Header Ads

Breaking News
recent

پاکستانی نوجوانوں میں کتب بینی کا کم ہوتا شوق....

پاکستان جیسے ملک میں جہاں کتاب پڑھنے کا کلچر پہلے ہی کم تھا اب جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے مزید کم ہوتا جا رہا ہے اور نوجوان نسل لائبریریوں کی جگہ گیمنگ زون اور ہاتھوں میں کتاب کی جگہ موبائل فونز، ٹیبلیٹ، آئی پیڈ اور لیپ ٹاپ تھامے نظر آتی ہے ۔ اگرچہ نجی سطح پر کتب میلوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے، تاہم ان میلوں میں بھی نوجوان کتابیں خریدنے سے گریزاں نظر آتے ہیں ۔ ’’کتاب بہترین دوست ہے‘‘‘ کی پرانی کہاوت کو ٹیکنالوجی کی نئی لہر نے تبدیل کرکے ’ موبائل فون بہترین دوست ‘ میں تبدیل کر دیا ہے، اور وہ نوجوان جو پہلے اپنا وقت کتب بینی میں گزارتے تھے اب وہی وقت جدید آلات اور انٹرنیٹ پر سرفنگ میں ضائع کر رہے ہیں۔

کتب بینی کے رجحان میں کمی کا ایک اہم سبب ہمارا تعلیمی نظام اور تدریسی نظام کی دن بہ دن گرتی ہوئی صورت حال ہے۔ اگرچہ جدید ٹیکنالوجی سے تعلیم کی شرح میں اضافہ ضرور ہوا ہے، لیکن اس سے کی بدولت کتب بینی کی شرح بھی گرگئی ہے۔ نئی نسل میں کتاب پڑھنے کی عادت کو فروغ دینے کے لیے والدین کو بچوں پرخصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے، جن افراد کو ان کے والدین نے بچپن میں کتاب پڑھنے کی عادت ڈالی تھی وہ اب تک کتابوں کے رسیا ہیں۔ دوسری طرف جدید ٹیکنالوجی کے حامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ بات کہنا بالکل غلط ہے کہ کتب بینی کے کلچر میں ٹیکنالوجی کی بدولت کمی واقع ہوئی ہے۔

ایسا ہرگز نہیں ہے بس روایتی طور پر چھپی ہوئی کتاب کی جگہ آپ کے ٹیبلیٹ یا موبائل میں موجود ’ای بک‘ نے لے لی ہے۔ اور اب مسابقت کی اس تیز رفتار دوڑ میں کسی کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ بازار جاکر اپنا قیمتی وقت اور پیسہ اُس کتاب کو خریدنے پر ضائع کرے جو انٹرنیٹ پر اسے برقی شکل میں مفت اور بہ آسانی دست یاب ہے۔ پاکستان میں کتاب کلچر کے رجحان میں کمی کا سبب عوام خصوصاً نوجوانوں میں کتب بینی کے متعلق شعور کا نہ ہونا اور کتابوں کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافہ بھی ہے۔
 یہی وجہ ہے کہ ماضی میں کتابوں کے جو بازار اور دکانیں خریداروں سے بھری رہتی تھی اب اُن پر اکا دُکا گاہک ہی دکھائی دیتے ہیں۔
کتاب کسی بھی معاشرے کو مہذب، تعلیم یافتہ، تحمل مزاج بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور نوجوان نسل میں کتب بینی کی کم ہوتی عادت کے معاشرے پر نہایت غلط اثرات مرتب ہوں گے۔ صدیوں پرانے ختم ہوتے اس کلچر کو ازسرِ نو بحال کرنے کے لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ باقاعدہ مہم کے ذریعے نوجوانوں کو کتاب کی اہمیت و افادیت سے روشناس کرائے، قیمتوں میں کمی کے لیے اقدامات کرے اور نئی لائبریریوں کا قیام عمل میں لائے۔

ترقی یافتہ ممالک نئی نسل کو کتاب کی جانب مائل کرنے کے لیے کئی اقدامات کر رہے ہیں، کچھ مغربی ممالک میں فون بوتھ، عوامی اور تفریحی مقامات پر کتابیں رکھی گئی ہیں، جہاں آنے والے افراد بلامعاوضہ اپنی پسندیدہ کتاب کو پڑ ھ سکتے ہیں۔ پاکستان میں کتب بینی کے فروغ کے لیے بھی ایسے ہی اقدامات کی ضرورت ہے۔

کتب بینی کے چند فوائد

بہت سے لوگ مطالعے کو محض ایک مشغلہ سمجھتے ہیں۔ لیکن حال ہی میں ہونے والی کئی تحقیقی مطالعوں سے یہ بات سامنے آچکی ہے کہ مطالعے کی عادت رکھنے والے افراد میں الزائمر (ایک دماغی بیماری) میں مبتلا ہونے کے امکانات مطالعہ نہ کرنے والے افراد کی نسبت ڈھائی گنا کم ہوتے ہیں۔ ماہر تعلیم  نے اپنے تحقیقی مطالعے میں لکھا ہے کہ باقاعدگی سے کتب بینی کرنے والے افراد نہ صرف روزانہ کوئی نہ کوئی نئی بات سیکھتے ہیں، بل کہ ان کی معلومات اور ذہانت کا معیار بھی دیگر افراد کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔

محقق کرسٹل رسل اپنے تحقیقی مقالے میں لکھتے ہیں کہ مطالعہ آپ کا ذہنی تناؤ ختم کرکے آپ کی پُرسکون فیصلہ کرنے کی صلاحیت کو جلا بخشتا ہے۔ اچھی کتاب پڑھنے سے آپ کے ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ اور سوچنے کی صلاحیتوں میں بہتری آتی ہے۔ امریکا کی یونیورسٹی آف بفالو کی تحقیق کے مطابق فکشن بُکس پڑھنے سے دوسروں کی نفسیات کو سمجھنے میں کافی مدد ملتی ہے ۔ اور آپ بہ آسانی اپنے مخاطب کے احساسات اور جذبات کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔

بچوں میں مطالعے کی عادت ڈالنا کیوں ضروری ہے؟

٭دن میں 15منٹ کا مطالعہ بچوں کے ذخیرہ الفاظ میں سالانہ دس لاکھ سے زاید لفظوں کا اضافہ کرسکتا ہے۔

٭آمنے سامنے بیٹھ کر مطالعے کرنے والے بچوں کا آئی کیو لیول دوسرے بچوں کی نسبت 6پوائنٹ زیادہ ہوتا ہے۔

٭بنیادی تعلیم حاصل نہ کرنے والے بچوں میں اسکول سے بھاگنے کی شرح مطالعہ کرنے والے بچوں کی نسبت تین سے چار گنا زاید ہوتی ہے۔

٭امریکی محکمۂ تعلیم کے ایک سروے کے مطابق مطالعہ کرنے والے بچوں میں اعتماد، یادداشت اور قائدانہ صلاحیتیں زیادہ ہوتی ہیں۔

مطالعے کی عادت کس طرح ڈالیں

٭وقت متعین کریں: ۔اگر آپ مطالعے کی عادت ڈالنا چاہتے ہیں تو دن میں کوئی بھی ایک وقت مقرر کریں اور کم از کم دس سے پندرہ منٹ اچھی کتابوں کا مطالعہ کریں۔ آہستہ آہستہ اس دورانیے میں اضافہ کریں ۔

٭کتاب ہمیشہ ساتھ رکھیں: ۔ایک کتاب ہمیشہ اپنے ساتھ رکھیں اور اگر کہیں آپ کو کسی کا انتظار کرنا پڑے تو اس وقت کو مثبت استعمال کرتے ہوئے مطالعہ شروع کردیں۔

٭ فہرست مرتب کریں: ۔اپنی ان کتابوں کی فہرست مرتب کریں جو آپ پڑھنا چاہتے ہیں اور وقتاً فوقتاً اسے چیک کرتے رہیں۔

٭ جگہ منتخب کریں: ۔مطالعے کے لیے گھر کا سب سے آرام دہ گوشہ منتخب کریں ۔ ٹی وی لاؤنج یا کمپیوٹر روم مطالعے کے لیے موزوں تصور نہیں کیے جاتے۔

٭ بچوں کو پڑھائیں: ۔اگر آپ کے بچے ہیں تو انہیں مطالعے کے دوران اپنے ساتھ رکھیں اور کہانیاں سنائیں۔ اس سے بچوں میں پڑھنے کی عادت پختہ ہوتی ہے۔

٭ادبی تقریبات اور لائبریوں کا وزٹ کریں

٭ادبی تقریبات میں شرکت آپ کے مطالعے کو جلا بخشتی ہے۔ اپنے علاقے میں قائم لائبریری کا دورہ کریں اور وہاں آنے والے نئی کتب کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ لائبریری کتابوں کے حصول کا ایک بہترین اور سستا حل ہے۔

سید بابر علی

No comments:

Powered by Blogger.