Header Ads

Breaking News
recent

برطانیہ کے عظیم رہنما ’’ونسٹن چرچل‘‘ اسلام قبول کرنے والے تھے

برطانیہ کو نازیوں اور روس کے پنجوں سے نجات د لانے والے عظیم برطانوی رہنما ونسٹن چرچل کے خاندان نے انکشاف کیا ہے کہ ونسٹن نہ صرف اسلام سے متاثر تھے بلکہ وہ اسلام بھی قبول کرنے والے تھے۔

برطانوی اخبار میں ونسٹن چرچل کی بھابی لیڈی گینڈولائن بیرٹائی کے شائع ہونے والے خط نے تہلکہ مچادیا ہے جس میں انہوں نے ونسٹن چرچل کے اسلام کے حامی ہونے اورمستقبل میں اسلام قبول کرنے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ اگست 1907 میں ونسٹن چرچل کو لکھے گئے خط میں انہوں نے ونسٹن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’پلیز آپ اسلام قبول مت کریں کیونکہ میں نے مشاہدہ کیا ہے کہ آپ مسلمانوں بالخصوص ترک حکمرانوں سے بہت متاثر ہورہے ہیں اورآپ کے جذبات پر اسلام کا غلبہ دیکھ رہی ہوں اور اگر آپ نے اسلام قبول کرلیا تو یہ اس سارے عمل کر سبوتاژکردے گا جس کے خلاف آپ جنگ کرتے رہے ہیں‘‘۔
خط میں اس بات کا بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ونسٹن چرچل پر اسلام کے اثرات ان کے دوست اور شاعر ولفریڈ بلنٹ کی وجہ سے تھے جو مسلمانوں کے زبردست حامی تھے اور جب وہ عام محفل میں ہوتے تو عرب لباس زیب تن کرتے۔ خط میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ونسٹن نے چونکہ سوڈان اور بھارت میں جنگیں کی تھیں اس لیے انہیں مسلم علاقوں کا خاصا تجربہ تھا۔ خط میں اس بات کا بھی اعتراف کیا گیا ہے کہ چرچل نہ صرف اسلام اور عیسائت کو برابر کا احترام دیتے تھے بلکہ وہ سلطنت عثمانیہ کی فوجی طاقت اور اس کے پھیلاؤ کو بھی زبردست خراج تحسین پیش کیا کرتے تھے۔ اکتوبر 1940 میں جب برطانیہ نازیوں کے خلاف برسر پیکار تھا اس وقت ونسٹن چرچل نے وسطی لندن میں مسجد کی تعمیر کے لیے ایک لاکھ پاؤنڈز مختص کئے تاکہ وہ ان مشکل حالات میں مسلمانوں کی حمایت حاصل کرسکیں۔

واضح رہے کہ اس خط کا انکشاف ایک برطانوی مصنف ڈاکٹر ڈوکٹر نے اپنی کتاب ’’ونسٹن چرچل اینڈ اسلامک ورلڈ‘‘ کی ریسرچ کے دوران کیا ہے جو جلد منظر عام پر آجائے گی

No comments:

Powered by Blogger.