Header Ads

Breaking News
recent

متروک ہوتا کاغذوقلم.....


میڈیا کے بارے میں ایک نئے سروے میں ای میل اور ٹیکسٹ میسجنگ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور ہاتھ سے لکھنے میں کمی کی بات کی گئی ہے۔ڈیجیٹل ایج کے متعلق اس سروے میں کہا گیا ہے کہ آدھی سے زیادہ خط و کتابت اب ای میل کے ذریعے ہی ہوتی ہے۔ 29 فیصد تک ٹیکسٹ میسجنگ کے ذریعے اور صرف تیرہ فیصد قلم اور کاغذ پر ہوتی ہے۔سروے میں کہا گیا ہے کہ پینسٹھ سال کی عمر سے اوپر کے لوگوں میں اب بھی کاغذ اور قلم مقبول ہے جبکہ نوجوانوں میں اس کی مقبولیت بہت کم ہے۔ آئی پی اے ٹچ پوائنٹ سروے پانچ ہزار افراد پر کیا گیا ہے جو ایک ہفتے میں ہر آدھے گھنٹے کے بعد اپنی ڈائری اپ ڈیٹ کرتے تھے۔

اس تحقیق پر ایک ملین پاؤنڈ کے قریب لاگت آئی ہے اور اس کی پشت پناہی بی بی سی، آئی ٹی وی، اور برطانیہ کے دیگر قومی اخبارات نے کی ہے۔تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ پندرہ سے چوبیس سال کے بچوں میں جنہیں اس سروے میں شامل کیا گیا صرف پانچ فیصد نے کاغذ اور قلم کا استعمال کیا جو کہ بزرگوں کی نسبت بہت کم ہے جن کی تعداد انتیس فیصد ہے۔ لیکن انٹرنیٹ اور نیو میڈیا کی دیگر اشیاء کی مقبولیت کے باوجود لوگ اب بھی زیادہ وقت ٹی وی دیکھنے اور ریڈیو سننے میں صرف کرتے ہیں۔ صارفیت کا جنون تہذیب و تمدن پر کچھ اس طرح اثر انداز ہوا ہے کہ بنیادی ذرائع روزگار صفحہ ہستی سے مٹنے لگے ہیں اور سینکڑوں ضروری اشیا اپنا وجود کھو رہی ہیں۔ جو کاغذوقلم کبھی جہالت کے اندھیرے دور کرنے میں مددگار ہوا کرتے تھے اور جو علماء و ادباء کی شناخت اور شان ہوا کرتے تھے وہ آج رو بہ زوال ہیں۔ انسان کے قدم آہستہ آہستہ کاغذ و قلم سے نابلد دنیا کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

 تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ کاغذ کی دریافت نے تہذیب و تمدن، اخلاقیات و عقائد ، علوم و فنون ، ثقافت و تجارت کی ترقی اور توسیع میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ تقریبا 100 ق م میں جہاں اہل چین نے کاغذ کی دریافت کی تھی، وہیںساتویں آٹھویں عیسوی میں اہل عرب نے اندلس و بغداد میں کاغذ کی صنعت و حرفت میں انقلاب برپا کیا اور اسکے استعمال کو دنیا میں عام کیا۔ یہ وہی کاغذ تھا جس نے انسانوں کے درمیان حائل فاصلوں کو خط و کتابت کے ذریعے ختم کیا اور طباعت و ترسیل کی صنعت کو عروج بخشا۔ جس نے دنیا کی مختلف بولیوں کو لباس فاخرانہ عطا کیا اور سینہ بہ سینہ سفر میں رہنے والی روایتوں کو منزل عطا کی۔ ادب، علوم و فنون کو دوام بخشا اور تصوّر کو شکل عطا کی۔ تفکرات کو مختلف موضوعات دئیے۔ انسان کو قاری بنایا اور اسکی روحانی غذا کا سامان مہیا کیا۔ جس نے صحافت اور اخبارات کو جلا بخشی۔ ’’الیکٹرونک‘‘ اور ’’ڈیجیٹل‘‘ کی دنیا نے اب اسکے وجود کو خطرات میں مبتلا کردیا ہے۔ کاغذ کی طرح قلم کے ساتھ بھی بہت برا ہوا ۔ کبھی اسی قلم کے ذریعے کوئی حسین شعر تخلیق کیا گیا تو کبھی اسی قلم کا سہارا لے کر زندگی کے ہزارہا عقدے حل کیے گئے، اب وہی قلم اپنا وقار کھوتا جارہا ہے۔ 

اہل قلم کی شناخت جس قلم سے ہوا کرتی تھی وہ اب مٹ رہا ہے۔ املا کا وہ اعلی معیار بھی اب نہ رہا۔ ممکن ہے کئی زبانوں کے رسم الخط ناپید ہو جائیں اور زبانیں بے جان ہو جائیں۔ فطرت کی غمازی کرنے والے خطاطی اور مصوری کے فنون بھی اب مائل بہ زوال ہیں، افکار و بیان کا پیچیدہ سفر جو قلم کے سہارے طے کیا جاتا تھا وہ برقی دنیا میں ’’کاٹو اور چپکاو‘‘ جیسے عمل سے طے کیا جارہا ہے۔ کتب فروشی کا پیشہ بھی اب آخری سانسیں لے رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں کتابی جگنو ’’ برقی کتب بین‘‘ یعنی’’کنڈل،بک ریڈر ‘‘ پر منڈلاتے نظر آئیں گے اور طلبا برقی بستہ لئے۔ اساتذہ کے سینوں سے قلم اور پیشانی سے علم کا نور ندارد ہوگا۔ کاغذ و قلم کا استعمال اس حد تک ختم ہوجائیگا کہ ایک بار پھر ان کا استعمال کرنے والوں کو مخصوص طبقہ میں شما ر کیا جائے گا۔ اب برقی بیاضوں پر منڈلانے والے جگنوئوں سے بھری ادبی دنیا باقی رہے گی جو ’’برقی جالوں‘‘ سے اٹی ہوئی ہو گی۔

 انسانی تہذیب و تمدن پر برقی دنیا نے، خاص کر انٹرنیٹ نے مثبت اثرات بھی مرتب کیے ہیں۔ خط و کتابت اور پیام و ترسیل کے کام بے حد آسان اور کفایتی ہو جائیں گے ، بلکہ شاید مفت حاصل ہو جائیں، تعلیم کا حصول آسان ہو جائے گا اور اعلی تعلیم کے ذرائع عام آدمی کے لئے بھی مہیا ہو جائیں گے۔ کتابی نسخے محفوظ ہو جائیں گے اور ادب میں سرقہ کے امکانات بھی کم ہو جائیں گے۔ ایسے ہی ہزاروں اور فوائد ہونگے۔ لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اہل مغرب کی اس ایجاد کے پس پردہ بھی مادیت پرستی اور مغربی فلسفہ کی تبلیغ کے سوا ایسا کوئی مقصد نہیں تھا جس سے انسانیت کو فائدہ ہو۔اہل مغرب کی مادی ترقی سے یہ جہاں اتنا منور نہیں ہوا ہے جتنا انکی ذہنیت اور مقاصد کے بلیک ہول نے انسانیت کے لئے ہولناک اندھیرے پیدا کیے ہیں ۔ ٭

فائزہ نذیر احمد

No comments:

Powered by Blogger.