Header Ads

Breaking News
recent

بجٹ میں قومی دولت کی غیر منصفانہ تقسیم

قومی بجٹ قومی دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کی ایسی دستاویز ہے جس پر عوام کے منتخب ’’نمائندے‘‘ نمائشی بحث کے بعد پارلیمانی مہر ثبت کردیتے ہیں۔ پاکستان کے طاقتور ادارے اور طبقے قومی دولت آپس میں تقسیم کرلیتے ہیں اور کمزور، غیر منظم اور منقسم عوام اپنے حق سے محروم رہ جاتے ہیں۔ برسوں سے چونکہ روایتی بجٹ پیش کیے جارہے ہیں جو محض خوب صورت الفاظ میں اعداد و شمار کا گورکھ دھندہ ہوتے ہیں اس لیے پاکستان کے عوام قومی بجٹ سے لاتعلق ہوچکے ہیں۔ قومی بجٹ سے پہلے سالانہ اکنامک سروے پیش کیا جاتا ہے جو گزشتہ مالی سال کے بجٹ کا جائزہ ہوتا ہے۔
 اکنامک سروے کے مطابق حکومت اپنے بجٹ اہداف پورے نہیں کرسکی۔ گروتھ ریٹ کا ہدف 5.1 تھا جو 4.24 رہا۔ زراعت کا ہدف 3.3 تھا جو 2.88 رہا۔ صنعتی ترقی کا ہدف 6.8 مقرر کیا گیا جو 3.62 رہا۔ سروسز کا ہدف 5.2 تھا جو 4.95رہا۔ وزیر خزانہ اسحق ڈار نے تسلیم کیا کہ گزشتہ سال بے روزگاری میں 15لاکھ افراد کا اضافہ ہوا۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اگلے مالی سال کے دوران روزگار کے 25 لاکھ مواقع پیدا کیے جائیں گے۔ پاکستان میں ترقی و خوشحالی آئے گی۔ ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف جو قوموں کی آزادی سلب کرنے کے سامراجی ہتھیار ہیں پاکستان کے قومی بجٹ کی تعریف کررہے ہیں جبکہ پاکستان کے سیاسی رہنما آصف علی زرداری، عمران خان، سراج الحق، الطاف حسین اس بجٹ کو عوام دشمن اور حکمران اشرافیہ کا بجٹ قراردے رہے ہیں۔

 حکمران معاشی ترقی کے بلند بانگ دعوے تو کررہے ہیں مگر بولتے حقائق یہ ہیں کہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت قوم پر 6.7بلین ڈالر قرضوں کا بوجھ ڈال چکی ہے۔ اگر حکومت کو سعودی عرب سے 1.5 بلین ڈالر کا گفٹ نہ ملتا، بیرون ملکوں میں مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات میں اضافہ نہ ہوتا اور حکومت 2بلین ڈالر کے یورو بانڈز فروخت نہ کرتی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمت نہ گرتی تو زرمبادلہ کے ذخائر 19ارب ڈالر کیسے ہوسکتے تھے۔ جس کا حکومت کریڈٹ لینے کی کوشش کررہی ہے۔ اصل ذخائر وہ ہوتے ہیں جو صنعت، زراعت اور برآمدات سے کمائے جاتے ہیں۔

مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے تیسرا بجٹ پیش کیا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ گلوبل رینکنگ میں معاشی ترقی کے حوالے سے پاکستان 125نمبر پر ہے جبکہ بھارت 69نمبر پر ہے۔ حکومتی اخراجات ضائع کرنے کے حوالے سے پاکستان کا نمبر 130جبکہ بھارت 49نمبر کی پوزیشن پر ہے۔ شفافیت کے لحاظ سے بھارت کا نمبر 57اور پاکستان کا نمبر 118ہے۔ کرپشن کے حوالے سے بھی پاکستان بھارت سے بہت آگے 112نمبر پر ہے جبکہ بھارت 65نمبر پر ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری جنرل پرویز مشرف کے دور میں 8.4بلین ڈالر تھی جو مسلم لیگ(ن) کے دور میں ایک بلین ڈالر تک رہ گئی۔ برآمدات کم ہوگئی ہیں۔ شرح خواندگی اور آبادی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ آلودہ اور مضر صحت پانی پینے سے ستر لاکھ افراد ہیپاٹائٹس میں مبتلا ہیں جبکہ دو لاکھ بچے ہر سال پانی کی بیماریوں سے موت کی وادی میں چلے جاتے ہیں۔ دہشت گردی کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ پولیس شہریوں کو کھلے عام قتل کررہی ہے۔ بھارت کھلم کھلا پاکستان کو سبق سکھانے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ ان حالات میں وفاقی وزیرخزانہ اسحق ڈار ترقی اور خوشحالی کے گیت گا کر قوم کو بے وقوف بنانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔بقول حبیب جالب:

پھول شاخوں پہ کھلنے لگے تم کہو
جام رندوں کو ملنے لگے تم کہو
اس کھلے جھوٹ کو ذہن کی لوٹ کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا

ڈاکٹر عشرت حسین درست کہتے ہیں کہ معاشی ترقی کا معیار یہ ہونا چاہیئے کہ کیا عام آدمی کو تعلیم، صحت، پانی اور سکیورٹی کی بہتر سہولیات فراہم ہوئی ہیں اور کیا عوام کو روزگار کے مواقع ملے ہیں۔ مسلم لیگ(ن) کا تیسرا قومی بجٹ 44کھرب 51ارب روپے کا ہے جبکہ بجٹ خسارہ 16کھرب 25ارب روپے کا ہے۔ خسارے کے بجٹ پر شرمندہ ہونے کی بجائے فخر کیا جارہا ہے۔ بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 1280 بلین روپے، دفاع کے لیے 781بلین روپے، سرکاری اخراجات کے لیے 326بلین روپے اور ترقیاتی بجٹ کے لیے 923بلین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ حکومت ٹیکس نیٹ میں اضافہ نہیں کرسکی۔ آج بھی صرف 8لاکھ افراد ٹیکس دیتے ہیں جبکہ حکومتی ریکارڈ کے مطابق تیس لاکھ افراد کو ٹیکس دینا چاہیئے۔ حکومت نے ان ڈائریکٹ ٹیکسوں میں اضافہ کیا ہے جبکہ ڈائریکٹ ٹیکسوں کے سلسلے میں اس کی کارکردگی افسوسناک ہے۔ 

حکومت اگر ٹیکس دہندہ افراد کی تعداد سولہ لاکھ کرلیتی تو اس کی بڑی کامیابی ہوتی۔ شریف برادران اعلیٰ منصوبہ ساز ہیں۔ انہوں نے لاہور میں میٹروبس کا منصوبہ انتخابات 2013ء سے چند ماہ قبل مکمل کرایا۔ راولپنڈی اسلام آباد میٹروبس کا افتتاح قومی بجٹ سے قبل کیا گیا ہے تاکہ مایوس کن بجٹ سے عوام کی توجہ ہٹائی جاسکے۔ پنجاب حکومت ملتان میں میٹروبس کے منصوبے پر کام کررہی ہے۔ خادم اعلیٰ میاں شہباز شریف کی خواہش ہے کہ راولپنڈی اسلام آباد میٹرو کو پاکستان میٹرو کا نام دیا جائے۔

 شاید اس طرح چھوٹے صوبوں میں احساس محرومی پیدا نہ ہو۔ جنرل ایوب خان نے ڈھاکہ کی ترقی کو نظر انداز کرکے اسلام آباد کو دنیا کا خوبصورت دارلخلافہ بنایا تھا جس سے بنگالیوں میں احساس محرومی پیدا ہوا تھا۔ پنجاب میں اربوں ڈالر کے میٹرو کے منصوبے بھی وفاق کو کمزور کرنے کا باعث بنیں گے کیونکہ کسی حوالے سے بھی میٹرومنصوبے قومی ترجیح نہیں تھے۔ پہلے سے موجود سڑکوں کے اوپر میٹروبس کے لیے نئی سڑکیں تعمیر کردی گئی ہیں جبکہ روٹی، روزگار، تعلیم، صحت، امن، صاف پانی جیسی بنیادی سہولتوں کو یکسر نظر انداز کردیا گیا ہے۔ مساوی معاشی ترقی سے ہی ریاست کو متحد رکھا جاسکتا ہے۔ مفکر پاکستان علامہ اقبال نے تو یہ پیغام دیا تھا۔

جہاں تازہ کی افکار تازہ سے ہے نمود
کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا

موضع مونگ ضلع منڈی بہائو الدین سے نوائے وقت کے غوروفکر کرنے والے دیرینہ قاری سلطان احمد مونگ نے ایک خط میں وزیراعظم سے اپیل کی ہے کہ ’’وہ پسماندہ مزدوروں، کسانوں، چھوٹے ملازمین، بے سہارہ خواتین اور بوڑھے پنشنروں کے موزوں ریلیف کے لیے بجٹ میں گنجائش پیدا کریں۔ ہر قسم کی آمدنی پر بلاتفریق ٹیکس نافذ کریں۔ ٹیکس جمع کرنیوالی مشینری کو صاف شفاف بنائیں۔ اس کے لیے اہل اور پر عزم افراد کو آگے لائیں۔ ہرادارے میں احتساب کا نظام تشکیل دیں تاکہ اداروں کی کارکردگی معیاری بن سکے اور پاکستان حقیقی معنوں میں ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوسکے‘‘۔ حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ سکیم اور بیت المال کے بجٹ میں اضافہ کرکے کسی قدر عوام دوستی کا ثبوت دیا ہے۔ ملازمین کی تنخواہوں میں 7.5فیصد کی بجائے 15فیصد اضافہ ہونا چاہیئے۔ محنت کشوں کی کم از کم تنخواہ پندرہ ہزار روپے ماہانہ کی جائے۔

اسحق ڈار عوام دوست بجٹ بنانے کے دعوے کررہے ہیں کیا وہ چھ افراد پر مشتمل ایک گھرانے جو دو کمروں پر مشتمل کرایے کے گھر میں رہتا ہے چودہ ہزار روپے ماہانہ میں بجٹ بنا کردکھا سکتے ہیں۔ جب تک امیر اور غریب کا غیر معمولی فرق کم نہیں ہوتا حکمران اشرافیہ وی آئی پی کلچر ختم نہیں کرتی اور بجٹ سازی میں عوام شریک نہیں ہوتے عوام دوست بجٹ پیش نہیں کیا جاسکتا غیر منصفانہ معاشی نظام کی وجہ سے قومی دولت کی لوٹ مار جاری رہے گی جس کا منطقی نتیجہ ایک دن خانہ جنگی یا خونی انقلاب کی صورت میں سامنے آئے گا۔

قیوم نظامی

No comments:

Powered by Blogger.