Header Ads

Breaking News
recent

ہتک آمیز تحریر و تقریر آزادئ اظہار خیال ہے!....


اگر ایک دو دن کی بات ہو تو اسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے لیکن جس تسلسل اور تکرار سے یورپ کے جرائد پیغمبر اسلام کے تضحیک و توہین آمیز خاکے شائع کر رہے ہیں وہ کیونکر آزادئ تحریر و تقریر و ضمیر کے زمرے میں آتا ہے۔ خود فرانس اور برطانیہ میں کسی عام شہری کی ہتک عزت دیوانی اور فوجداری قوانین کے تحت سنگین جرم ہے جس پر ملزم کو سزا اور جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے لیکن چارلی ایبڈو کا جرم صرف کردار کشی تک محدود نہیں ہے کیونکہ دنیا کے ایک ارب سے زائد مسلمانوں کی ان خاکوں سے دلی آزاری ہوئی بلکہ انہیں انتہائی مشتعل کیا گیا لہٰذا اس کا جو ردعمل ہوا وہ غیر متوقع نہیں بلکہ فطری تھا۔

مجھے تو یورپ اور امریکہ کے حکمرانوں کے رویے پر انتہائی افسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے جریدے کی انتہائی غیر قانونی اور غیر اخلاقی حرکت کی مزمت کرنے کی بجائے اس کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور اب تک کر رہے ہیں۔ حق اور انصاف کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ پہلے چارلی ایبڈو کی رکیک حرکت کی مذمت کرتے اور بعد ازاں ان حملہ آوروں کی مذمت کرتے جنہوں نے مشتعل ہو کر قانون اپنے ہاتھ میں لے لیا مگر کون سا قانون؟ شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ کی خلوت میں لی گئی برہنہ تصاویر کی تشہیر تو جرم ہے لیکن نبی آخر الزماں (جو تمام نبیوں میں رحمت لقب پانے والی ہستی ہے) اس کے خلاف سب دشتم اور دشنام طرازی جرم نہیں بلکہ ایسی مقدس آزادئ اظہار خیال ہے کہ اس کے دفاع اور تحفظ میں سارا استعماری ٹولہ اپنے پالتو کتوں کے ساتھ ایک ارب کلمہ گو مسلمانوں کے خلاف سینہ سپر ہو گیا؟ یہی وجہ ہے کہ پیرس کے چیتھڑے نے ان قزاقوں، رہزنوں، ڈاکوؤں اور لٹیروں کی شہ پا کر ہر ورق پر وہی اشتعال انگیز خاکے شائع کیے اور اس شمارے کی دس لاکھ کاپیاں برائے فروخت بازار میں پہنچا دیں۔ یہ نفرت کے سوداگر اسی کی کمائی کھاتے ہیں۔

 ان کا مقصد آزادئ اظہار ہے یا اشتعال انگیزی؟
جیسا میں نے اوپر کی سطور میں بیان کیا ہے کہ یہ سلسلہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کیونکہ اب بین الاقوامی اشتراکیت تو مغرب کے لیے کوئی ہوّانہیں رہی جس کے ذریعے یورپ اور امریکہ کے ساہو کار اپنے عوام کو ہراساں کر کے ان کا استعمال کرتے رہیں اور ان کے ساجھے دار امریکی جنرل دفاعی بجٹ میں دن دونا رات چوگنا اضافہ کر کے خورد برد کرتے رہیں لہٰذا مغرب کے پالیسی سازوں نے وال سٹریٹ پر قبضہ کرو تحریک سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے ایک نیا خطرہ پیدا کر دیا اور وہ ہے اسلام۔ نیٹو کے سابق سیکرٹری جنرل Javier Solana نے یورپ اور امریکہ کے عیسائیوں کو انتباہ کیا کہ اب معاہدہ اوقیانوس کو اسلام پر نظر رکھنی چاہیے۔ دریں اثنا یورپ کے بیشتر ممالک بالخصوص یونان، اطالیہ، ہسپانیہ کے باشندے کسمپرسی کی زندگی بسر کرنے پرمجبور ہو گئے تھے، خود فرانس کی اقتصادی حالت بڑی خستہ ہوتی جا رہی تھی اور اب بھی اس کی معیشت غیر مستحکم ہے یونان ، اطالیہ اور ہسپانیہ تو جرمنی اور بین الاقوامی مالیاتی بینک IMF کے مقروض ہو گئے اور قرض کا سود ادا کرنا ان کے لیے دشوار ہو گیا۔ ان کا غصہ جرمنی اور امریکہ کے خلاف بھڑک اُٹھا۔

ادھر امریکی عوام اپنے رہن شدہ مکانات کے واجبات ادا نہ کرنے کی وجہ سے اپنے مکانات کی ملکیت سے محروم ہو گئے کیونکہ اقساط پر مکانات فروخت کرنے والی کمپنیوں نے مکینوں کو قرض کی عدم ادائیگی پر بے دخل کرنا شروع کر دیااور وہ سب سڑکوں پر آ گئے۔ حکومت نے ان کی آباد کاری کی بجائے دیوالیہ ہوتی ہوئی FORD اور جنرل موٹرز کمپنیوں کو سہارا دینے کے لیے اربوں ڈالر دیدیے چنانچہ امریکہ میں بیروزگاری کی شرح 10 فیصد سے تجاوز کرنے لگی جس سے زیادہ تر سیاہ فام امریکی عوام متاثر ہوئے جہاں پہلے ہی کالے گوروں میں تصادم جاری تھا جس میں پولیس اور عدلیہ فریق بن گئی۔

یورپ اور امریکہ میں طبقاتی اور نسلی تصادم زور پکڑنے لگا چنانچہ یورپی یونین اور امریکہ کے بااقتدار طبقے نے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے انہیں اسلام سے خوفزدہ کرنا شروع کیا تا کہ ان کا غصہ ان ممالک میں آباد مسلمان تارکین وطن کی طرف منتقل ہو جائے اور اپنی خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے یورپ امریکہ اور اسلامی ممالک میں تشدد اور تخریب کاری کرانی شروع کر دی جس میں ان ممالک کے ضمیر فروش عناصر نے بھرپور تعاون کیا۔

مغربی ممالک کے عوام کے دلوں میں اسلام سے خوف اور نفرت پیدا کرنے میں میڈیا نے اہم کردار ادا کیا ۔ تشدد کی ہرواردات کو اسلام اور مسلمانوں سے منسوب کر کے مذہبی و نسلی تعصب کو ہوا دیتا رہا۔ اس کا پہلا ہدف بوسنیا کی مسلم آبادی بنی جس کی نسل کشی میں عیسائیوں نے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ نیٹو نے بڑی تاخیر اور بے دلی سے فوجی مداخلت کی۔ اس واردات سے قبل سلمان رشدی نے شیطانی آیات کے نام سے اپنی تصنیف میں قرآن، قرآنی آیات اور پیغمبر اسلام کی ناقابل برداشت توہین و تضحیک کی جس سے مسلمانوں میں بیجا طو رپر شدید ردعمل ہوا لیکن اسے ایک مرتد کی ہذیانی حرکت سے تعبیر کیا گیا لیکن جب برطانیہ کی ملکہ معظمہ نے ملعون سلمان رشدی کو اعلیٰ ترین برطانوی خطاب Knighthood سے نوازا تو پہلی بار یہ انکشاف ہوا کہ یہ کوئی انفرادی فعل نہ تھا بلکہ اس کی پشت پر برطانیہ عظمیٰ (جواب برطانیہ صغریٰ ہو گئی ہے) کا ہاتھ تھا۔ 

اس کے بعد یہ سلسلہ چل پڑا اور مینڈک کو بھی زکام ہوا کے مصداق ڈنمارک کو بھی یہ جسارت ہو گئی کہ اس کا روزنامہ Jayllans-Posten نے ایک بار نہیں بار بار پیغمبر اسلام ؐ کے تضحیک آمیز خاکے بنائے اور اسے بار بار شائع کیے پھر اس ’شاہکار‘‘ کو یورپ کے چودہ اخبارات نے دوبارہ شائع کیا اور چارلی ایبڈو نے تو انتہا کر دی اور اس سے زیادہ ان چالیس ممالک کے حکمرانوں کا اشتعال انگیز فعل ہے جو انہوں نے پیرس کے اس چیتھٹرے تضحیک آمیز خاکوں کو آزادئ اظہار خیال قرار دیا۔ لیکن بابائے روم فرانسس نے حق اور انصاف کی بات کی ہے کہ آزادئ اظہار خیال کی حدود میں اگر میرا اپنا دوست میری ماں کو گالی دے تو میں اس کے منہ پر مکارسید کروں گا۔

آزادی تقریرو تحریر مذاہب کے احترام پرمبنی ہونی چاہیے۔ ڈان 16جنوری 2015ء
ہم بابائے روم کی حق گوئی اور جرأت کو سلام کرتے ہیں جنہوں نے پیغمبرا سلام کی اہانت کی ہمت شکنی کی ہے لہٰذا عالم اسلام کے علماء کو ان کے اور دیگر مذاہب کے پیشواؤں سے مل کر ایک ضابطہ اخلاق مرتب کرنا چاہیے جس میں تمام مذاہب کے عقائد اور ان کے پیغمبروں کے خلاف تضحیک، توہین ممنوع قرار دے دی جائے۔

پروفیسر شمیم اختر
"بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات

No comments:

Powered by Blogger.