Header Ads

Breaking News
recent

دنیابھر میں نسل پرستی کے خلاف لازوال جدوجہد کی علامت : نیلسن منڈیلا.....


اُن کااندازِ سیاست جُداگانہ، مساعی غیر متزلزل اور مفاہمت وعاجزی شخصیت کے درخشاں پہلوتھے  

عظیم نیلسن منڈیلا1918ء کو جنوبی افریقہ کے مشرقی علاقے کے ایک چھوٹے اور نامعلوم گائوںمیںپیدا ہوئے۔لیکن 95برس بعد دسمبر 1913ء کو جب اُن کے جسدِ خاکی کو آبائی قصبے ’’کونو‘‘کی طرف لے جایاجارہا تھا تو پوری دنیا کے لیے وہ نامعلوم گائوں،نامعلوم نہیںرہا تھا۔اُس وقت عقیدت مندوں کی ایک بڑی تعداد جمع تھی ،اُن کا آخری دیدار ایک لاکھ سے زائد افراد نے کیا ۔بعض لوگ اُن کے آخری دیدا ر کے لیے کئی کئی گھنٹے قطار میںلگ کر اپنی باری کا انتظار کرتے رہے ،تب کہیںجا کر دیدار نصیب ہوا ۔اُن کی موت کے دن دنیاسوگوار تھی،کئی ممالک کے پرچم سرنگوں تھے،اُس دن جنوبی افریقہ کی عوام اور حکومت نے بے شمار تعزیتی پیغامات دنیا بھر سے موصول کیے ۔اُنہیں پیدائش کے وقت رولیھلاہلا کا نام دیا گیا ،اُن کے ایک اُستاد نے انہیں نیلسن کا نام دیا اور جنوبی افریقہ میں احترام کے طور پر’’مادیبا‘‘کے نام سے یاد کیا جاتا ہے،یہ اُن کا خاندانی نام بھی تھا۔ 9برس کی عمرکے تھے ،جب والد چل بسے۔ نیلسن منڈیلا نے 1943ء کواپنی جدوجہد کا آغاز بطور ایک کارکن کے ا فریقی نیشنل کانگریس (اے این سی)میں شمولیت سے کیا۔اے این سی کاقیام نیلسن منڈیلا کی پیدائش سے قبل 1912ء کو عمل میںآچکا تھا۔
کارکن کی حیثیت سے اپنی جدوجہد کی شروعات کرنے والے عظیم نیلسن منڈیلا جلد ہی اے این سی کے رُوحِ رواں بن گئے۔اُنہوںنے اس تحریک کو عوامی تحریک میں تبدیل کر کے رکھ دیا۔1944ء میں اُن کی پہلی شادی ایویلن میسی سے ہوئی ۔جس سے تین بچے ہوئے۔مگر یہ ازدواجی زندگی کامیاب نہ رہی اور 1957ء کو دونوں میں علیحدگی ہوگئی۔1952ء میںاُنہوںنے وکالت شروع کردی۔وہ قانون کی تعلیم حاصل کر چکے تھے۔اُنہوں نے اپنے دوست تیمبو کے ساتھ مل کر اُس نظام کے خلاف جدوجہد شروع کر دی جو نسل پرستی پر مشتمل تھا۔یہ نظام سفید فام افراد کی حامل جماعت نیشنل پارٹی کا ترتیب دیا ہوا تھا۔جب 1948ء میںنیشنل پارٹی برسرِ اقتدار آئی تو اُس وقت نسل پرستی کو بھی قانونی درجہ مل گیا ،اُس انتخاب میں سیاہ فاموں کے نہیں محض سفید فاموں کے افراد نے ووٹ ڈالے تھے۔نسل پرستی پر مشتمل مذکورہ نظام نے سیاہ فاموںکی زندگیوں کو اجیرن بنا رکھا تھا ،سیاہ فام نسل کا ہر حوالے سے استحصال جاری تھا۔
نیلسن منڈیلا کے نزدیک جنوبی افریقہ اُن سب کا ہے جو اس کے باسی ہیں ۔سیاہ فام نسل کے حقوق کے لیے اُن کی جدوجہد سفید فاموں کو قطعی گوارا نہیںتھی ۔وہ 1956ء کا برس تھا جب اُن پر پہلی بار غداری کا الزام لگا۔غداری کے الزام کے دو برس بعد یعنی 1958ء کو اُنہوں نے دوسری شادی کی ۔1960میں اے این سی پر پابندی لگا دی گی ،سفید فاموںکے نزدیک یہ جماعت دہشت گرد تھی۔حکمران جماعت کی طرف سے اے این سی کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جانے لگی ۔اُسی برس جب پولیس کے ہاتھوںستر کے قریب سیاہ فام مارے گئے تو نیلسن منڈیلا کی عوامی جدوجہد میںشدت آگئی ۔ بعدازاں اُنہیں گرفتار کر لیا گیا اور 1964ء میںبغاوت کے الزام میں عمر قیدسزا سنادی گئی ۔قید کے دوران بھی اُن کی جدوجہد تھم نہ سکی۔وہ اگرچہ پابندِ سلاسل تھے مگر نوجوان نسل اُن کے پیغام اور جدوجہد کو سہارا دیے ہوئے تھی ،اُنکا مشن جاری رہا یہ آزادی کامشن تھا ،نسل پرستی سے آزادی کامشن۔سیاہ فام نوجوان سفید فاموں کے خلاف صف آرا رہے۔
نیلسن منڈیلاکے دوست تیمبو جن کے ساتھ مل کر جدوجہد کا آغاز کیا گیا تھا،اُن دنوں جلاوطنی کی زندگی بسر کر رہے تھے مگر وہ جلاوطن ہو کر بھی نیلسن منڈیلا کو سلاخوں سے باہر لا نے کے جتن کرتے رہے ۔نیلسن منڈیلاجب قید میں تھے تو یکے بعد دیگرے اُن کی ماںاور بیٹے نے وفات پائی ،مگر اُنہیں، دونوںکی آخری رسومات میںشرکت کی اجازت نہ دی گئی۔ایک ایسا شخص جس کا جرم محض نسل پرستی کے تعصب سے دنیا کو آزاد کروانا تھا،وہ قید تھا اور اُس کی ماں اور بیٹے نے دنیا کو خیر باد کہہ دیا،مگر وہ اُن کے آخری رسومات میںشرکت نہ کرسکا۔ایسے جان لیوا دُکھوںنے بھی اُن کے عزم کو کمزور نہیں ہونے دیا ۔وہ قید میںرہے ،وقت گزرتا رہا ،سیاہ فام نوجوان نسل پرستی کے نظام کے خلاف صف آرا رہے اور 1990ء کا برس آن پہنچا۔

افریقی نیشنل کانگریس پر پابندی ختم ہوئی اور نیلسن منڈیلا کوآزادی ملی۔عظیم نیلسن منڈیلا نے 27برس کا طویل عرصہ قید میںگزارا،یہ قید اُنہیںجنوبی افریقہ میں نسل پرستوںیعنی سفید فام حکمرانوں سے آزادی کے جرم میں دی گی تھی ،جب باہر آئے دنیابدل چکی تھی۔عظیم کامیابی اُن کا مقدر بننے کے لیے بے تاب تھی۔1993ء میںاُنہیں امن کے نوبل انعام کاحق دار ٹھہرایا گیا۔ایک برس بعد 1994ء میں جنوبی افریقہ کی تاریخ میں پہلی بار جمہوری طرز کے انتخابات کا انعقاد ہوا۔وہ پہلی بار سیاہ فام صدر منتخب ہوئے۔

اُس دن نسل پرستی کی لعنت بہت پیچھے رہ گئی۔مساوات ، برابری اور مفاہمت کو فتح ہوئی ۔اُس دن سفید فام دنیا نے دیکھا کہ ایک سیاہ فام جنوبی افریقہ کی تاریخ میں پہلی بار مسندِ اقتدار پر فائز ہو چکا ہے ۔نسل پرستی کا خاتمہ ہو چکا تھا ۔اقتدار میں آنے کے بعد اُنہوں نے معافی اوردرگزر سے کام لیا۔ 1992ء میں جب وہ آزاد ماحول میں زندگی بسر کررہے تھے ،اپنی دوسری بیوی کو طلاق دے دی اور بعد ازاں جب وہ اپنے عمر کے اسی برس کو پہنچے تو اُنہوں نے موزمبیق کے سابق صدر کی بیوہ سے شادی کی ۔اگر دیکھاجائے تو عظیم رہنما کی زندگی کا ازدواجی پہلو کوئی کامیاب نہیں تھا۔نیلسن منڈیلا کی شخصیت میں ایک ایساکرزمہ تھا ،جس میں عاجزی اور بے نیازی کی دولت تھی۔اُن کی زندگی کا ہر لمحہ مقصد کے تابع تھا ،نسل پرستی کی زنجیریںتوڑنااُن کا اولین مقصدِ حیات تھا جس میں وہ بے شمار مصائب برداشت کرنے کے بعد کامیاب ٹھہرے۔

اُن کااندازِ سیاست بھی جُداگانہ تھا ،وہ صحیح معنوں میں ہردل عزیز سیاسی رہنماتھے۔ جدوجہد ،مفاہمت ،رواداری اور برداشت اُن کی سیاست کے ہتھیار تھے۔اُن کی مساعی غیر متزلزل تھی۔اُن کی شخصیت سب کے لیے قابلِ قبول درجے کو پہنچی۔جہاں جنگیں جاری تھیں وہاںاُنہوں نے اپنا امن پیغام پہنچایا۔اَمن مذاکرات میںاُن کی خدمات قابلِ ستائش رہیں ،کئی اُلجھے افریقی تنازعات کوسلجھانے کے لیے وہ خدمات سرانجام دیتے رہے۔وہ 1999ء میںصدارت سے الگ ہونے کے بعددنیا کے خطر ناک مرض ایڈز کے خلاف کمربستہ ہوگئے ۔اُ ن کی مساعی سے ایڈزکے خلاف آگاہی مہم کامیاب رہی۔2010ء میںفٹ بال کا عالمی کپ جنوبی افریقہ میں ہوا۔اُس وقت نیلسن منڈیلا 92برس کے تھے ۔اُس عمر میںبھی اُن کی جدوجہد جاری تھی ، جنوبی افریقہ میںفٹ بال کے عالمی مقابلے کے انعقاد کے لیے اُن کا کردار بھی شامل تھا۔2004ء میں اُنہوں نے اپنے خاندان کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا اعلان کیا۔وہ آزاد جمہوری سماج کے متمنی تھے۔اقتدار میںآنے کے بعد اُنہوںنے مثالی حکمرانی کاثبوت دیا۔

اُنہوں نے سیاہ فام اورسفید فام نسل کے مابین فاصلوںکو سمیٹنے کے لیے کئی اصلاحات کیں ۔سیاہ فام جو نسل در نسل محرومی اور کم مائیگی کے احساس میں مبتلا ہوچکے تھے ، اُن کے لیے اُنہوںنے محرومی کے احساس کے خاتمے کے لیے نئے منصوبوں پر کام کیا،ایسے منصوبے جوسیاہ فام نسل کو کم مائیگی کے احساس سے نکال کر احساسِ تفاخر کا ادراک مہیا کریں۔وہ جب اقتدار سے الگ ہوئے تو سماجی انصاف کی تکمیل اور بیماریوںکے خلاف مہم میں لگ گئے ۔وہ شخصی آزادی اور برابری کے سرخیل تھے۔آج اُنہیںکی جدوجہد سے جنوبی افریقہ کے لوگ آزادی کے احساس سے آشنا ہیں۔نیلسن منڈیلا نے اپنے لیے کانٹوںبھرے راستے کو چُنا تھا۔زندگی کے 27برس قیدو بندکی صعوبتیںسہنا کوئی آسان امر نہیں ۔ایسی قید جسے مکمل تنہائی کی قید بھی کہا جاسکتا ہے۔نیلسن منڈیلا جب پیدا ہوئے دنیاپہلی جنگِ عظیم میںہانپ رہی تھی ۔

اُسی برس جنگ تو تھم چکی تھی مگر اُس کے سماجی ،معاشی اور اخلاقی اثرات آنے والے کئی برسوںتک برقرار رہے ۔پھر جس وقت اُنہوں نے ایک کارکن کی حیثیت سے افریقی نیشنل کانگریس میںشمولیت اختیارکی دنیا اُس وقت دوسری جنگِ عظیم کی لپیٹ میںتھی۔اُس وقت ہزاروں یالاکھوںنہیں بلکہ کروڑوںافراد لقمہ اجل بنے۔نیلسن منڈیلا کی جُدوجہد پُراَمن تھی۔وہ نسل پرستی کا خاتمہ کرکے سیاہ فاموںکواُن کی پہچان دینا چاہتے تھے ۔نسل پرستی کے اُس معاشرے میں جس کی جڑیںدُور تک تھیں ، یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔اسی جدوجہد کی وجہ سے سفید فاموںنے اُنہیں دہشت گرد کہا ۔ مقصد کی خاطر اپنے سے بڑی قوتوں کے وضع کیے گئے نظام سے ٹکرا جانا اور پھر مقصد کو پالینا عظیم ترین جدوجہد کا نتیجہ ہی ہوسکتا ہے ۔

احمد اعجاز

 .

No comments:

Powered by Blogger.