Header Ads

Breaking News
recent

کیا دینی مدارس خطرے میں ہیں؟....


میرا گمان ہے کہ پاک فوج ہو یا مسلم لیگ نون کی حکومت ، یہ دونوں ہی مدارس کونقصان نہیں پہنچا سکتے، پاک فوج جغرافیائی سرحدوں کی محافظ ہے تو مدارس نے نظریاتی سرحدوں کی محافظت سنبھال رکھی ہے، اگرچہ مسلم لیگ نون سمیت تمام مسلم لیگوں بارے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ قائد اعظم محمد علی جناح کی مسلم لیگ کا تسلسل ہیں مگر اس کے باوجود میں تمام مسلم لیگی دھڑوں کو’ سنٹر رائیٹ‘ کی جماعتیں سمجھتا ہوں، ان میں ٹخنوں سے اونچی شلواریں رکھنے اور لمبی لمبی ڈاڑھیاں رکھنے والے نہ ہونے کے برابر ہیں مگر کلین شیو اور مونچھوں کو فیشن کے طور پررکھنے والے مذہب کا سوال اٹھنے پرپکے ، سچے مسلمان بن جاتے ہیں۔میرے گمان کے برعکس قیام پاکستان سے دینی تعلیم کی خدمت سرانجام دینے والے تاریخی ادارے جامعہ اشرفیہ میں ایک مہربان دوست نے کہاکہ مسلم لیگ نون کی ہر حکومت میں مدارس نشانہ بنے ، میں اب بھی پورے یقین سے نہیں کہہ سکتاکہ اکیسویں آئینی ترمیم کے بعد حکومت اور فوج کی طرف سے کارروائی میں دینی مدارس کونشانہ بنانے کی اطلاعات کتنی درست، کتنی غلط ہیں ۔

اگر یہ کہا جائے کہ مدارس دہشت گردی میں ملوث ہیں تویہ ایک غلط بیان ہو گا مگر یہ کہنا بھی اتناہی غلط ہو گا کہ مدارس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں، اس بارے کوئی ’سویپنگ سٹیٹمنٹ‘ جاری نہیں کی جا سکتی،جہاں انہی مدارس میں اختلاف کو علم کے فروغ کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے وہاں ایسے مدارس بھی موجود ہیں جہاں اختلاف کرنے والوں کو کافر قرار دیا جاتا ہے۔ ہم مسلمان دوسرے مکاتب کو کافر اور تمام کافر تمام مکاتب فکر کو مسلمان سمجھتے ہیں۔میں یہی سوال لے کر جامعہ اشرفیہ میں پروفیسر مولانا یوسف خان، مولانا مفتی احمد خان، مولانا اکرم کاشمیری، مفتی شاہد عبید، مولانا فہیم الحسن ، مجیب الرحمان انقلابی سمیت دیگر کے پاس موجود تھا،وہ واضح کر رہے تھے کہ جہاد اور قتال فی سبیل اللہ کسی شخص، گروہ یا جماعت پر نہیں بلکہ ریاست کی ذمہ داری ہے ، ان کا کہنا ہے کہ مدارس کے نصاب میں دہشت گردی ہرگز ہرگز شامل نہیں، وہاں میٹرک تک دنیاوی تعلیم بھی دی جاتی ہے اور اس کے بعد دیگر تمام تعلیمی اداروں کی طرح مدارس میں بھی سپیشلائزیشن شروع ہوجاتی ہے، جہاں تک مدارس کے نصاب میں دیگر جدید علوم شامل کرنے کا سوال ہے تو کیا انجینئرنگ یونیورسٹیوں اور میڈیکل کالجوں میں فقہ اور تجوید کی تعلیم دی جاتی ہے۔ جامعہ اشرفیہ کے اساتذہ کرام کا کہنا تھا کہ صحافی اور اینکر حضرات کو چاہیے کہ وہ دینی مدارس کے دورے کریں، وہاں کے کام او ر نظام کو سمجھیں اوراس کے بعد اس پرتنقید کریں، مدرسوں سے بغض رکھنے والے بھی کم نہیں،حال ہی میں یہ بھی ہوا کہ ٹاون شپ میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والے ایک بچے کی نعش مسجد سے ملی، میڈیا مولویوں پر چڑھ دوڑا، یہ خبر بھی دی گئی کہ موذن وہاں سے فرار ہو چکا ہے مگر ڈی این اے ٹیسٹ سے حقیقت کھلی کہ اصل مجرم مقامی حجام ہے۔

یہ درست ہے کہ پاکستان میں دینی تعلیم دینے والے مدارس کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔ ہمار ے پاس بریلوی، دیوبندی، شیعہ اور اہل حدیث سمیت پانچ مکاتب فکر کے رجسٹرڈ مدارس موجود ہیں۔ ان مدارس کے نصاب میں کوئی قابل اعتراض شے نہیں مگر اصل مسئلہ تو تشریحات سے پیدا ہوتا ہے، سورۃ توبہ میں قتال فی سبیل اللہ کے واضح احکامات سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور کوئی بھی معلم جہاد کے لازمی سیاسی و معاشرتی تقاضوں کو نظرانداز کرتے ہوئے ان کی من چاہی تشریح کر سکتا ہے۔ عمومی رائے ہے کہ فساد مدارس سے نہیں بلکہ تنظیموں کے ذریعے برپاہوتا ہے مگر دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ بہت سارے مدارس کا تعلق بہت ساری تنظیموں سے ہے۔

اوپر بیان کئے گئے تمام مکاتب فکر کی اپنی اپنی سیاسی جماعتیں ہیں اور انہی سیاسی جماعتوں کی آگے ذیلی تنظیمیں بھی ہیں جو ایک دوسرے سے پوری طرح جڑی ہوئی ہیں۔ مدارس کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے مگرمسئلہ تو اس وقت پید اہوا جب امریکی کے ساتھ ساتھ کسی حد تک پاکستانی مفادات کی خاطر ریاستی سربراہی میں افغان جہاد شروع ہوا۔ یہ امر کوئی خفیہ نہیں کہ وہاں مجاہدین کی کھیپ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی جغرافیائی حدود میںموجود مدرسوں سے بھیجی گئی، امریکہ اس کام کی سرپرستی اور فنڈنگ کرتا رہا، امریکی اثرو رسوخ میں موجودوسط ایشیائی اور عرب ریاستوں میں موجودکھرب پتیوں نے اپنی اربوں روپوؤں کی زکوٰۃ کارخ پاکستانی مدرسوں کی طرف موڑ دیا۔ 

زکوٰۃ اسلامی معاشی نظام کا ایک بہت ہی مثبت پہلو ہے ،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے دور سے زکوٰۃ کی وصولی اور تقسیم ریاست کی ذمہ داری رہی ہے مگر جوں جوں وقت گزرتا گیا، اسلامی ریاست اپنے معاملات چلانے کے لئے ٹیکسوں کی وصولی میں تو فعال ہوتی چلی گئی مگر غریبوںاور مجبوروں کی مدد کے لئے زکوٰۃ کی وصولی اور تقسیم کا عمل ناقص سے ناقص ترین ہوتا چلا گیا۔ پھر یوں ہوا کہ شہریوں نے ریاستی اداروں کی بری کارکردگی پر ٹیکس دینے سے پہلو تہی شروع کر دی اوراس کے ساتھ ساتھ صاحب نصاب لوگوں نے بھی زکوٰۃ کی براہ راست ادائیگی کو ترجیح دی، میں نے ایک بڑے ضلعے میں تعینات سرکاری افسر سے پوچھا کہ تمہارے ضلعے میں دینی مدارس کھمبیوں کی طرح کیوں اگے ہوئے ہیں، جواب ملا، یہ ایک صنعتی علاقہ ہے، یہاں ہزاروں کی تعدا دمیں کروڑ اور ارب پتی سرمایہ دار موجود ہیں، جن میں سے ہر کوئی ہر برس لاکھوں او رکروڑوں روپے زکوٰۃ کی مد میں نکالتا ہے لہٰذابھرپور فنڈنگ ہونے کی وجہ سے مدارس ایک انڈسٹری کی طرح پھل پُھول رہے ہیں،بہت سارے مدارس کے ان ممالک سے بھی رابطے ہو گئے جو اپنے اپنے سرکاری فرقے کو پاکستان میں مضبوط دیکھنا چاہتے تھے۔

امریکہ سے شکوہ ہے کہ اس نے سوویت یونین کوختم کرنے کے بعد ہمارے مجاہدین کو لاوارث چھوڑ دیا اور ہمارے ریاستی ادارے اس غیرمنظم فوج کے مستقبل بارے کوئی منصوبہ بندی نہیں کرسکے، ہم ان غیرروایتی اور غیر ریاستی فوجیوں کونوکریوں، کاروباروں اور دیگر اشغال میں مصروف کرنے میں ناکام رہے کہ یہ ہماری اہلیت اور بجٹ دونوں سے باہر کی چیزیںتھیں۔ بہت سارے دیہی مدارس میں بچوں کی عزت نفس بھی پامال ہوتی ہے جب انہیںمانگے تانگے کے پیسوں سے خوراک اور کپڑے فراہم کئے جاتے ہیں اور ان کی آمدن کا ذریعہ زکوٰۃ اور صدقات رہ جاتے ہیں۔ میں اسی وجہ سے کہتا ہوں کہ دین کی تعلیم اور مساجد کی امامت کا کام فی سبیل اللہ ہونا چاہئے یا ریاست کو یہ ذمہ داری سنبھال لینی چاہئے ۔مجھے عجیب محسوس ہو رہا ہے کہ بیس نکاتی نیشنل ایکشن پلان میں صرف فوجی عدالتوں کاقیام ہی اس وقت سب سے بڑا موضوع بحث بنا ہوا ہے جبکہ مدارس کی اصلاح ، جس میں سب سے اہم ان کی فنڈنگ پر چیک اینڈ بیلنس رکھنا ہے، کسی طور ڈسکس ہی نہیں ہو رہا۔ مدارس دہشت گردی میں ملوث ہوں یانہ ہوں، انہیں فی الوقت کوئی خطرہ نہیں کہ ان کے سرپرست سیاسی دھڑے ان کی اصلاح کا کام روکنے کے لئے خم ٹھونک کر حکومت کے مقابلے میں آ کھڑے ہوئے ہیں۔ پاکستانی مدرسے پاکستان کے غریب عوام کے بچوں کو دینی تعلیم سے نواز کے ایک بہت بڑی خدمت کر رہے ہیں جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا مگرانہیں شتر بے مہار نہیں رکھاسکتا۔

 کتنی عجیب بات ہے کہ ہمارے دینی سیاسی رہنما اکیسویں آئینی ترمیم پر سیخ پا ہوتے ہوئے حکومت سے سوال کرتے ہیں کہ کون سے مدرسے دہشت گردی کی تربیت دیتے ہیں، یہ لاعلمی سیاسی چابکدستی تو ہوسکتی ہے، معصومیت اور نااہلی نہیں۔پاکستانی ریاست جہاں کھڑی ہے وہاں آگے کنواں،پیچھے کھائی ہے کہ ہم مدارس کو دین اور معاشرے کی خدمت کا ذریعہ سمجھتے ہیں مگردوسری طرف دنیاہمارے مسئلے کو ہماری نظر سے دیکھنے پرتیار نہیں۔وہ فرانس کے شمارے میں توہین آمیز خاکے شائع ہونے کا عمل نہیں روکتی مگر اسلام پسندوں سے کہتی ہے کہ اپناردعمل کو روک لیں، حالانکہ ان کی دی ہوئی تعریف کے مطابق ان کی آزادی وہاں ختم ہوجاتی ہے جہاں ہماری ناک شروع ہوتی ہے۔ اس وقت ہماری ریاست بجا طور پرمدارس کوکنٹرول کرنا چاہتی ہے مگر اس ردعمل کنٹرول نہیں کر سکتی جس کا ذکر نیوٹن کے قانون میں ہے کہ ’ ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے، ردعمل اور عمل باہم برابر لیکن مخالف سمت میں ہوتے ہیں‘۔ مدرسے امن کے لئے ایک خطرہ ہیں یا خود مدرسے خطرے میں ہیں، تہذیبوں کے تصادم کے المیے میں مدرسوں ہی نہیں تمام ایمان والوں کے مستقبل پر بحث اور زیادہ اہم ہوجاتی ہے۔

Najam Wali Khan

No comments:

Powered by Blogger.