Header Ads

Breaking News
recent

’’عاپ‘‘ بمقابلہ’’ انصاف‘‘....


دنیا میں کوئی ایک کامیاب انسان بھی ایسا نہیں جس نے ناکامی کا مزہ نہ چکھا ہو۔ زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر کوئی بے رحم شکست ہر شخص کی منتظر ہوتی ہے۔عام طور پر معلم پہلے بتاتا اور سکھاتا ہے اور پھر امتحان لینے کے بعد غلطی پر سزا دیتا ہے مگر یہ وہ مکتب ہے جہاں سزا کاٹنے کے بعد سبق ملتا ہے۔زندگی کے کسی بھی میدان میں نا تو جیت حتمی ہوتی نا ہار دائمی ہوتی ہے۔ امریکی صدر نکسن نے کہا تھا، شکست انسان کا کچھ نہیں بگاڑتی۔ ناکامی پر زندگی ختم نہیں ہوتی بلکہ انسان ہارتا تب ہے جب وہ ہمت ہار جاتا ہے اور تگ و دو ترک کر دیتا ہے۔ سیاست کا شعبہ تو جنگ کے مقابلے میں کہیں زیادہ خطرناک ہے جہاں آپ کو قدم بقدم سیاسی موت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کئی بار یوں محسوس ہوتا ہے کہ بس اب فلاں شخصیت یا فلاں جماعت کا مستقبل معدوم ہوگیا مگر جدوجہد کا سلسلہ جاری رہے تو حالات موافق ہوتے ہی دم توڑتے سیاستدانوں کو ایک نئی زندگی ودیعت ہو جاتی ہے۔

اس کی تازہ ترین مثال بھارتی سیاستدان اریند کیجری وال ہیں جنہوں نے عام آدمی پارٹی بنا کر سیاست کی پرخار وادی میں قدم رکھا اور دیکھتے ہی دیکھتے مقبولیت کی منزلیں طے کرتے چلے گئے۔ انہوں نے پہلی مرتبہ دہلی کے ریاستی انتخابات میں حصہ لیا اور 70 کے ایوان میں 28 نشستیں جیت کر حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئے۔چونکہ انہیں اسمبلی میں اکثریت حاصل نہ تھی اور سیاسی دائو پیچ سے بھی نابلد تھے ،اس لئے بار بار پیش آنے والی رکاوٹوں کے باعث برسر اقتدار ہونے کے باجود دھرنا دینے پر مجبور ہوئے۔ ان کی یہ روش لوگوں کو ایک آنکھ نہ بھائی اور ان کا خیال تھا کہ حکومتیں احتجاج نہیں کرتیں بلکہ نامساعد حالات اور مشکلات کے باوجود راستہ تلاش کرتی ہیں اور عوام کے مسائل حل کرتی ہیں۔

بالخصوص جب 49 دن بعد ہی اریند کیجری وال نے استعفیٰ دے دیا تو ان کو ووٹ دینے والوں کو ازحد مایوسی ہوئی۔ان کی رائے یہ تھی کہ کرسی چھوڑ کر گویا کیجری وال نے اپنی ناکامی اور نااہلی کا اعتراف کرلیا اور مخالفین کی یہ بات درست ثابت ہوئی کہ اناڑی اور نووارد سیاستدان انتظامی اہلیت نہ ہونے کے باعث عوام کے مسائل حل نہیں کر سکتے۔لہٰذا چند ماہ بعد جب ملکی سطح پر لوک سبھا کے انتخابات ہوئے تو عوام نے عام آدمی پارٹی کو مسترد کردیا۔ ’’عاپ‘‘ نے الیکشن میں پورے ملک سے 400 امیدوار کھڑے کئے تھے جن میں سے بمشکل 4 خوش نصیب ہی جیتنے میں کامیاب ہوئے جبکہ 90 امیدواروں کی تو ضمانتیں ہی ضبط ہو گئیں۔خود اریند کیجری وال مودی کے مقابلے میں لاکھوں ووٹوں سے ہار گئے۔ان انتخابی نتائج کے بعد بعض افراد کا خیال تھا کہ عام آدمی پارٹی اپنی موت آپ مر گئی اور اب دوبارہ کھڑی نہیں ہو سکے گی۔لیکن کیجری وال نے ہمت نہیں ہاری اور اس ناکامی کو کامیابی کا زینہ سمجھ کر لگاتار جدوجہد کا سلسلہ جاری رکھا۔

 فروری کو دہلی میں ایک بار پھر ریاستی انتخابات ہوئے تو عام آدمی پارٹی نے جھاڑو پھیر دی۔ 70 رکنی ایوان میں اسے 67 نشستوں پر کامیابی ملی اور حکمران بی جے پی صرف 3 نشستیں جیت سکی۔ عام آدمی پارٹی کی اس کامیابی میں نمایاں کردار نریندر مودی کا ہے جن سے لوگ ابھی سے مایوس ہونا شروع ہو گئے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ جو وعدے ان سے کئے گئے تھے، ان پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ بالخصوص مودی نے اوباما کی بھارت آمد کے موقع پر اپنا نام کنندہ کرا کے جو مہنگا ترین دھاری دار سوٹ پہنا، اس پر عوامی حلقوں میں سخت تنقید کی گئی۔ مودی نے نخوت و تکبر کا سہارا لیا اور کیجری وال نے عاجزی و انکساری کو اپنا انتخابی استعارہ بنایا۔ نتیجہ آپ سب کے سامنے ہے۔

اب کیجری وال کے سامنے ایک بہت بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ مرکز میں متحارب حکومت کے باوجود اپنے منشور اور وعدوں پر عملدر آمد کر دکھائیں ۔انتخابات سے قبل عوام میں دوبارہ پذیرائی حاصل کرنے کیلئے اریند کجروال نے سخت محنت کی ہے اورایک ایسا مقبول ترین منشور پیش کیا جو عوام کے لئے باعث کشش ثابت ہوا۔مثلاً برسراقتدار آنے کی صورت میں دہلی پولیس کا انتظام وفاق سے واپس لینے کا وعدہ کیا گیا ۔

بتایا گیا ہے کہ ان کی حکومت گرد و نواح میں موجود 200 ایکڑ اراضی پر بے گھر افراد کیلئے فلیٹ تعمیر کرے گی اور ہر بے گھر شخص کو چھت فراہم کی جائیگی۔حکومت بنتے ہی سابقہ اقدامات کا تسلسل جاری رکھتے ہوئے بجلی کا بل آدھا کر دیا جائے گا اور شہر کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے پاور پلانٹ لگایا جائیگا۔تمام گھروں کو یومیہ 700 لیٹر پانی مفت فراہم کیا جائیگا۔ چونکہ شہر میں رفع حاجت کے مسائل شدید تر ہیں اسلئے چند ماہ میں ہی دو لاکھ ٹوائلٹ تعمیر کئے جائیں گے۔ تعلیم کی سہولتیں فراہم کرنے کیلئے 500 نئے اسکول اور 20 نئے کالجز تعمیر کئے جائیں گے۔

 سرکاری اسپتالوں میں علاج معالجہ کی بہتر سہولتیں فراہم کرنے کیلئے 4000 ڈاکٹر اور 15000پیرا میڈیکل اسٹاف بھرتی کیا جائیگا۔ کنٹریکٹ لیبر پرپابندی عائد کردی جائیگی۔ معمولی نوعیت کے مسائل مقامی سطح پر حل کرنے اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کیلئے شہر میں 3000 سے 3500 محلہ سبھا (یونین کونسلیں یا محلہ کونسلیں) قائم کی جائینگی۔

اس انقلابی ایجنڈے کیساتھ ساتھ یہ وعدہ بھی کیا گیا ہے کہ اس بار استعفیٰ دیکر گھر جانے یا دھرنے دیکر بیٹھ جانے کی پالیسی نہیں اپنائی جائیگی بلکہ جیسے تیسے عوام مسائل حل کئے جائینگے۔بھارت میں عام آدمی پارٹی کی مقبولیت کے بعد بھیڑ چال کے پیش نظر پاکستان میں بھی آدھا درجن عام آدمی پارٹیوں کی بنیاد رکھی گئی مگر اس پیمانے پر جدوجہد نہ کئے جانے کے باعث یہ پارٹیاں مقبولیت اور توجہ حاصل نہ کر سکیں۔اگر یہ افراد بھی جاںگسل جدوجہد اور بے تکان تگ و تاز کو حرزجاں بنا لیں تو کچھ بعید نہیں کہ یہاں بھی عام آدمی پارٹی کے چرچے ہوں۔ جب اریند کیجروال نے دھرنا دینے کی غلطی کی تو ہمارے ہاں بہت سے افراد نے عام آدمی پارٹی کا موازنہ تحریک انصاف سے کیا جس نے خیبر پختونخوا میں حکومت بنانے کے باجود احتجاج کی روش اختیار کی۔

اس طرح کے خدشات بھی ظاہر کئے گئے کہ تحریک انصاف کا دی اینڈ ہو جائے گا مگر جلد یا بدیر عمران خان نے اس باغیانہ سیاست سے رجوع کیا اور یہ وعدہ کیا کہ اب ان کی توجہ خیبر پختونخوا کی تعمیر و ترقی پر ہو گی۔اگرچہ معاملات میں کسی حد تک بہتری کے آثار نظر آتے ہیں مگر ابھی تک نیا خیبر پختونخوا بنتا دکھائی نہیں دیتا۔میں کئی بار اس رجائیت پسندی کا اظہار کر چکا ہوں کہ عمران خان میں پوٹینشل ہے،اگر وہ چاہیں تو اس صوبے کی تقدیر بدل سکتے ہیں مگر ابھی تک یہ صوبہ ان کی ترجیح نمبر ون نہیں۔ 

جس دن خیبر پختونخوا عمران خان کی اولین ترجیح بن گیا ،اس دن انکے اپنے مقدر کا ستارہ بھی چمکے گا اور صوبہ بھی رول ماڈل بن جائیگا۔حلف اٹھانے سے قبل کیجری وال نے بہت دانشمندانہ بات کی ہے اگر دنیا بھر کے سیاست دان اسکو حرز جاں بنالیں تو کبھی ناکام نہ ہوں۔کیجری وال نے کہا ہے بی جے پی کا یہ حال غرور کی وجہ سے ہوا ہے،اگر ہم نے بھی یہی روش اختیار کی تو پانچ سال بعد ہمارا بھی یہی حشر ہو گا۔مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف اے این پی کے انجام کو مد نظر رکھے تو بہتر ہو گا۔

محمد بلال غوری

"بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ

No comments:

Powered by Blogger.