Header Ads

Breaking News
recent

کیا تھر میں بھی دہشت گرد گُھس گئے ہیں؟....


تھر میں بچوں کی ہلاکتوں اور خشک سالی کی وجہ سے مقامی آبادی کو درپیش مسائل کے حل کے لیے پاکسان کے انسانی حقوق کے ادارے نے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی ایک ٹیم تھر کے دورے کے بعد جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’کمیشن کو اس بات کا مکمل احساس ہے کہ اتنے مختصر دورے میں تھر کو درپیش پیچیدہ صورتحال کا کوئی حتمی تجزیہ نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم کمیشن تھر کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین، مروں اور سماجی کارکنوں کا مشکور ہے کہ انھوں نے ہمیں اپنے تجربات سے مستفید ہونے کا موقع دیا۔

اس کے علاوہ کمیشن ذائع ابلاغ کا بھی معترف ہے کہ انھوں نے تھر میں بچوں کی ہلاکتوں کے مسئلے کو اجاگر کیا۔اس سے نہ صرف تھر میں خشک سالی بلکہ اس علاقوں کو درپیش دیگر مسائل بھی منظر عام پر آئے ہیں۔

بیان کے مطابق ’تھر کے لوگوں کے مسائل بہت پیچیدہ ہیں اور مکانوں اور ہسپتالوں میں بچوں کی اموات ان مسائل کا صرف ایک پہلو ہیں۔ بچوں کی زیادہ شرح اموات دراصل ایک دیرینہ مسئلہ ہے اور اس کی وجہ خوراک کی کمی نہیں بلکہ ایسے مسائل ہیں جن پر ایک مدت سے توجہ نہیں دی گئی۔

ان عوامل میں خوراک کی مسلسل فراہمی کا نہ ہونا، صاف پینے کے پانی کی کمی صفائی ستھرائی کا فقدان، خواتین کی ناخواندگی اور انھیں خاندانی منصوبہ بندی کا شعور نہ ہونا شامل ہیں۔ ان عوامل نے غربت، چھوٹی عمر کی شادیاں، زچہ و بچہ کی صحت کے مراکز کا دور ہونا، بنیادی صحت کے مراکز کے غیر موثر ہونے اور ہر آفت کو قسمت سمجھ کر بھول جانے جیسے مسائل کی وجہ سے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

ایچ آر سی پی کے مطابق اس کے علاوہ تھر میں متوسط طبقے کی کمی کی وجہ سے ان کے مسائل کو اجاگر کرنے والے افراد کی بھی کمی رہی ہے جس کی وجہ سے تھر کے لوگوں کو اپنے بنیادی مسائل کی جانب توجہ دلانے کے لیے بھی غیر مقامی لوگوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ خشک سالی ایک قدرتی مسئلہ ہے جس کا تھر کو بار بار سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بہتر اور پیشگی منصوبہ بندی سے اس کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ یہاں کے لوگوں کا خیال ہے کہ حکومت نے خشک سالی سے نمٹنے میں ان کی خاطر خواہ اور بروقت مدد نہیں کی اور جن لوگوں کو یہاں امدادی سامان پہنچانے کی ذمہ داری دی گئی تھی انھوں نے اپنے منافعے کو اس ذمہ داری پر ترجیح دی۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تھر کا ایک بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ یہاں کی معیشت اور وسائل اب بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے ناکافی ہو چکے ہیں۔
’اگرچہ یہاں خوراک کی طلب میں خاصا اضافہ ہو چکا ہے لیکن رسد میں یا تو کوئی اضافہ نہیں ہوا اور یا اس میں کمی آ گئی ہے۔ آبادی میں اضافے کی وجہ سے اب زراعت اور مال مویشیوں رکھنا معاشی طور پر مشکل ہو گئے ہیں۔

ہیومن رائٹس کمیشن کے مطابق ان مسائل کے علاوہ تھر کو بھی ایسے ہی مسائل کا سامنا ہے جس سے پاکستان کے دیگر علاقوں کے لوگ پریشان ہیں۔
’یہاں کی پولیس بھی بدعنوان ہے، انتظامیہ کی کارکردگی خراب ہے اور سیاسی جماعتیں لوگوں کے مسائل پر توجہ نہیں دیتیں۔ تھر کے لوگ بھی مقامی ساہوکاروں سے لیے ہوئے قرضوں میں جکڑے ہوئے ہیں اور موبائل فون اور موٹر سائیکل جیسی جدید چیزوں کی مانگ میں اضافے کی وجہ سے ان پر قرضوں کا بوجھ مزید بڑھ چکا ہے۔

بیان میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کا کہنا تھا کہ تھر میں پانی، سڑکوں، صحت اور بچیوں کی تعلیم کے مسائل حل کرنے کے لیے طویل مدتی اور ہمہ جہت حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

No comments:

Powered by Blogger.