Header Ads

Breaking News
recent

اسلامی جمعیت طلبہ کی تاریخ اور جدوجہد کا مختصر خاکہ....

   اسلامی جمعیت طلبہ ‘ وطن عزیز کے پاکیزہ صفت نوجوانوں کے ایسے گروہ کا نام ہے جو گزشتہ 67برسوں سے ملک و قوم کو قیادت کی فراہمی کے ساتھ ساتھ طلبہ کی تربیت و راہنمائی اور تعلیم کو درپیش مسائل کے حل کے لئے ہمہ تن جدوجہد میں مصروف ہیں۔ جمعیت ‘علامہ اقبالؒ کے خوابوں کی تعبیر اور قائد اعظم ؒ کے پیغام کا مظہر ہے ۔گزشتہ نصف صدی میں اس نے ایسی تابندہ روایات ترتیب دی ہیں کہ وطن عزیز سے محبت کرنے والا ہر شخص جمعیت کو بھی احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔ اپنے قیام سے اب تک اسلامی جمعیت طلبہ نے تعلیمی مسائل کے حل کو اپنے ایجنڈے میں سرِ فہرست رکھا ۔ خصوصاََ اسلامی نظام تعلیم کے لئے نمایاں کردار ادا کیا ۔1960ء اور70ء کی دھائیوں میں بننے والے نورخان تعلیمی کمیشن اور حمود الرحمن تعلیمی کمیشن کو اپنی سفارشات پیش کی گئیں۔

جنرل ضیاء الحق کو تعلیمی مسائل کے حل کے لئے میمورنڈم پیش کیا گیا ۔1982ء سے لے کر 96ء تک کا عرصہ مسلسل تعلیم بچاؤ مہم، ہفتہ اسلامی نظام تعلیم ،طلبہ مسائل مہم اور اصلاح نظام تعلیم مہم کی صورت جمعیت تعلیم اور طلبہ مسائل کے حل کے لئے مصروف عمل رہی۔1998ء میں ملک بھر میں 11نکاتی مطالباتی مہم چلائی گئی اور صدر مملکت سے اس سلسلے میں ملاقات بھی کی گئی ۔حال ہی میں تعلیمی اداروں کی نجکاری اور پھر نصاب تعلیم میں شرمناک تبدیلیوں کے خلاف تمام طلبہ اور اساتذہ تنظیموں کے ساتھ مل کر تاریخی احتجاج کیا اور حکمرانوں کو اس بات پر مجبور کیا کہ وہ اپنے تعلیم و طلبہ دشمن فیصلے واپس لیں۔ 2002ء میں ملک بھر میں 182فری ٹیوشن سنٹرز میں 8,350طلبہ کو تعلیمی امداد فراہم کی گئی ۔2005ء میں جب زلزلے نے ملک بھر میں قیامت صغریٰ بپا کردی تھی ، اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنان نے ریلیف آپریشن کے ساتھ ساتھ متاثرہ اضلاع کے ہزاروں طلبہ کے لئے فری اسٹڈی سینٹرز کا آغاز کیا اور ان کا تعلیمی مستقبل تباہی سے بچانے میں کردار ادا کیا ۔

کسی فرد کے نظریات کچھ بھی ہوں لیکن اسلامی جمعیت طلبہ کی تعلیمی خدمات کو کسی صورت فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔یہ بھی اسی کا اعجاز ہے کہ فری کوچنگ سنٹر اور پریکٹیکل سنٹرز کا قیام عمل میںلایا گیا۔تعلیمی اداروں میں خصوصاًجامعات وپروفیشنل تعلیمی اداروں میں طلبہ کو مفت کتب کی سہولت فراہم کی گئی۔ذہین اور باصلاحیت طلبہ وطالبات کی حوصلہ افزائی کیلئے ٹیلنٹ ایوارڈز کا اہتمام بھی اس کی خوبصورت روایت بن چکا ہے۔طلباء وطالبات میں ذوق کتب بینی کو پروان چڑھانے اور معیاری سستی کتب تک آسان رسائی کیلئے تعلیمی اداروںمیں’’کتب میلہ اور کمپیوٹر نمائش‘‘کا اہتمام کرنے کی روایت کا اعزاز بھی جمعیت کو ہی جاتاہے۔

تعلیمی اداروں میں ماہرین تعلیم کے لیکچرز اور ورکشاپس کا انعقاد کرنا کیرئیر کونسلنگ کی سہولت فراہم کرنا جیسے اقدامات بھی اسی طلبہ تنظیم کا خاصا ہیں۔نشے اور دوسری فضول سرگرمیوں سے بچانے کیلئے طلبہ کیلئے سپورٹس فیسٹیول کا آغاز ہو یا طلبہ میںچھپی ہوئی صلاحیتوں کو منظر عام پر لانے کی بات،طلبہ مسائل کو حل کروانے کی جدوجہد ہو یا فاٹا اور مالاکنڈ آپریشن کے لاکھوں متاثرین کی مدد،ملک کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کا مرحلہ درپیش ہویا ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بے باک انداز میں پاکستان کے طلبہ کی نمائندگی کا چیلنج،تعلیمی اداروں میں پر امن تعلیمی ماحول کو پروان چڑھانے کی ذمہ داری ہو یا تعلیمی اداروں کی زبوں حالی کی بہتری کیلئے اپنی مدد آپ کے تحت ماڈل کلاس رومز کا قیام،اسلام اور پاکستان کے خلاف ہونے والی سازشوں کو بے نقاب کرنے کا کارنامہ ہو یا اسلام کے پرچم کی سربلندی، وطن عزیز پاکستان کے وقار کو بڑھانے اور دشمن سے بچانے کا مسئلہ ہو یا طلبہ برادری کے حقوق کی بات ہو، اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان اپنے نصب العین ،دستور، پروگرام اور روایات کی پابند رہ کر تعلیمی خدمات کے میدان اورایسی تمام مہمات، تحریکات اور جدوجہد کی جان رہی ہے۔

طلبہ یونین کے انتخابات اس بے مثال کامیابیوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ 1954ء میں پنجاب میں سیلاب کا مسئلہ ہو، 1963ء میں مشرقی پاکستان میں طوفان کی آفت کا سامنا، 1973ء میں پنجاب اور سندھ میں قیامت خیز بارشوںکا معاملہ ہو،1975ء میں صوبہ سرحد میںزلزلے کی تباہ کاریاں ہوں،اس طلبہ تنظیم نے صف اوّل میں بھر پور کردار ادا کیا اور ریلیف میں ملکی اداروں کے ساتھ مل کر گراں قدر خدمات سرا نجام دیں۔

 جب 8 اکتوبر2005ء کو آزاد کشمیر وصوبہ سرحدمیں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی جس سے پوری قوم سخت آزمائش میں مبتلا تھی اسی جمعیت کے کارکنان سینوں پر اللہ اکبر کا بیج لگائے متاثرہ علاقوںمیں پہنچے۔طلبہ برادری کوساتھ ملایا، پاکستان سے تمام رنگ ونسل اور زبانوں کے نوجوان وحدت بنے اور ملک بھر میں امدادی سرگرمیاں ہوئیں، 300سے زائد ٹرکوں پر امدادی سامان متاثرہ علاقوں میں پہنچایا گیا۔طلبہ کے مستقبل کو تباہی سے بچانے کیلئے خیمہ سکولز کا قیام عمل میں آیا۔اسلام آباد،کھاریاں،میر پور،سیالکوٹ اور چڑھوئی میں متاثرہ طلبہ کیلئے اقامتی اسٹڈی کیمپس کا انعقاد کیا گیا۔

امتحانات کی تیاری کیلئے 6000سے زائد طلبہ کو تین ماہ تک تمام سہولیات بہم پہنچائی گئیں۔اپنی مائوں، بہنوں، بزرگوں، بچوں کے دکھ کو بانٹنے کیلئے ناظم اعلیٰ،مرکزی شوریٰ کے اراکین اور کارکنان کی بڑی تعداد نے زلزلے کے بعد عیدالفطر زلزلہ زدگان کے ساتھ باغ، مظفر آباد،بالا کوٹ میں منائی۔ 2010ء میں جب ایک بار پھر سیلاب کی صورت میں پوری قوم آزمائش کا شکار ہوئی تو اسلامی جمعیت طلبہ کی مرکزی شوریٰ نے متاثرہ علاقوں میں ریلیف کی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ تعلیم کے عمل کو بحال کرنے کیلئے اور طلبہ کے مستقبل کو بچانے کیلئے عزم نو خیمہ سکولز کا اعلان کیا۔

اس سال بھی ضرب عضب آپریشن کے متاثرین جب ملک بھر کی جانب نگاہیں لگائے بیٹھے تھے تو اس وقت بھی اسلامی جمعیت طلبہ میڈیکل کیمپس، سٹڈی کیمپس اور خوراک کے ہمراہ ان کی مدد کو پہنچی۔ کارکنان جمعیت نے عید کے پر مسرت لمحات متاثرین کے ساتھ گزار کر انہیں اپنائیت کا احساس دلایا۔ سیلاب متاثرین کی خدمت کے لئے بھی جمعیت کے نوجوان صف اول میں شامل رہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ اس سال متحدہ طلبہ محاذ کی صدر بھی منتخب ہوئی ہے جس کے بعد سے تمام طلبہ تنظیموں کو متحد کر کے طلبہ حقوق کی جدو جہد جاری ہے۔ یہ اسلامی جمعیت طلبہ کی تاریخ اور جدوجہد کا مختصر خاکہ ہے ۔جس کا سفر آج بھی جاری ہے ۔گزشتہ سڑسٹھ سالوں میں جمعیت نے وطن عزیز کے تعلیمی اداروں میں جن تابندہ روایات کو فروغ دیا ہے ۔وہ یقینا ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ 

سید امجد حسین بخاری

No comments:

Powered by Blogger.