Header Ads

Breaking News
recent

حیدرآباد کا پکا قلعہ...


موجودہ حیدر آباد نیرون کوٹ کی قدیم بستی کی جگہ آباد ہے حیدر آباد پہلے نیرون کے نام سے مشہور تھا اس شہر کی بنیاد نبوت اور ہجرت کے درمیانی زمانے میں رکھی گئی۔ میاں غلام شاہ کے آباد کردہ شہروں میں جس شہر کو غیر معمولی عظمت و شہرت حاصل ہوئی وہ شہر حیدر آباد ہے جسے دارالسلطنت کی حیثیت حاصل تھی یہ شہر کلہوڑوں کے بعد بھی تالپوروں کا دارالسلطنت رہا اور آج بھی اس کا شمار پاکستان کے صوبہ سندھ کے بڑے شہروں میں ہوتا ہے۔ 

میاں غلام شاہ نے اپنے دور حکومت میں اپنی حکومت کے مختلف مرکز بدلے اسے تعمیرات کا بہت سوق تھا آخر میں اس نے اپنا دارالحکومت بنانے کے لیے دریائے سندھ کے کنارے اس مقام کو پسند کیا۔ جو قدیم زمانے میں ہی سے نیرون کوٹ کہلاتا تھا یہ ایک مضبوط پہاڑی پر واقع تھا مارچ1769ء میں میاں غلام شاہ نے اس مقام پر قلعہ تعمیر کرنے کا حکم دیا جب یہ قلعہ تعمیر ہوگیا تو وہاں کی رعایا کو قلعہ کی حفاظت میں آباد کر دیا گیا۔ 

میاں غلام شاہ نہایت نیک سیرت، بہادر اور علم دوست قسم کا انسان تھا اس نے اپنے سولہ سالہ دور حکومت میں نہایت کامیاب حکومت کی اس کا دور عہد کلہوڑا کا سب سے زیریں دور شمار ہوتا ہے۔ بھٹ شاہ میں واقع مشہور آفاقی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کا مقبرہ بھی میاں غلام شاہ نے تعمیر کرایا تھا۔ میاں غلام شاہ کے والد نے شاہ عبداللطیف بھٹائی سے عقیدت کی نسبت ہی سے میاں صاحب کا نام’’غلام شاہ‘‘ رکھا تھا۔ محمد بن قاسم کی فتوحات کی تاریخ میں حیدر آباد کا تذکرہ بغیر کسی جنگ و جدل کے ملتا ہے عبداللہ بن نجان کی شہادت کے بعد حجاج بن یوسف نے بدیل بن ملہبہ بجلی کو دیبل پر حملے کے لیے بھیجا تھا لیکن بدیل نے اس جنگ میں شہادت پائی بدیل کی شہادت کے بعد سندھ میں نیرون کے لوگوں نے مسلمانوں کے ڈر سے آپس میں مشورہ کیا کہ یقینا عرب اس شہادت کا انتقام لیں گے اور ان کے حملے کا پہلا نشانہ ہم لوگ بنیں گے اگر اس وقت ان کی اطاعت قبول کر لی جائے تو ہمارا شہر بربادی سے بچ جائیگا۔

 نیرون کے حاکم سندر نے حجاج سے جزیہ کی قبولی اور امان کی طلبی کی درخواست کی جسے قبول کرلیا گیا۔ نیرون کوٹ کا حاکم بدھ مذہب کا ماننے والا تھا اور ثمنی قوم سے تھا اس نے حجاج بن یوسف سے معاہدہ طے کر لیا تھا جب محمد بن قاسم نیرون پہنچے تو اس وقت وہ ثمنی حاکم راجہ داہر کے پاس گیا ہوا تھا شہر والوں نے جب محمد بن قاسم کی آمد کی خبر سنی تو شہر کے دروازے بند کرکے بیٹھ گئے۔ پانچ چھ روز کے بعد جب ثمنی حاکم نیرون واپس آیا تو اس نے فوراً شہر کے دروازے کھلوائے اور شاندار طریقے سے محمد بن قاسم کا استقبال کیا نہایت بیش قیمت تحائف پیش کئے اور فوج کی مہمان داری کا پورا پورا انتظام کیا۔ محمد بن قاسم نے بھی نیرون کے حاکم کو انعام و اکرام سے نوازا۔ 

غرضیکہ نیرون بغیر کسی جنگ کے فتح ہو گیا۔ انگریزوں نے اپنا پہلا قدم سندھ میں 26 ستمبر 1613ء کو تجارتی جہاز کی آمد کے ساتھ رکھا تھا اور 1635ء میں ٹھٹھہ میں پہلی تجارتی کوٹھی قائم کی گئی تھی۔ جس کا بظاہر یہاں سے قلمی شورہ خرید کر یورپ بھیجنا تھا میر نور محمد کی وفات کے بعد انگریزوں نے سندھ پر قبضہ کرنے کی جدوجہد تیز کر دی اور مختلف ہتھکنڈے استعمال کرکے میران حیدر آباد کو گرفتار کرلیا۔ سرجانسن جمیز نیپئر اپنی پلٹن کے ساتھ قلعہ حیدر آباد میں داخل ہوگیا اور کسی مزاحمت کے بغیر انگریزی فوج قلعہ حیدر آباد میں قابض ہوگئی جو آج ’’پکا قلعہ‘‘ کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ 

انگریزوں نے قلعہ حیدر آباد سے تمام خزانے ، نقد، اونی اور نفیس کپڑے، بیش بہا ہتھیار، مرصح تلواریں، رومی، خراسانی اور میرخانی بندوقیں جواہر دار خنجر اور چھریاں ولائیتی گھوڑے اور اونٹ بہترین مویشی، زنانہ مرصح طلائی زیورات جن کی قیمت لاکھوں تک پہنچتی ہے دو کروڑ تیس لاکھ روپے نقد جو میران حیدرآباد کے توش خانے میں جمع تھے قبضے میں کر لیے۔ تالپور فرمانروائوں کو عمدہ اور نادر کتابیں جمع کرنے کا بھی ذوق تھا اور انہوں نے پکا قلعہ میں کئی کتب خانے بنا رکھے تھے جو علم دوستی کے لیے مشہور تھے انگریزوں کے قبضے کے بعد یہ کتب خانے اجڑ گئے بہت سی کتابیں انگریز لے جو آج بھی یورپ کے کتب خانوں میں موجود ہیں۔ 

قدیم سندھ کے قلعے یوں تو بہت سے ہیں مگر پکا قلعہ حیدر آباد کو ہر دور میں بڑی اہمیت حاصل رہی ہے پرانے قلعوں میں قلعہ احمد آباد قلعہ اختیارالدین، قلعہ الور، قلعہ امام گڑھ، قلعہ اولاو، قلعہ بدین قلعہ بکھر، قلعہ جویا قلعہ دلاور، قلعہ ڈھاڈھر، قلعہ سبزل، قلعہ سوات، قلعہ سیورائی، قلعہ سہیوہن، قلعہ مٹو، قلعہ نادر آباد، قلعہ کانسجر، قلعہ کوٹ ڈیجی، قلعہ عمرکوٹ، قلعہ سیوی قلعہ وگہ کوٹ، قلعہ زانق، قلعہ بیٹ اور قلعہ بھمیٹز شامل ہیں۔ 

مگر ان میں سے چند ایک ہی موجود ہیں۔ پکا قلعہ آج بھی پاکستان کے ان چند قلعوں میں سے ایک ہے جہاں آج بھی مکمل آبادی موجود ہے پکا قلعے میں تقریباً5 لاکھ نفوس آباد ہیں کسی زمانے میں قلعہ کے گرد ایک مضبوط مکمل فصیل بھی تعمیر کی گئی تھی مگر آج یہ فصیل جگہ جگہ سے گر گئی ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے اکثر اوقات اس کے گرنے سے انسانی زندگیاں خطرے سے دو چار رہتی ہیں قلعے کی عمارت صدر دروازے قلعہ چوک سے شروع ہو کر درگاہ مولا علیؓ قدم گاہ سٹیشن روڈ، فقیر کاپڑ سے گزر کر واپس صدر دروازے پر ختم ہوتی ہے۔ قلعے کے اندر ایک سٹیڈیم بھی موجود ہے۔ اس قلعے میں زیادہ تر وہ مہاجرین آباد ہوئے جو 1947ء میں ہجرت کرکے پاکستان تشریف لائے تھے۔ آہستہ آہستہ قلعہ میں رہائش کے ساتھ ساتھ چھوٹی چھوٹی صنعتیں بھی لگتی رہی۔ 

جن میں چوڑی کے شعبے کے کارخانے اور جوتا سازی کے کارخانے شامل ہیں۔ یہ قلعہ کسی زمانے میں علمی کتابوں سے مالا مال تھا مگر اب کوئی لائبریری موجود نہیں حالانکہ اس قلعے میں ممتاز ادیب دانشور اور سب دیوان شاعر میر محمد شیر خان بن مراد علی خان، والئی حیدر آباد1804ء میں پیدا ہوئے تھے۔ جو جعفری تخلص رکھتے تھے ان کی مشہور زمانہ کتابیں یہ ہیں۔دیوان فارسی 1233ء دیوان اردو1261ء سفرنامہ جعفری1260ء مکاتیب جعفری خطوط کا مجموعہ مثنوی مرزا صاجان، مثنوی مختار نامہ 1241ء شامل ہیں قلعے میں ایک میوزیم بھی تھا جس کی عمارت آج بھی موجود ہے 1985ء میں قلعے میں موجود اس میوزیم کو ختم کر دیا گیا اس عمارت کے ساتھ دیوان خاص اور دیوان عام موجود ہیں۔ قلعہ حیدر آباد ایک طویل تاریخ کا باب ہے جس میں امن و آتش، ادب و تاریخ، تہذیب و تمدن اور صحت مند معاشرے کے انمٹ نقوش موجود ہیں۔

شیخ نوید اسلم

No comments:

Powered by Blogger.