Header Ads

Breaking News
recent

تھر: نہ قدرت مہربان، نہ ریاست

پچھلے تین سال سے اچھڑو تھر میں قحط کا دور دورہ ہے، جس کی وجہ سے ہمارے 75 فیصد مویشی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اور اگر بارش نہ ہوئی، تو باقی بچے جانور بھی مر جائیں گے۔" ربالو گاؤں کے پریم سنگھ نے سانگھڑ ضلع کے دورے پر آئے ہوئے صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے جب یہ الفاظ کہے، تو ہم سب کے پاس کچھ مزید کہنے کے لیے الفاظ جیسے ختم سے ہوگئے۔ یہ دورہ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (پائلر) کی جانب سے کروایا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ "یہاں کے لوگ مویشیوں، مکئی، اور دیگر فصلوں پر انحصار کرتے ہیں، لیکن ان کے اگنے کے لیے بارش کی ضرورت ہوتی ہے۔
ربالو گاؤں ضلع سانگھڑ کے شہر کھپرو سے تین گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ یہاں پر ٹھاکر یا سودا برادری کے تقریباً سو سے زائد گھر ہیں، جہاں وہ 1947 میں اقلیت بن جانے سے پہلے سے رہ رہے ہیں۔
سانگھڑ سندھ کے وسط میں واقع ہے، اور اس کے مشرق میں ہندوستان ہے۔

اچھڑو تھر ایک ریگستانی علاقہ ہے، جہاں زندگی مکمل طور پر بارش پر منحصر ہے۔ بارشوں کا پانی تالابوں اور جھیلوں میں جمع کر کے رکھا جاتا ہے، اور کنویں بھی بھر جاتے ہیں، جس سے یہ اگلے ایک سال یا اگلی بارش تک لوگوں اور مویشیوں کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔
لیکن گذشتہ تین سالوں سے بارش نہ ہونے کی وجہ سے علاقے میں تباہ کن قحط نے جنم لیا ہے۔ پانی کی کمی اتنی شدید ہے کہ پورے پورے درخت اور جھاڑیاں، جنہیں چارے اور سبزیوں کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، غائب ہو چکے ہیں۔
'کھِپ ایک چھوٹا درخت ہوتا ہے، جس سے تھر کے روایتی گول چھت والے جھونپڑوں 'چوئنروں' کی چھت بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جس سے گرم ہوا ٹھنڈی ہوجاتی ہے۔ لیکن قحط کی وجہ سے زیادہ درخت غائب ہو چکے ہیں، اور جو باقی بچے ہیں، انہیں دھیان سے استعمال کرنا پڑتا ہے۔
ربالو سے دو کلومیٹر دور واقع گاؤں اسودر کے رہائشی امیر بخش ہنگورجو کا کہنا ہے کہ ان کے پاس 20 بکریاں اور 5 اونٹ ہوا کرتے تھے۔ اس میں سے 16 بکریاں اور 3 اونٹ کم خوراک کی وجہ سے ہلاک ہوگئے، جبکہ باقی اتنے کمزور ہوچکے ہیں کہ اگر انہیں بہت جلد بہت کم قیمت پر نہ بیچا گیا، تو وہ بھی جلد ہی ہلاک ہوجائیں گے۔

ربالو سے تین کلومیٹر دور واقع راناہو گاؤں کے رہائشی پدم سنگھ کا کہنا ہے کہ پانی کی شدید کمی نے خوراک کی کمی کو جنم دیا ہے، جبکہ مقامی لوگوں میں بیماریاں پھیل رہی ہیں۔
لیکن اگر یہ سب نامہربانیاں قدرت کی ہیں، تو اس میں ریاست کا قصور بھی کم نہیں ہے۔
مقامی لوگوں کے علاج کے لیے نہ کوئی ہسپتال ہیں، اور نہ ہی ڈسپنسریاں۔ کئی لوگ ہیپاٹائٹس بی، سی، اور ملیریا سے متاثر ہیں۔

مرد و خواتین اپنے دن کا زیادہ تر حصہ اپنے لیے اور اپنے مویشیوں کے لیے پانی کی تلاش میں گزارتے ہیں، لیکن پانی بہت ہی کم ہے، اور جو ہے وہ بھی آرسینک اور فلورائیڈ سے آلودہ ہے، جس کی وجہ سے لوگوں میں پانی کے استعمال سے بھی بیماریاں پھیلتی ہیں۔

مقامی لوگ حکومت کی امداد مانگتے مانگتے اب بیماریوں اور موت کی وجہ سے خاموش ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق کسی رکنِ پارلیمنٹ یا کسی وزیر نے ان کے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔
پریتم میگھر کا کہنا ہے کہ "ہم بے یار و مددگار ہیں، اور کوئی بھی ہماری مدد کے لیے نہیں آیا ہے۔

ایک اور مقامی فرد میر خان نے شکوہ کرتے ہوئے کہا "ہمارے بچے کبھی اسکول نہیں گئے، کیونکہ کوئی اسکول ہیں ہی نہیں۔ صرف ایک پرائمری اسکول ہے، جس میں ایک ٹیچر تعینات ہے۔ وہ بھی کبھی آتا ہے، اور کبھی نہیں۔ نہ ہی کوئی اسکول کی مناسب عمارت ہے، اور نہ ہی کوئی فرنیچر۔
لیکن جب ان سے پوچھا کہ اس سب کے باوجود وہ ہجرت کیوں نہیں کرجاتے، تو ان کا کہنا تھا کہ انہیں نہ دوسرے علاقوں کے بارے میں معلومات ہیں، اور نہ ہی کوئی ایسا ہنر ہے، جس سے وہ دیگر علاقوں میں کام کر کے روزی روٹی کا بندوبست کر سکیں۔

بھوک، بدحالی، اور موت، یہی اچھڑو تھر میں سب سے زیادہ ملنے والی چیز ہے۔ لیکن حکومت کو شاید اس کی کوئی فکر نہیں۔

لیکن اس علاقے میں جہاں نہ پانی ہے نہ سڑک، نہ بجلی ہے نہ خوراک، ایک موبائل فون کمپنی نے اپنا بوسٹر لگا رکھا ہے، اور صحرا میں شمسی توانائی سے چلنے والا ایک ایزی لوڈ پوائنٹ بھی جہاں پر لوگ شمسی توانائی سے اپنے فون چارج کرتے ہیں۔
اگر ٹیکنولاجی یہاں تک اپنا راستہ بنا سکتی ہے، تو مجھے یقین ہے کہ کھانا، پانی، اور صحت بھی، صرف اگر حکام چاہیں تو۔

صاحب خان

بشکریہ ڈان اردو

No comments:

Powered by Blogger.