Header Ads

Breaking News
recent

ہندوستان کے ’’پاکستان فوبیا‘‘ کا ایک اور ثبوت

بہتر مستقبل کی امید دلانے والے ’’چین پاکستان اکنامکس کاریڈور‘‘پر کل جماعتی کانفرنس کے مثبت اور خوش آئند فیصلوں کے باوصف اس راہداری کی راہ میں حائل کچھ رکاوٹوں اور سپیڈ بریکرز کے اندیشے موجود ہیں جو اندرونی اور بیرونی بھی ہوسکتے ہیں چنانچہ انگریزی محاورے کے مطابق ناگزیر ہوگا کہ ہم بہترین کی امید رکھنے کے ساتھ بدترین کے مقابلے کے لئے بھی تیاررہنے کی کوشش کریں۔

سب سے زیادہ بیرونی پریشر کے اندیشے حسب سابق یا حسب معمول ہندوستان کی موجودہ ہندو بنیادپرست مودی حکومت کی جانب سے ابھرتے دکھائی دیتے ہیں اگرچہ ہندوستان کے فارن آفس کی زبان بولنے والے صحافی کہتے ہیں کہ دہلی کے حکمرانوں کا اسلام آباد سے کوئی سروکار نہیں ہے دہلی واشنگٹن ، ماسکو، برلن، لندن اور پیرس کی زبان اور لہجے میں بات کرنا پسند کرتا ہے مگر عملی طور پر ہندوستان ’’پاکستان فوبیا‘‘ سے باہر نکلنے یا نجات پانے کی کوشش بھی نہیں کرتا۔

تازہ ترین ثبوت یہ ہے کہ چین پاکستان راہداری کے منصوبے کے تحت گوادر کی بندرگاہ کی تعمیری سرگرمیوں کے بارے میں باتیں سن کر ہندوستان کی مودی حکومت کو ایران کے ساتھ بارہ سال پہلے کا ایک MOU یاد آگیاہے اور اس نے اس ایم او یو کو باقاعدہ معاہدے کی شکل دینے کا فیصلہ کیا کہ جس کے تحت CHABAHAR PORT تعمیر کیا جائے گا جس میں زیادہ سے زیادہ بیس ہزار ٹن وزنی جہاز لنگر انداز ہوسکیں گے جبکہ گوادر جیسی قدرتی بندرگاہ دو لاکھ ٹن وزنی سپر ٹینکرز سمندری جہازو ں کا لنگر انداز ہونا آسانی سے قبول کرسکے گی۔ اس کے علاوہ گوادر خلیج فارس کے بالکل سامنے یعنی دہانے پر وجود رکھنے والی بندرگاہ ہوگی جو تیل اور سمندری تجارتی جہازوں کی شاہراہ پر ہونے کی وجہ سے بہت زیادہ اہمیت کی حامل بن جاتی ہے۔ CHABAGHAR PORT کسی بھی حالت میں گوادرکی بندرگاہ کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔

گوادر کی بندرگاہ کے ذریعے چین کی ضرورت کا خام تیل آسانی سے پمپ کیا جاسکتا ہے اورگوادر کے قریب ہی تیل کی صفائی کرنے والے کارخانے اس خام تیل کو قابل استعمال ایندھن میں تبدیل کرسکتے ہیں اور اس اندازے کو تقویت ملتی ہے کہ چین پاکستان اکنامکس کاریڈور پر اٹھنے والے اخراجات کے علاوہ اس کے ذریعے کم از کم ساٹھ ارب ڈالروں کااضافی کاروباربھی چمکے گا۔ سڑکوں کے علاوہ ریلوے لائن اورپائپ لائن کی تعمیر بھی لاکھوں کی تعداد میں افرادی قوت کی آمدنی میں اضافے کا ذریعہ بنے گی۔ خام تیل کی صفائی کے لئے کارخانے چلانے کے لئے تربیت یافتہ کاریگروں کی ضرورت اور افرادی قوت کو رہائشی سہولتیں فراہم کرنے ، ان کے بچوں کی تعلیم کے وسائل کی فراہمی، اس خطے کے تمام ملکوں کے محنت کشوں کے لئے نعمت قرارپائے گی۔

ان ضروریات کی فراہمی کے علاوہ دیگربہت سی ضروریات کی فراہمی بھی سوچی جاسکتی ہے۔ کہنے کی ضرورت نہیں کہ روزگار کے وسیلوں میں اضافے سے چین کے بعد سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ملک پاکستان اور اس کے عوام ہوں گے۔ پاکستان سے زیادہ تلخ تجربہ اور کسی ملک کا نہیں ہو سکتا کہ پڑوس ملک میں ہونے والی تباہی اور بربادی اپنے ملک کو کسی مشکل میں ڈال سکتی ہے اور پڑوس میں مثبت ترقی ہو رہی ہے کہ اس کے مثبت اثرات پڑوسی ملک میں جاسکتے ہیں۔ اسی موضوع پر شاعر نے کہا تھا کہ:

ایک شجر ایسا محبت کا لگایا جائے
جس کا ہمسائے کے آنگن میں بھی سایہ جائے

بتایا گیا ہے کہ چین اور پاکستان کی باہمی دوستی اور خوشگوار تعلقات کے سلسلے میں ایک صداقت کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ ایک معاشرتی سروے سے پتہ چلا کہ باہر کے ملکوں میں جھانکنے کی خواہش رکھنے والے پاکستانیوں کی 78 فیصد آبادی چین سے اور وہاں کے لوگوں سے محبت کے جذبات رکھتی ہے جبکہ چین میں اپنے داخلی مسائل حل کرنے میں زیادہ دلچسپی لینے والے چینی عوام کے صرف 30 فیصد لوگ پاکستان اور پاکستانی عوام سے محبت کے جذبات رکھتے ہیں۔ امید کی جاسکتی ہے کہ چین پاکستان اکنامکس کاریڈور کے تعمیراتی مراحل سے گزرنےکے دوران چینی اور پاکستانی عوام کے درمیان بہتر تعلقات اور دوستی کے جذبات پیدا ہوں گے جس کی خوشبوپوری دنیا میں پھیلے گی۔

منو بھائی
بہ شکریہ روزنامہ جنگ

No comments:

Powered by Blogger.