البتہ اس فیصلے کو سنہری فیصلہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ سرکاری دفاتر اور عدالتوں میں انگریزی زبان کے نفاذ نے قومی ترقی کو جیسے جکڑ کر رکھا ہوا ہے کیونکہ نوے پچانوے فیصد آبادی کو روزمرہ سرکاری اور عدالتی امور کیلئے ایک ایسی بدیسی زبان سے واسطہ ہے جسے وہ نہ پڑھ سکتے ہیں، نہ لکھ سکتے ہیں ، نہ سمجھ سکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اگر یہ کہا جائے کہ انگریزی زبان کو مسلط کئے رکھنے کی ضد نے نوے پچانوے فیصد پاکستانیوں کی روز مرہ زندگی کو اجیرن کر رکھا ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ اگر سارے قوانین معیاری اور آسان فہم اردو میں ترجمہ کردئیے جائیں، انگریزی زبان میں درج قوانین کو ختم کر دیا جائے اور ساری دفتری اور عدالتی کارروائی اردو زبان میں لازم کر دی جائے تو عوامی ترقی کا انقلاب برپا ہو سکتا ہے ۔

اردو وہ واحد زبان ہے جو پاکستان کے کونے کونے میں پڑھی ، لکھی اور سمجھی جاتی ہے۔ حتی کہ ان پڑھ شخص بھی اردو زبان سمجھ اور بول سکتاہے۔ آپ خیبر سے لیکر کراچی تک اور گلگت بلتستان سے لیکر گوادر تک کہیں بھی چلے جائیں قومی زبان کو ہر جگہ باہمی رابطے کی زبان  کا درجہ حاصل ہے۔ ہو سکتا ہے کہ جب آپ یہ کالم پڑھ رہے ہوں جسٹس خواجہ سابق چیف جسٹس بن چکے ہوں لیکن قومی احیاء کی بنیاد رکھنے والے اس فیصلے کی وجہ سے اپنی قوم سے محبت کرنے والوں کو ان کی خدمات ہمیشہ یاد رہیں گی۔

عدنان رندھاوا 

بہ شکریہ روزنامہ جنگ 

No comments:

Powered by Blogger.