Header Ads

Breaking News
recent

نصف صدی پہلے کا پاکستان، نصف صدی بعد کا برطانیہ....


پورے پچاس سال پہلے، ان ہی دنوں پاکستان کے پہلے پاکستانی فوجی سربراہ اور اپنے آپ کو ’’فیلڈ مارشل‘‘ بنانے کے شوق میں اپنا ہی ملک فتح کرنے والے جنرل محمد ایوب خان نے نام نہاد بنیادی جمہوری نظام کے تحت قائداعظم کی ہمشیرہ مادر ملت فاطمہ جناح کے مقابلے میں پوری قوم کی توقع کے برعکس صدارتی انتخاب جیت کر ملک کےبڑے حصے کے پاکستان سے علیحدہ ہو جانے کی بنیاد رکھی اور ریاستی اور مذہبی دہشت گردی کے خوفناک رجحان کو آرمی پبلک سکول پشاور کے بچوں تک لے جانے والی قومی مصیبتوں کی راہیں ہموار کیں۔

اس وقت کے چیف الیکشن کمشنر مسٹر جی معین الدین کے اعلان کے مطابق ایوب خان نے 80 ہزار بی ڈی ووٹروں میں سے 49 ہزار چھ سو 47 ووٹ حاصل کر کے محترمہ فاطمہ جناح کو 21 ہزار تین سو چار ووٹوں سے عبرت ناک شکست دی تھی، مادر ملت کو 28 ہزار تین سو ووٹ ملے تھے جن میں سے 18 ہزار 80 ووٹ مشرقی پاکستان کے بی ڈی چیئرمینوں کے تھے۔ ایوب خان نے مجموعی ووٹروں کے 53 فیصد ووٹ مشرقی پاکستان سے حاصل کئے تھے جب کہ مغربی پاکستان (موجودہ پاکستان) سے ملنے والے ایوب خان کے ووٹوں کی تعداد بیس ہزار سات سو بیس بیان کی گئی تھی۔

بعض لوگوں کے خیال میں نصف صدی پہلے کے اس سیاسی ڈرامے سے انتخابی دھاندلیوں کی دہشت گردی کے اس سلسلے کا آغاز ہوتا ہے جس سلسلے کے احتجاجی مظاہروں نے گزشتہ سال پاکستان تحریک انصاف کے دھرنوں تک کا سفر طے کیا اور معلوم نہیں کہ ابھی یہ سلسلہ کہاں تک جائے گا اور ملک اور قوم کی جان کب چھوڑے گا۔ یقینی طور پر اس کے لئے بھی کسی ’’ضرب عضب‘‘ جیسے آپریشن کی ضرورت پڑے گی۔

یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ہماری قومی تاریخ میں اگر بے پناہ جرات کی طاقت رکھنے والی مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کا وجود نہ ہوتا تو ذوالفقار علی بھٹو کی ملک کو فوج سے واگزار کرانے والی جمہوریت کی تحریک بھی کامیاب نہیں ہو سکتی تھی۔ فیلڈ مارشل کی مارشل لاء کے ذریعے نافذ ہونے والی دہشت گردی کی چھائونی پر پہلا حملہ مادر ملت کا تھا جس نے بھٹو کی تحریک کی کامیابی کی راہ ہموار کی تھی۔ پیپلز پارٹی کی سیاسی کامیابی کی پہلی وجہ اگر اس کا پہلا انتخابی منشور تھا دوسری بڑی وجہ بلاشبہ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی فیلڈ مارشل کے خلاف سیاسی ٹکر بھی تھی۔

تازہ ترین ’’اخبار جہاں‘‘ میں لندن سے ایک خط میں آصف جیلانی نے کچھ ایسی باتیں درج کی ہیں جن پر سرمایہ داری نظام کے ثناء خوانوں کو یقین نہیں آئے گااور وہ پڑھ کر صرف حیران ہی نہیں پریشان بھی ہوں گے۔ آصف جیلانی بتاتے ہیں کہ اس وقت برطانیہ عظمیٰ کے ایک کروڑ تیس لاکھ عوام غربت کی آخری لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

ایک رپورٹ کےحوالے سے آصف بتاتے ہیں کہ لندن کے سکولوں میں ہر کلاس میں سے کم از کم 41 فیصد انگریز بچے صبح گھر سے ناشتہ کر کے نہیں آتے بھوکے پیٹ پڑھنے آتے ہیں جس کی وجہ سے وہ پڑھائی میں پس ماندہ رہ جاتے ہیں۔سوشلسٹوں کی زبان میں سرمایہ داری نظام کی ناہموار اور بے جوڑ کہلانے والی ترقی کے حوالے سے آصف جیلانی بتاتے ہیں کہ 2006ء کے عالمی مالیاتی بحران کے نتیجے میں دنیا بھر میں خوراک اوراشیائے خوردنی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے اور سال 2010ء میں برطانیہ کی مخلوط حکومت کی طرف سے سرکاری اخراجات سوشل ویلفیئر اور فلاح و بہبود کے بجٹ میں تخفیف اور کٹوتیوں کی وجہ سے افلاس اور بھوک کا مسئلہ پورے برطانیہ کو پوری اور بری طرح اپنی گرفت میں لے چکا ہے ماہرین نے گزشتہ سال خبردار کیا تھا کہ غربت اور بھوک کا مسئلہ انگلستان کے لئے بہت سنگین ہو جائے گا اور عام لوگوں کی صحت بری طرح متاثر ہو گی۔جیلانی لکھتے ہیں کہ ایک طرف بھوک اور افلاس کا یہ عالم ہے اور دوسری جانب کرسمس پر برطانیہ میں 74 ارب پونڈز کی خریداری ہوتی ہے۔

انٹرنیٹ آن لائن پر بھی 17 ارب پونڈز کی اشیا خریدی جاتی ہیں۔ ایک طرف برطانیہ خوراک اور اشیائے خوردنی ضائع اوربرباد کرنے میں مصروف ہے اور دوسری جانب برطانیہ میں ’’فوڈ بینکوں‘‘ کی تعداد چودہ سالوں میں 420 تک پہنچ جاتی ہے۔ گزشتہ سال برطانیہ کے نو لاکھ 13 ہزار بھوکے لوگوں نے ان فوڈ بینکوں کے ذریعے اپنی بھوک مٹانے کی کوشش کی۔ ان میں ایک لاکھ 30 ہزار معصوم بچے بھی تھے۔ اس وقت برطانیہ عظمیٰ جس کے ’’یونین جیک‘‘ پوری دنیا میں لہرایا کرتے تھے اس کے 19 لاکھ لوگ بے روزگار ہیں یا پہلے سے کم تنخواہوں پر ملازمت کرنے پر مجبور ہیں۔ برطانیہ کے لوگ دو طبقوں میں بٹ چکے ہیں۔ ایک انتہائی دولت مند طبقہ اور دوسرا غربت اور افلاس کی زد میں آیا ہوا طبقہ۔ برطانیہ میں مالیاتی بحران کے باوجود گزشتہ سال ارب پتی لوگوں کی تعداد تین لاکھ چھ ہزار چھ سو پچپن تھی جو اس سال تین لاکھ 45 ہزار دو سو اکہتر ہو گئی ہے۔ 

دراصل یہ مالیاتی بحران کے باوجود نہیں ہوا مالیاتی بحران کیوجہ سے ہوا ہے۔ سرمایہ داری نظام میں بہت زیادہ دولت والے لوگ محض گزارے کی دولت اور کمائی والے لوگوں اور درمیانے طبقے کی مصیبتوں سے فائدہ اٹھانے اور مزے لوٹنے والے بڑے دولت مندوں کا نظام ہے۔ امیروں کو اور زیادہ امیر بناتا ہے اور غربت کو زیادہ سے زیادہ علاقے تک پھیلاتا ہے۔ برطانیہ کے بے حساب دولت مند اور بے حد غریب طبقوں کے درمیان وسیع سمندر جیسے فرق کی وجہ سے ملک میں پرتشدد طبقاتی معرکہ آرائی، دہشت گردی اور انقلاب کے طوفانوں کے برپا ہونے کا اندیشہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

منو بھائی
"بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ

No comments:

Powered by Blogger.