Header Ads

Breaking News
recent

عافیہ :بھولی داستان ، بکھرا خیال


ڈاکٹر عافیہ بیتی، وطنی حمعیت ، ملی غیرت، قومی شرم وحیاء کے منہ پر ایک زناٹے دار تھپڑ۔ اے اہل وطن! ذرا اپنے ذہنوں میں تصویر بنائیں کہ بدقسمت عافیہ  مملکت ِ خدادادِ اسلامیہ کے علاوہ کسی بھی اور ملک کی شہری ہوتیں ،کیا ممکن تھا بغیر قصور، بے باک جھوٹ کے عوض 86 سال کے لئے جانوروں کے کوڑا دان میں بے یارومددگار پھینک دی جاتی۔ کیا صومالیہ سمیت دنیا کا کوئی ملک بھی ہوتا، ممکن تھا؟ ایسی بے حسی مملکت خداداد اسلامیہ میں ہی سمو سکتی تھی ۔ 

مجال ہے ہزیمت، ملال، رنج کا شائبہ بھی چہرے پر، پسینے کی بوند کا ایک قطرہ بھی ماتھے پر نمایاں۔پیرومرشد نے ملت کا مقدر افراد کے کردار سے نتھی رکھا۔ جہاں احساس کا فقدان قومی طرہ امتیاز، وہاں ملت کا مقدر، ذلت، خواری ، رسوائی ہی ۔ چشم تصور میں وزیراعظم پاکستان اپنی لخت جگر کو لاوارث عافیہ کی جگہ دیکھیں؟تنگی اور ننگی کاابنوہ نظر آئے گا۔ 

دانشمند ، ’’غیرت مند‘‘ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی چیک لسٹ پھرولیں، بدنصیب عافیہ کا نقشہ آنکھوں کے کسی زاویہ میں نہ ہوگا۔ اے خوابیدہ قوم ! تسلی رکھو، عافیہ قومی حمعیت کا نقش سیاہ، معدودے چند کے لئے سوہان روح ضرور، بھولی بسری داستان ہی سمجھیں۔ عافیہ صدیقی اور قائدین کی بہنوں،بیٹیوں کے درمیان حد فاصل ہے ہی بہت زیادہ ۔ وہ ایک دین دار، راست باز، صاحبہ ایمان، عالمہ، غیرت مند، پرعزم،ثابت قدم، ہدایت یافتہ، بھلا ایسے کردار کاجھوٹی ، بددیانت، مفادپرست ، چورقوم کے ہجوم میں واپس آنا کیونکر ممکن؟
’’اے زر تو خدا نیست، ولیکن بخدا۔ ستار العیوبی ‘‘ وقاضی الحاجاتی (اے اقتدار اور دولت تو خدا تو نہیں ہے لیکن خدا کی قسم کے عیبوں کو چھپانے والی اور حاجتوں کو پورا کرنے والی ضرور ہے)‘‘۔ ملت مرحومہ کا نظامِ ایمان ، دیانت، امانت، سچائی، غیرت ، طاق نسیاںپر دھر دیا گیا ہے۔

پچھلے دنوں نیوز ویک کے کالمسٹ بے نظیر شاہ کا الجزیرہ کے لئے عیدسے دو دن پہلے عافیہ کے بارے میں بھیجی گئی روئداد نے دل دہلا دیا۔ معاندانہ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیاگیا کہ ’’ اذیت، تشدد اور بے عزتی جان لیوا ثابت ہوچکی۔ خبر نے عید پژمردہ رکھی۔ تکلیف ، غم، دکھ، بے بسی نے نڈھال رکھا۔ آہنی اعصاب کی مالک ڈاکٹر فوزیہ کا شکریہ کہ بروقت تسلی کرائی اور ڈاکٹر عافیہ کے وکیل اسٹیفین ڈائون کا بے نظیر شاہ کو آڑے ہاتھوں لینے کی تفصیل بھجوا دی۔ 20 کروڑ لاشوں کی ملت میں شاید واحد زندہ وتابندہ ڈاکٹر عافیہ ہی تو، اللہ کا شکر کہ بھیڑیوں کے نرغے میں پابند سلاسل عافیہ ، جذبہ ایمانی سے مردانہ وار نامساعد حالات میں بھی سینہ سپر ہے۔
ایک بردہ فروش حکمران، بزدل کمانڈوصدرچند ٹکوں کے عوض قوم کی عزت، آبرو، وقار، آزادی، خودمختاری تسلسل سے بیچتا رہا۔ کشمیر، نیو کلیئر اثاثے بھی اپنی دکان کی تزئین وآسائش کی نذر کر دئیے۔ آج بھی اس کی بے شرمی ساتواں آسماں چھونے کو، سینہ تان کر ملکی سیاست میں اپنا رول دیکھ رہا ہے۔ ایک عرصے سے گم شدہ افراد عسکری اداروں اور سپریم کورٹ کے درمیان وجہ نزاع ہیں۔ 

میرا ایک عد د بھانجا ڈاکٹر علاء الدین بھی بھینٹ چڑھ چکا ہے۔ پچھلے کئی سال سے والدین کی ایک ہی التجا کہ جو سزا دینی ہے ، کر گزریں۔ خدارا صرف جرم سے آگاہ کر دیں۔آج دکھی والدین کی آہ وبکا آسمانوں کو لرزائے ہوئے ہے، ذہنی توازن کھو بیٹھے ہیں۔ یہی بتا دیا جائے کہ کہیں اکثریت افراد امریکی فنڈ کی وصول کے عوض گنتی پوری کرنے کے چکر میں تو نہیں پکڑے گئے۔ گوانتاناموبے کے عقوبت خانوں میں پہنچائے گئے ساڑھے چھ سو کے لگ بھگ دنیا کے نامی گرامی، چوٹی کے دہشت گرد کو کئی سالوں کی پُرمشقت اورپُرتشدد تفتیش کے بعد، بے گناہ قرار پائے۔
پاکستان کے ایک ہزار مسنگ پرسن کا گناہ ڈھونڈنے میں شاید دہائیاں درکار ہوں۔رہنما اصول ایک ہی دیکھنے میں آیا ہے کہ رہائی کے بعد یا لاش ملتی ہے ، یا نکلتے ہی مار دیا جاتا ہے یا نکلتے ہی مار دیا جائے گا یا ذہنی طور پر مکمل مفلوج تاکہ مدعی نہ مدعا۔

ڈاکٹر عافیہ کی داستان مختلف نہیں۔ دن دیہاڑے کراچی سے تین معصوم بچوں سمیت اغوا کیاگیا۔ امریکی دیوتائوں کے گھمنڈ اور زعم کے آگے ایسے سوال پوچھنے کی اجازت بھی کہ’’ ڈاکٹر عافیہ کا جرم بتا دیں؟‘‘ 2003ء میں دن دیہاڑے اغوا ہوئی، ارباب اقتدار کی طرف سے فخریہ اعتراف ہوا، کہ ہم نے گرفتار کیا، پھرکچھ عرصہ پہلو تہی بالآخر انکاری۔ ایون ریڈلی نے 5 سال بعد پہلی بار اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے ذریعہ انکشاف کیا کہ ایک پاکستانی ، منحنی ، کمزور، نحیف جسم کی عافیہ جنگلی جانوروں کی بھینٹ ، عذاب اور تشدد کی زد میں۔

عید سے دودن پہلے ،نیوز ویک کے رپورٹر بے نظیر شاہ کی الجزیرہ کے لئے رپورٹ اور اس کے اگلے دن عافیہ کے وکیل اسٹیفن ڈائونز کے جواب نے زخم ہرے کر دئیے۔

عافیہ کی گمشدگی پر پاکستانی حکومت نے ایک جست میں بنفس نفیس فرما دیا تھا کہ ہم ہی نے عافیہ کو گرفتار کیا، بعد ازاں اُسی جست میں انکار فرمانے میں عار محسوس نہ کی ۔ سابق صدر نے اپنی کتاب میں بیانگ دہل اعتراف کیا کہ ’’اپنی قوم کو ڈالروں کے عوض بیچا‘‘۔ امریکی اٹارنی جنرل نے عدالت میں یہی کچھ فرمایا کہ ’’ پاکستانی قوم چند ہزار ڈالرز کے عوض اپنی سگی ماں بھی بیچ سکتے ہیں‘‘، عافیہ تو پھر لاوارث، اس کا بیچنا بنتا تھا۔ خاندان کی آہ وبکا پر کوئی کان کیوں دھرتا؟ بظاہر مزاحیہ، عملاََ رعونت کہ 5سال بعد ایک دن اچانک غزنی کے علاقے میں افغان سیکورٹی فورسز نے ایک مفلوک الحال، بدحال خاتون گرفتار کی جو بہت بڑے گیم پلان سمیت خودکش حملہ کرنے کے لئے پرتول چکی تھی۔جانور کہانی کے سقم کو دور کرنے کے مکلف تو تھے نہیں۔ تین بچے جوساتھ اغواء ہوئے، اس وقت تک کہانی میں موجود نہ ان کا اتہ پتہ۔

دو بچے بعد ازاں افغان حکومت نے پاکستان کے حوالے کئے (شرمناک) ، یعنی بچے 8 سال سے افغان حکومت کے پاس، بقول شخصے عافیہ اچانک ٹپک پڑی۔ جبکہ ایک چند سالہ معصوم نے اپنی جان، کن حالات میں جان آفریں کے سپرد کی، اس کا اللہ ہی جانتا ہے ۔ غزنی میں اڑن طشتری کے ذریعے پہنچنے والی عافیہ کو امریکیوں کے جب حوالے کیا گیا تو ایک نئی مزاحیہ ،شرمناک کہانی گھڑی گئی ۔ 40 کلو وزنی عافیہ نے 6 ایکسٹرا لارج  جانوروں سے ایک رائفل چھینی اور ان کو قتل کرنے کی کوشش کی۔ اس کوشش میں جوفائز چلا وہ عافیہ کے ہی جسم کو درمیان سے چیرگیا۔نئی کہانی کے ساتھ جب ننگ انسانیت ، ننگ انصاف ایک بے شرم امریکی عدالت (جس کی مذمت ساری دنیا کی حقوق انسانی انجمنوں نے کی) میں پیش ہوئی تو جرم میں القاعدہ کا نام نہ خودکش حملے اورنہ ہی دہشت گرد سرگرمیوں کا ذکر۔

الزام ایک ہی کہ ’’مداخلت کارسرکار‘‘ ، امریکی فوجیوں کو قتل کرنے کی کوشش جس کا کوئی زمینی ثبوت پیش کرنے کا تکلف ہوا نہیں۔ امریکہ کا نظام تو ہے ہی جھوٹ کا مرہون منت، وطن عزیز میں امریکی گماشتے (بے غیرت بریگیڈ) ، امریکی پروپیگنڈے کا ہراول دستہ کیوں بن گئے؟ امریکی شہریت سے لے کر اس کو کیمیائی سائنسدان ، القاعدہ لیڈی،عافیہ بارے ہر قسم کی لغو اور بکواس سکہ رائج الوقت رہی۔ اب توہمارے جیسے لکھنے والے بھی تھک چکے ہیں، واپسی کا مطالبہ تونقارخانے میں طوطی کی آوازسے بھی کم۔ حکمرانو !اب التجا ایک ہی، قوی امکان یہ التجاء بھی صدا بصحرا ہی رہے گی ، ڈاکٹر عافیہ کا اصل جرم وزیر داخلہ اسی طرح پریس کانفرنس میں بتائیں جس طرح آجکل الطاف حسین کے جرائم اجاگر کرکے اپنا سکہ جما رہے ہیں۔جبکہ وزیر موصوف پچھلے 35 سالوں سے ایم کیو ایم کی کارگزاری سے کماحقہ آگاہ ہیں۔

الطاف حسین کے ذکر پر ضمناً عرض ہے۔ کہ جو کچھ ان کے بارے میں فرمایا جا رہا ہے ، سب سچ، پوری قوم ایم کیو ایم کے خلاف الزامات کو من وعن سچ سمجھتی ہے۔

مگر جس طریقے سے اس معاملے کو ہینڈل کیا جا رہا ہے وہ خطرناک بھی اور نااہلی بھی۔دودھ کے جلے کو لسی پھونک پھونک کر ہی پینی ہے۔ یادش بخیر،شیخ مجیب الرحمن کا بھارتی ایجنٹ ہونا ثابت تھا۔ اگر تلہ سازش کیس سو فیصد درست۔ ڈاکٹر سجاد حسین  کی علمی تحقیق ،بھارتی صحافی شرمیلا بوس  کی تحقیقاتی روئداد اور سب سے بڑھ کر کرنل شریف الحق دالیم (بھارتی کیمپوں میں تربیت لینے والا کردار ) کی سلطانی گواہی جبکہ رہی سہی کسرخود بھارتی وزیراعظم کا ڈھاکہ میں اعتراف جرم سب کچھ یہی کچھ ثبت کر گیا۔

 نتیجہ کیا نکلا، مجیب الرحمن جیل میں بیٹھ کربھی پاکستان توڑ گیا ۔ ’’باعزت ‘‘رہا ہوا اس وقت کے حکمرانوں سے تسلیم بھی کروالیا۔ وجہ صرف اتنی کہ مجیب الرحمن کی سیاسی جڑیں بنگالی عوام الناس میں پنپ چکی تھیں ۔ تاریخ کا سبق ایک ہی، مہم جوئی کی بجائے سیاسی طریقے ہی سے اس جماعت کے خلاف کارروائی کرنا ملکی مفاد میں۔ وگرنہ ساری تدبیروں کا الٹا بیٹھنا، دیوار پر کنندہ ہے۔ اے میرے وطن کے سجیلے رہنمائو، نوشتہ دیوار پڑھ لو۔ اس ملک کو چوم چوم کر ہلاک نہ کرو۔

حفیظ اللہ نیازی
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ

No comments:

Powered by Blogger.