Header Ads

Breaking News
recent

کیا ہم تیل کے جاری بحران سے نکل پائیں گے؟...

دوسرے تیل برآمد کرنے والے ممالک کی طرح سعودی عرب بھی یومیہ بنیادوں پر اپنی آمدنی کے پچاس فی صد کے نقصان سے دوچار ہو رہا ہے۔ خسارے کا یہ سلسلہ اس وقت سے جاری ہے جب سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمت فی بیرل کے حساب سے ساٹھ ڈالر نیچے آ گئی ہے۔ یہ دھچکا وقتی ہے۔ سعودی حکومت اتنی دولت مند ہے کہ اس کمی کا آسانی سے مداوا اور بعض اخراجات کم کرتے ہوئے سٹاک مارکیٹ کو کم سے کم متاثر ہونے دے اور بالآخر جاری بحران سے نکل جائے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ ختم نہیں ہو گیا، بلکہ اس مسئلے کو ابھی شروع ہونا ہے۔ یہ مسئلہ جس کا ان دنوں شور ہے ایک دن از سر نو ابھر کر آٗئے گا۔ اسے آپ پیش گوئی نہیں سمجھیں بلکہ یہ ایک درپیش صورتحل کا حقیقی کا مطالعہ ہے۔ منطقی طور پر سوچیں ہم اس پوزیشن میں ہوں گے اگر تیل کی قیمتیں تیس ڈالر نیچے تک گر جائیں تو ہم مقابلہ کر سکیں۔۔ یہ صورت حال ایک عشرہ یا اس سے زیادہ دیر تک جاری رہی تواسے برداشت کیا جانا ہوگا۔

اس تناظر میں حکومت کی آمدنی ریاستی ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے کافی نہ ہوگی۔ ایسی صورت میں عوام کو چاولوں، روٹی ، پانی، بجلی، جامعات کے لیے فنڈز کی فراہمی جاری رکھنا، ہسپتالوں کے لیے وسائل کی فراہمی اور ٹرانسپورٹ کے لیے وسائل دستیاب کرنا مشکل ہو جائے گا۔ تب حکومت کو اپنی معاشی جمع پونجی بروئے کار لاتے ہوئے اپنے مقامی قرضوں کو بڑھانا ہو گا۔ اس صورت حال کے پیش نظر بھاری بنک کھاتوں سے اپنی رقومات غیر ملکی بنکوں میں منتقل کرنا ہوں گی۔

خطرے کی گہری کھائی

لہذا ہمیں سوچنا یہ ہے کہ ہمیں اس وقت کا انتظار کرنا ہے کہ ہم خطرناک کھائی کے کنارے تک پہنچ جائیں یا اصلاحات کا اہتمام کریں۔ کیا اصلاحات کاری کے لیے یہ بہترین وقت نہیں ہےکہ موجودہ صورت حال میں ایک مستحکم سیاسی ما حول حکومت کو اپنے ارگرد میسرہے، جبکہ حکومت کے پاس کھربوں ڈالر کی بچت بھی موجود ہے۔

حالیہ ہفتوں میں تیل کی قیمتیں مارکیٹ میں کم ہونے سے پیدا شدہ بحران سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اقدامات قابل قبول حکمت عملی کہے جا سکتے ہیں۔ لیکن یہ اپنی جگہ حقیقت ہے کہ یہ اقدامات وقت گذاری یا یوں کہہ لیجیے کہ اچھے وقت کے انتظار میں کیے گئے اقدامات ہیں۔ یہ اس لیے کیے گئے اقامات بہرحال نہیں ہیں کہ تیل کی منڈی میں بہتری آئے اور منڈی میں تیل کی قیمت پھر سے ایک سو ڈالر تک واپس آ جائے۔ یہ امکان نہیں ہے کہ تیل کے حوالے سے موجودہ فیصلہ دوسرے کئی محرکات کی وجہ سے کئی سال تک برقرار رہ سکے۔ اس ماحول میں سعودی عرب جو سالانہ دو سو تیس بلین ڈالر سالانہ کا بجٹ رکھتا ہے کا بجٹ مستقبل میں ایک سو ارب ڈالر یا اس سے بھی کم حجم کے برابر آ سکتا ہے۔

میری دانست کے مطابق اس کمتر رقم کے ساتھ ریاست کو چلانے کے لیے انتہائی بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں کرنا ضروری ہوں گی۔ اس تناظر میں بہترین خبر جو سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی میں کمی ہے۔ میں یہ طنزیہ طو­­ر پر نہیں کہہ رہا یہ صورت حال ہمیں تباہی کے خطرے کو سمجھنے میں مدد دے گی کہ ایسا سوچنے میں تاخیر نہ کی جائے۔ واقعہ یہ ہے کہ تیل کے وسیع ذخائر نے ہماری ہماری آج اور آنے والے کل کے بارے میں منصوبہ بندی کرنے کی صلاحیت کو کمزور کر دیا ہے کہ ہم تیل سے ہٹ کر اپنے مستقبل کو کیوں کر تشکیل دے سکتے ہیں۔ تیل سے حاصل ہونے والی یہ آسان امدنی ہمارے لوگوں کے بہترین اطیمنان کا ذریعہ بن کر گئی ہے

دولت کی اہمیت اس کے علاوہ کیا ہو سکتی ہے کہ اگر اسے معاشرے کی تعمیر پر خرچ کیا جائے اور تیل کی آمدنی یا تیل سے کم آمدنی کے بغیر بھی اپنے پاوں پر کھڑا کیا جا سکے۔ کیا ہم میں سے کوئی ایسا ہے جو تجویز کر سکے کہ روزمرہ کی خدمات کے لیے کیسے خرچ کیا جائے جب معاشی ذخائر ختم ہو جائیں اور تیل کی قیمتیں کم ہی ہوتی جار رہی ہوں۔ کون ہو سکتا ہے جو ہمیں اس امر پر قائل کرے کہ ہم اس تناظر میں سیدھے راستے پر ہیں کہ ہمارا مستقبل کیا ہو گا۔ انتظامی اسلوب یہ ہونا چاہیے کہ ہمارے حکام کو زیادہ ذمہ دار ہونا چاہیے اور اگر کوئی ناکام ہو تو اسے سختی کے ساتھ جوابدہ بنایا جائے۔

بہت سے کامیاب اور دولتمند ممالک تیل کی بنیاد پر امیر نہیں ہیں۔ ان میں جنوبی کوریا، سنگا پور، ملائیشیا اور فن لینڈ اہم ہیں۔ اس ناطے بہت سارے عرب ملک اہلیت کے معیار پر نہیں ہیں کہ انہوں نے خود کو تیل ایسے آسان ذرائع کا عادی بنا رکھا ہے۔ فرق کو دیکھا جائے تو یہ ہر فرد کے حوالے سے ہے۔ مثال کے طور پر شہزادی نورا بنت کی تعمیرات ہیں۔ یہ سستی اور مفت کی دولت کا حوالہ ہیں۔ 

سعودی دارالحکومت ریاض میں عبدالرحمان یونیورسٹی برطانوی کیمبرج یونیورسٹی سے زیادہ پر آسائش ہے، لیکن پہلے والی جامعہ کے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ عام طور پر محض استاد بنتے ہیں۔ ان فارغ التحصیل ہونے والوں کی اکثریت گھروں میں جا کر بے روزگاروں کی صورت میں بیٹھ جاتی ہے۔
اس لیے آمدنیوں کے نیچے آنے کا تقاضا ہے کہ بہت ساری چیزوں کو نئے سرے سے دیکھا جائے۔

 تیل کے ذخائر کے بندش یا تیل کی قیمتوں میں کمی کے موجودہ رجحان کے ایک عشرے سے طویل ہو جانے کی صورت میں ریاست اپنے زیادہ تر لوگوں کی ضرویات پورا نہ کر سکے گی۔ اگرچہ تب تک ملک کی آبادی، روزگار کے چاہنے والوں اور صحت کی سہولیات چاہنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو چکا ہو گا۔ اس لیے یہ لازمی طور پر ریاستی اہلیت کا امتحان ہے کہ ملکی نظام کو ایک سو ارب ڈالر سے کم کے بجٹ کے ساتھ چلانے کی پوزیشن میں ہو۔

عبدالرحمان الراشد

No comments:

Powered by Blogger.