Header Ads

Breaking News
recent

کالاباغ ڈیم کے دُشمن پاکستان کے دُشمن

مولانا جلال الدین رومیؒ اپنے شاگردوں کو روزمرہ معمولات سے ہٹ کر ایک کھیت میں لے گئے، مولانا کا پڑھانے اور پریکٹیکل کرانے کا اپنا ہی انداز تھا،وہ زندہ مقالوں کے ذریعے بغیر مارپیٹ اور ڈانٹ ڈپٹ کے بڑے احسن طریقے سے بڑی سے بڑی اور باریک سے باریک بات سمجھا دیا کرتے تھے، اسی نقطہ نظر کے تحت مولانا صاحب اپنے شاگردوں کو کھیت میں لائے تھے، اس کھیت میں ایک نادان کسان پاگلوں کی طرح زمین کھودنے میں مصروف تھا، دراصل وہ کسان اپنے لیے ایک کنواں کھودنا چاہتا تھا 

مگر جب تھوڑی گہرائی تک زمین کھودنے سے پانی نہ نکلتا تو وہ اس جگہ کو چھوڑ کردوسری جگہ زمین کھودنے میں جُت جاتا، اور اس طرح وہ چار پانچ جگہوں سے زمین کھود چکا تھا مگر کچھ حاصل نہ ہوا،مولانا جلال الدین رومی ؒ نے اپنے شاگردوں سے پوچھا:کیا تم کچھ سمجھ سکتے ہو؟شاگردوں سے کچھ جواب نہ بن پایا، پھر مولانارومی شاگردوں کی جانب دیکھ کریوں گویا ہوئے’’اگر یہ آدمی اپنی پوری طاقت،ذہانت اور وقت صرف ایک ہی کنواں کھودنے میں صرف کرتاتو اب تک کافی گہرائی میں جاکراسے اپنی محنت کا پھل مل چکا ہوتا۔یعنی اب تک وہ پانی حاصل کرچکا ہوتا، لیکن یہ اس قدرمحنت کرکے بھی اپنا مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہا،وقت الگ رائیگاں ہوا‘‘۔

 پھر مولانا رومی ؒ نے اپنے شاگردوں سے پوچھا: ’’کیا تم بھی اس کسان کی پیروی کرنا چاہو گے، کبھی ایک راستے پر تو کبھی دوسرے راستے پر؟کبھی کسی کی بات مانو گے اور کبھی کسی کی؟اس طرح تم شاید بہت علم تو حاصل کرلوگے مگر وہ علم بے کا رہوگا‘‘۔ایک چھوٹے سے پریکٹیکل سے مولانا رومیؒ نے اپنے شاگردوں کو بہت بڑاسبق دے دیا، آج میں اس حکایت کوکالاباغ ڈیم سے منسوب کرنا چاہتا ہوں آج کالا باغ ڈیم ملکی ترقی کے لیے ناگزیربن چکا ہے،فرینڈ زآف پاکستان ڈیموکریٹک پاکستان  نے کچھ عرصہ پہلے کالا باغ ڈیم پراجیکٹ کا ترجیحی بنیادوں پر ازسرنوجائزہ لینے کی تجویز دِی تھی،جو ردکرکے ردی کی ٹوکری میں پھینک دی گئی
 پچھلے 50برسوں میں ہماری جمہوری اورآمر حکومتوں نے آبی منصوبوں کے لیے دو چارچھوٹے چھوٹے ڈیمز بنائے ہیں ،جب کہ بھارت ان برسوں کے دوران پچیس سوسے زائدچھوٹے چھوٹے ڈیم بنا چکا ہے اوراب مزید 149کی تیزرفتار سے ڈیم پرڈیم بنائے جارہا ہے ، آبی جارحیت کا ارتکاب کرتے ہوئے وطن عزیز کے حصے کا پانی روک کر ہمارے دریاؤں پر42ڈیم خلافِ معاہدہ بھی بنا رہا ہے، آج وطن عزیز کو،کالاباغ ڈیم کی اشد ضرورت ہے اور ہم کسان کی طرح اپنے کھیت جگہ جگہ کھود کر اپنا وقت اور قوم کے خون پسینے کی کمائی کو ضائع کررہے ہیں 

حالیہ مون سون کی بارشوں اوربرفانی تودوں کے پگھلنے سے وطن عزیز کے منی سوئیٹرزلینڈز چترال،اسکردواورگلگت کے لاکھوں لوگ سیلاب سے شدیدمتاثر ہوئے ہیں اورہزاروں بستیاں سیلابی پانی میں غرقاب ہیں ، چھوٹے بڑے برفیلے پہاڑوں کے پگھلنے کے نتیجے میں حاصل شدہ صاف شفاف پانی اورمون سون کی بارشوں سے لاکھوں کیوسک پانی سیلاب کی شکل اختیارکرکے لوگوں کونیست نابود کرتا ہوا ان کے گھروں کوصفحہ ہستی سے مٹاتا ہوا سمندر کے پیٹ میں اتر جاتا ہے 

اگرکالا باغ ڈیم بن گیا ہوتا تو یہی لاکھوں کیوسک پانی ہم کالا باغ ڈیم کے پیٹ میں ذخیرہ کرلیتے،جس سے لاکھوں ایکڑ رقبہ سرسبزوشاداب ہوتا،زرعی پیداوارمیں اضافہ ہوتااور ریگستان بہارِپاکستان بن جاتے اور آج اسی کالا باغ ڈیم سے ہمیں4500میگا واٹ کے قریب بجلی ایک روپے فی یونٹ سے بھی کم نرخ پرمہیا ہورہی ہوتی جب کہ کالاباغ ڈیم نہ بننے کی وجہ سے اب ہمیں بجلی پندرہ روپے فی یونٹ پڑرہی ہے۔ یہ ظلم نہیں تواورکیا ہے؟کالاباغ ڈیم کا 70فیصد کام مکمل ہوچکا ہے موجودہ حکومت اگر دل بڑا کرے تو یہ زیر تعمیرڈیم محض تین سے چار سال کی مدت میں مکمل ہوسکتا ہے اس کے برعکس دیامیربھاشاڈیم کو مکمل کرنے میں کم ازکم پندرہ سال تو کہیں نہیں گئے،ہمارے سیاسی پنڈتوں نے جان بوجھ کر ابھی تک کالا باغ ڈیم کو سیاست کی سُولی پرلٹکایا ہوا ہے

 پاکستان کی بقا ء اورسلامتی کا انحصار کالا باغ ڈیم کی تعمیراورکشمیر سے آنے والے دریاؤں پر ہے لیکن بدقسمتی سے ان دریاؤں پربھارت کا قبضہ ہے ستم ظریفی یہ کہ جب دریاؤں میں پانی کم ہوجاتا ہے تو بھارت جان بوجھ کر ہمارا پانی روک لیتا ہے اور جب سیلابوں کا موسم ہوتو پانی چھوڑ دیتا ہے، اس وقت بھارت میں مون سون زوروں پر ہے اوربھارت کے پاکستانی دریاؤں میں پانی چھوڑنے کے معاملے کو دیکھا جارہا ہے،بھارت نے پانی چھوڑدیا تو بڑے پیمانے پر تباہی کا خطرہ ہے ، رہی سہی کسر سابق پی پی پی حکومت نے کالاباغ ڈیم کی تعمیر اور مسئلہ کشمیر کو ناقابل عمل قرار دے کر پوری کردی، یہ تلخ سچ پیش نظر رہے کہ کشمیر سے نکلنے والے تمام دریا بھارت کے قبضے میں ہیں 

اس کے باوجود بھارت نواز پارٹی اے این پی کے مٹھی بھر شرپسند عناصر کالا باغ ڈیم کے شدید مخالف ہیں ، جب کہ واپڈا کے سابق چیئر مین اور صوبہ سرحدکے سابق وزیر اعلیٰ پختون انجینئر شمس الملک نے کالاباغ ڈیم کے مخالفین کے اعتراضات پراس ڈیم کی افادیت واہمیت کے بارے میں مدلل دلائل سے ثابت بھی کیا کہ اس ڈیم کی تعمیر سے ملک میں پانی کی وافر مقدار میسر ہو گی اورسستی ترین بجلی پیداہوگی اور نوشہر ہ سمیت صوبہ سرحد کے کسی بھی شہر کو پانی میں ڈوبنے کا کوئی خطرہ نہیں کیونکہ نوشہر ہ، کالا باغ ڈیم سے تقریباً165فٹ کی بلندی پر قائم ہے، پھر انہوں نے تربیلا اور منگلا ڈیمز کی مثالیں بھی دیں کہ تربیلا سے کبھی کوہستان میں اور منگلا سے کبھی میرپورمیں سیلاب نہیں آیا

لیکن یہ باتیں کالاباغ ڈیم کے کٹرمخالفین’’اے این پی‘‘ کے سمجھنے کی ہیں جو وہ جان بوجھ کر سمجھنا نہیں چاہتے ،دلیل تو وہاں کارگر ہوتی ہے جہاں دل کے نہاں خانوں میں اخلاص کی رمق ہو، جب اپنے ہی ملک کے لوگ آستین کے سانپ بن جائیں تو پھر بھارتی دشمنوں کو وطن عزیز پرحملے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔؟، دراصل کالاباغ ڈیم کے دُشمن ہی پاکستان کے دُشمن ہیں، اقتدار کے بھوکوں نے دو دو بار کالا باغ ڈیم بنانے اور مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن دونوں مسئلے جُوں کے تُوں ہیں۔ 

عالمی بینک نے پاکستان کو سیلاب سے بچانے کے لیے رپورٹ پیش کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ سیلاب سے بچنا ہے تودریاؤں پر19ڈیم تعمیر کیے جائیں۔ سچ تو یہ ہے اگرچھوٹے یا بڑے ڈیمز ملکی ضروریات کے مطابق بنا دیے جاتے تو برفانی تودوں کے پگھلنے سے پیدا ہونے والے تندروپانی اوربارشوں کے سیلابی ریلے زحمت کے بجائے رحمت کا روپ دھارسکتے تھے۔اب موجوہ حکومت کو چا ہئے کہ وہ ضربِ عضب کے فیصلے کی طرح اپنے پانچ سالہ دورِ مدّ ت میں ہی کالا باغ ڈیم مکمل کر کے عوام پر احسان عظیم فرما کرثوابِ حاصل کر لے۔
 
رانا عامر جاوید


No comments:

Powered by Blogger.