Header Ads

Breaking News
recent

پاکستان کے اندرونی معاملات میں سلامتی کونسل کی مداخلت نامنظور

پاکستان کے اندرونی معاملات میں بھارت کی شہ پر سلامتی کونسل کی پابندیوں سے متعلق کمیٹی کی مداخلت اقوام متحدہ کے منشور کی شق 2 کی مکمل خلاف ورزی ہے جس میں عالمی ادارے کو کسی رکن ریاست کے خالصتاً اندرونی معاملات میں مداخلت کا اختیار نہیں ہے۔ تعجب ہے کہ اس واضح ممانعت کے باوجود مذکورہ کمیٹی کے سربراہ جم میلکے نے بھارت کے مندوب اشوک مکرجی کے کہنے پر پاکستان کی عدالت عالیہ کی جانب سے ذکی الرحمن لکھوی کی ضمانت پر رہائی کا معاملہ کمیٹی میں اٹھانے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔

اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ پاکستان کی عدالت اپنی صوابدید پر کسی ملزم کو ضمانت پر بھی رہا نہیں کر سکتی کیونکہ اس کا فیصلہ سلامتی کونسل کی ذیلی کمیٹی کی سفارش پر سلامتی کونسل کرے گی۔ یہ تو قانون کی الف ب جاننے والا بھی جانتا ہے کہ ضمانت پر رہائی ملزم کی بریت نہیں ہے کیونکہ اس کا فیصلہ تو عدالت کرے گی اور اگر مستغیث عدالیہ عالیہ کے فیصلے سے مطمئن نہیں ہے تو اس کے خلاف عدالت عظمیٰ میں اپیل دائر کر سکتا ہے۔ یہ مہذب دنیا کا مروجہ قانون ہے لیکن یہاں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک جانب عالمی تنظیم جو 67 سال سے ریاست جموں کشمیر، جونا گڑھ اور حیدرآباد پر بھارت کی ننگی جارحیت اور انضمام پر اپنی قرارداد نافذ کرنے کی بجائے اس پر چشم پوشی کر کے اس کے غاصبانہ قبضے کو دوام بخش رہی ہے اور مقبوضہ کشمیر اور مقبوضہ مغربی کنارے بشمول القدس جولان کی پہاڑیوں اور لبنان کے شیبا فارم پر اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کو فریقین کی مرضی پر چھوڑ دیتی ہے کہ وہ آپس میں مک مکا کر لیں جبکہ اس کے برعکس ایک آزاد ریاست کی عدلیہ کی کارروائی میں دخل در معقولات کر رہی ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی تو یہ اوقات ہے کہ اس کی قراردادوں کو اسرائیل جیسی جعلی نسل پرست ریاست کا مندوب اپنے جوتے کی نوک پر رکھتا ہے جبکہ امریکہ، روس اور چین اس پر من مانی ویٹو لگا دیتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی بین الاقوامی عدالتِ انصاف کا یہ حال ہے کہ اسے کسی بین الاقوامی تنازعے کے فیصلے کرنے کا اختیار ہی نہیں ہے۔ الٹا اسے فریقین کے مقدمات کے فیصلے کرنے کے لئے ان کی اجازت لینی پڑتی ہے۔ ایک طرف تو عالمی ادارے کی ناطاقتی، بے بسی اور بے کسی کا یہ عالم ہے کہ اسرائیل جیسی جعلی ریاست اس کے کسی فیصلے کو نہیں مانتی تو دوسری طرف وہ اپنی خفت مٹانے کے لئے ان ریاستوں پر دھونس جماتی ہے جو قانون اور منشور کا احترام کرتی ہیں۔

اگر سلامتی کونسل کی ذیلی کمیٹی اتنی بااختیار ہو گئی ہے کہ فوجداری مقدمات کی کارروائی میں رکاوٹ پیدا کرنے لگے تو یہ کونسل کا قصور نہیں ہے بلکہ اس ریاست کا قصور ہے جو اپنے اقتدار اعلیٰ پر ایسی کاری ضرب برداشت کرتی ہے۔ پاکستان کے دفترخارجہ نے تو ذیلی کمیٹی کے اقدام کو قانونی جواب دیا ہے یعنی یہ کہ القاعدہ کے خلاف کونسل کی عائد کردہ پابندیوں کے زمرے میں ان کے ارکان کے اثاثے ضبط اور ان کے بیرون ملک سفر پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں لیکن انہیں حراست میں رکھنے کی کوئی ہدایت نہیں کی گئی (اسلام پیر 4 مئی 2015ء) اگر ذکی الرحمن لکھوی کو مبینہ دہشت گردی کی پاداش میں زیرحراست رکھنا لازمی ہے تو نریندر مودی کو گجرات میں دو ہزار بے گناہ مسلمانوں کو ایک منصوبے کے تحت قتل عام کی پاداش میں امریکی عدالت نے کیوں استثنیٰ دیا؟ امریکی عدالت نے اس کا مقدمہ کیوں خارج کر دیا؟

امریکی عدالت کا فیصلہ تھا کہ چونکہ نریندر مودی سربراہ ریاست ہے اس لئے اسے قتل کے مقدمے سے مستثنیٰ کیا جاتا ہے۔ نریندر مودی ریاست کا سربراہ نہیں ہے بلکہ وہ حکومت کا سربراہ ہے جو استثنیٰ کا مستحق نہیں ہوتا۔یہی سردار منموہن سنگھ کے ساتھ ہوا۔ ان پر 1984ء میں اندراگاندھی کے قتل کے بعد دلی میں وسیع پیمانے پر سکھوں کے قتل عام کی سازش اور اعانت کا الزام تھا اور امریکہ کی عدالت نے ان پر فردِ جرم عائد کر دی تھی اور ان کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کر دیا تھا اور وہ عدالت کو مطلوب تھے لیکن جب وہ امریکہ کے دورے پر گئے تو امریکی انتظامیہ اور عدلیہ نے وہی منافقت وہی دوغلا پن دکھایا اور اسے بھی سزا سے استثنیٰ حاصل ہو گیا۔

سب سے بڑھ کر تو یہ کہ ریاست جموں اور کشمیر پر بھارت نے اپنے 68 سالہ غاصبانہ قبضے کے دوران اب تک 80 ہزار سے زائد کشمیریوں کو ہلاک اور 15 ہزار عورتوں کی عصمت دری اور ہزاروں افراد کو لاپتہ یا ہلاک کر دیا۔ یہ جرائم تو نسل کشی کے زمرے میں آتے ہیں اس پر ذیلی کمیٹی کیوں حرکت میں نہیں آئی؟ کیا اس لئے کہ پاکستان کے مندوب نے اسے خط نہیں لکھا؟ اگر ایسا ہے تو ہم اپنی حکومت سے پوچھنے میں حق بجانب ہوں گے کہ اس کے مندوب نے ذیلی کمیٹی کو اس بارے میں کوئی مراسلہ کیوں نہیں بھیجا؟۔

ذکی الرحمن لکھوی کا معاملہ اوباما اور مودی کی سازش کے نتیجے میں اٹھایا جا رہا ہے۔ کیونکہ اپنی بھارت یاترا میں اوباما نے مودی کے ساتھ مشترکہ بیان میں بھارت کو ممبئی واردات میں مطلوب افراد بالخصوص ذکی الرحمن لکھوی اور حافظ سعید کی حوالگی کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ ایسا موقع ہے کہ حکومت پاکستان ہمت کر کے اس توہین آمیز مطالبے کو مسترد کر دے اور جوابی کارروائی کے طور پر پاکستان کی سرزمین پر ڈرون حملوں کے خلاف سلامتی کونسل میں امریکہ کے خلاف شکایت کرے یا بین الاقوامی تعزیراتی عدالت میں اوباما اور سی آئی اے کے ڈائریکٹر کے خلاف استغاثہ دائر کرے۔ 

اگر یہ مان لیا جائے کہ ممبئی واردات ذکی الرحمن لکھوی کی ایما پر ہوئی اور اس میں امریکی سمیت 166 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ امریکی ڈرون حملوں میں اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 2200 افراد جاں بحق ہوئے جن میں چار سو شہری تھے۔ (اسلام اتوار 28 اکتوبر 2013ء) اس کے بعد تو ضرب عضب کے دوران امریکہ نے وزیرستان پر تابڑ توڑ ڈرون حملے کئے۔

ان حملوں کے بعد دفتر خارجہ نے ایک رسمی احتجاجی بیان کے ذریعے اپنے تئیں اپنے فرض کا بوجھ اتار پھینکا کہ موجودہ پارلیمان صرف قرارداد منظور کر کے خاموشی اختیار کر لیتی ہے۔ جب ملک کے حکمران پاکستان کے اقتدار اعلیٰ پر پے در پے حملے برداشت کرتے رہے ہیں تو عوام بھی حوصلہ ہار کر بیٹھ گئے۔ ابھی کیا ہے۔ کونسل کی ذیلی کمیٹی کا اقدام ابتدا ہے آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ بے شک حکمران ذکی الرحمن لکھوی کو قصائیوں کے حوالے کر دیں لیکن سلامتی کونسل اس پر اکتفا نہیں کرے گی بلکہ اس واردات میں حکمرانوں کو ملوث کرے گی تاکہ پاکستان کو دہشت گرد ریاست کی حیثیت سے بدنام کر دے۔ اس وقت بہت دیر ہو چکی ہے لہٰذا اس فتنے کو ابھرنے سے پہلے ہی دبا دینا چاہئے۔ اس کے لئے امریکہ یا بھارت سے سفارتی تعلقات توڑنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ان دونوں کو انسانیت کے خلاف جرائم کی پاداش میں عالمی برادری کے سامنے کھڑا کیا جانا چاہئے تاکہ دنیا ان مجرموں کے اصل چہرے دیکھے۔

پروفیسر شمیم اختر
"بہ شکریہ روزنامہ ’’ئئی بات

No comments:

Powered by Blogger.