Header Ads

Breaking News
recent

محروم پاکستان، حکمران اور میڈیا.....


سب سے پہلے گلگت بلتستان سے ایک قاری کے تفصیلی خط کے چند اقتباسات ملاحظہ کیجئے ۔ لکھتے ہیں :
محترمِ ! پاکستان کے صف اول کے تمام لکھاریوں کا یہ المیہ ہے کہ انہوں نے دانستہ اور غیر دانستہ طور پر میرے پیارے علاقہ( گلگت بلتستان) کو نظرانداز کیا ہوا ہے۔ پہلے یہ شکایت ہمیں صرف حکومت پاکستان سے ہوا کرتی تھی مگر اب یہ شکایت سب سے زیادہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے ہے۔ یہ حقیقت جان کر آپ کو حیرت ہوگی کہ سینکڑوں ٹی وی چینلوں میں سے کسی ایک نے بھی گلگت بلتستان میں اپنا دفتر نہیں کھولا اور نہ ہی کوئی نمائندہ رکھاہے۔ اگر کسی ایک یادو چینل نے نمائندہ رکھا بھی ہے تو ان کی رپورٹنگ اور کوریج نہ ہونے کے برابرہے۔ یہی حشر تمام صف اول کے اخباروں کا ہے۔ صرف رپورٹر کی حد تک دو چار لوگ ہیں جن کی بھی دو چار مہینوں میں ایک دو کالمی خبر لگتی ہے اور بس۔صرف ایک اخبارگزشتہ دو سال سے یہاں سے شائع ہوتا ہے۔ آپ کا اخبار یعنی روزنامہ جنگ بھی گزشتہ ستر سال سے اس علاقے کو نظرانداز کرتا آرہا ہے۔ قومی اخبارات میں پورے صوبہ گلگت بلتستان سے ایک بھی نمائندہ لکھاری ہے اور نہ ہی کسی ٹی وی چینل میں اٹھائیس ہزار مربع میل پر پھیلے ہوئے علاقے کا کوئی میزبان /اینکر پرسن ہے۔ جب بھی کوئی صف اول کا کالم نگار پاکستان کے حدود اربعہ کی مثالیں دے کر لوگوں کو سمجھاتا ہے تو وہ گلگت بلتستان نظر انداز کر دیتا ہے۔ آخر کیوں؟

محترم صافی صاحب: گلگت بلتستان کی محرومیوں کے حوالے سے میرے پاس بہت کچھ کہنے کو ہے مگر المیہ یہ ہے کہ آپ جیسے ابلاغی بادشاہوں اور ارباب بست و کشاد اور صاحبان فکر و نظر کے پاس ہمارے لیے وقت ہی نہیں ہے۔ ہم ہزار قسم کی محرومیوں کا شکار ہیں۔ مذہبی کشیدگی روزکا معمول ہے۔ کرپشن اور اقرباء پروری یہاں کار ثواب سمجھ کر کی جاتی ہے۔ ان تمام مسائل دکھوں اور محرومیوں سے صَرف نظر کرتے ہوئے گلگت بلتستان کی آئینی صورت حال کے حوالے سے چند بے ربط باتیں آپ سے کرنا چاہتا ہوں اور امید ضرور کرتا ہوں مگر یقین نہیں‘ کہ ایک گلگتی کے ٹوٹے پھوٹے الفاظ آپ کے کالم میں جگہ پالیں گے۔

گلگت بلتستان جو نصف صدی سے زیادہ عرصے میں شمالی علاقہ جات کے نا م سے معروف تھا‘ ایک حساس علاقہ ہے۔یہ خطہ جغرافیائی اور دفاعی و سیاحتی حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔اور آج کل مذہبی کشیدگی اور قتل وغارت کے اعتبارسے بھی دنیا بھر میں اپنا ’’ منفرد‘‘ مقام رکھتا ہے۔تقسیم ہند کے دوران ریڈکلف اوروائسرے ہندکی بددیانتی کی وجہ سے آزاد کشمیر ‘جموں کشمیرکے ساتھ یہ علاقہ بھی ہنوزمختلف النوع مسائل کا شکار ہے۔ 16مارچ 1946 ء میں جب معاہدہ امرتسرہوا اور برٹش انڈیا(برطانوی ہند)نے ریاست جموں و کشمیر کو مہاراجہ گلاب سنگھ کو75 لاکھشاہی نانک (روپے) کے عوض فروخت کیا تو ریاست جموں و کشمیر میں شمالی علاقہ جات (یعنی گلگت بلتستان ) بھی شامل تھے ۔پاکستان کے زیرانتظام علاقوں میں شمالی علاقہ جات اور آزاد کشمیر ہیں۔
انتظامی دشواریوں کی وجہ سے آزادکشمیر کی قیادت نے معاہدہ کراچی (28 اپریل 1949) کے ذریعے گلگت بلتستان کو وفاق کے حوالہ کیا۔ آزاد کشمیر کو 74ء کے ایکٹ کے ذریعے کچھ آئینی صورت دی گئی، اس وقت کی حکومت پاکستان نے مسئلہ کشمیرکی عالمی پوزیشن کو مدنظر رکھتے ہوئے کشمیریوں کو یہ حقوق دیے تھے ‘ اس دور میں وہ اس سے خوش تھے جبکہ آج کشمیری قیادت بھی اس میں اصلاحات چاہتی ہے۔ جبکہ گلگت بلتستان کو مختلف ادوار میں مختلف اصلاحاتی پیکج دیے گئے ۔ جن میں سیلف امپاورمنٹ اینڈ گورننس آرڈر 2009ء کافی مشہور اور آج کل نافذالعمل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ گلگت بلتستان میں ہر اعتبارسے یہ تمام پیکج ناکام ہوچکے ہیں۔ ہمیں ایک ایسےپیکج کی ضرورت ہے جو ہماری محرومیوں کا ازالہ کرسکے اور مجھے میری شناخت دے سکے۔آج تک گلگت بلتستان کے لوگ یہ فیصلہ کرنے سے عاری اور نابلد ہیں کہ آخر وہ کون ہیں؟ ان کی شناخت کیا ہے؟ کیاوہ صرف شناختی کارڈ کی حد تک پاکستانی ہیں یا پھر واقعی پاکستانی؟ اگر واقعی پاکستانی شہری ہیں تو پھر دوسرے پاکستانی شہریوں کی طرح ہمارے ہاں بھی الیکشن کیوں نہیں ہوتے؟

بہر صورت یہ نکتہ سب سے اہم ہے کہ ماضی میں جتنے بھی اصلاحاتی پیکیج دیے گئے ہیں وہ سب چند مخصوص افراد کو نوازنے کے لیے ترتیب دئیے گئے تھے۔ گلگت بلتستان کے غریب عوام کی ضرورت کو مدنظر رکھ کر یہ پیکج نہیں دیے گئے تھے جس کی وجہ سے یہ تمام پیکج بری طرح ناکام و نامراد ہوئے ہیں۔ ہمیں ایک ایساپیکج چاہیے کہ جو گلگت بلتستان کے تمام عوام، سیاسی و مذہبی پارٹیوں اور تمام مسالک کے لوگوں کے لیے قابل قبول بھی ہو اور اس کا نفاذ بھی عملی طور پر ممکن ہو تاکہ ہم بھی دوسرے پاکستانیوں کی طرح سر اٹھا کر جی سکیں اور ببانگ دہل یہ کہہ سکیں کہ ہم بھی پہچان اور شناخت رکھتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ ہماری ان محرومیوں میں پاکستانی حکمرانوں کے ساتھ پاکستان کا پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا بھی برابر کا شریک ہے۔ وہ اگر ہمیں ہمارا حق نہیں دیتے تو آپ حضرات ہماری بات ، آہیں، آرزوئیں، محرومیوں اور دیگر مسائل کو اصحاب اقتدار کی راہ داریوں تک نہیں پہنچاتے۔ یہ اعتراف بھی ضروری ہے کہ ہم لوگ بھی برابر کے قصور وار ہیں۔ ہمارے گلگتی حکمران طبقہ اپنی عیاشیوں میں غرق ہے اور ہم عوام مذہبی لڑائیوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ تو پھر ہم کسی اور کو کیا گلہ کر سکتے ہیں۔
والسلام مع الاکرام: امیرجان حقانی ؔ
لیکچرر: ایف جی ڈگری کالج گلگت ، گلگت بلتستان

یہ صرف ایک جھلک ہے ان محرومیوں کی جن کے اس وقت چند شہری علاقوں کو چھوڑ کر باقی پاکستانی شکار ہیں ۔ حکمران طبقات انصاف سے کام لیتے تو یہ محرومیاں جنم نہ لیتیں لیکن بدقسمتی سے وہ میڈیا جس کا کام محروم علاقوں کی محرومیوں سے حکمرانوں اور خوشحال طبقات یا علاقوں کو آگاہ کرنا تھا‘ بھی اس مرض کا شکار ہوگیا ہے۔گلگت بلتستان والوں کی طرح یہی شکایت میڈیا سے بلوچستان کے لوگوں کو بھی ہے‘ اندرون سندھ کے مظلوموں کو بھی‘ جنوبی پنجاب کے محروموں کو بھی ‘ فاٹا اور خیبرپختونخوا کے پختونوں کو بھی اور غیور کشمیریوں کو بھی ۔ پاکستانی میڈیا عملاً تین بڑے شہروں کا نمائندہ میڈیا بن گیا ۔ مذکورہ محروم علاقوں میں سوانسانوں کی ہلاکتوں کو وہ کوریج نہیں ملتی جو تین بڑے شہروں میں تین انسانوں کے قتل کو ملتی ہے ۔ 

ان تین شہروں میں ڈبل سواری پر پابندی تو بریکنگ نیوز بن جاتی ہے لیکن محروم پاکستان میں مہینوں مہینوں کے کرفیو کی خبر کو ٹی وی میں جگہ ملتی ہے اور نہ اخبار میں ۔

ان تین شہروں میں پولیس کے ہاتھوں کاروں کا چالان تو خبر بن جاتاہے لیکن محروم پاکستان میں جیٹ طیاروں سے بمباری خبر نہیں بنتی ۔ سب سے زیادہ ظلم یہ ہے کہ ان علاقوں کے بڑے بڑے دانشوروں کو میڈیا کی عدم توجہی کی وجہ سے ان کے علاقوں سے باہر کوئی جانتا تک نہیں لیکن ان تین شہروں میں مقیم سلیم صافی جیسے ادنیٰ طالب علموں کو بھی پاکستان کی نمائندگی کے لئے عالمی فورمز پر بلایا جاتا ہے ۔ اور تو اور اب تو محروم پاکستان میں مقیم سینئر ‘ تجربہ کار اور قربانیاں دینے والے صحافیوں کی صحیح خبروں اور تجزیوں کو تو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی لیکن ان تین شہروں کا کم وبیش ہر رپورٹر ‘ ہر موضوع پر بولنے والا سینئر تجزیہ کار بن گیا ہے ۔ان تین شہروں میں کام کرنے والے اینکرز اور کالم نگار لاکھوں میں تنخواہیں لے رہے ہیں جبکہ محروم پاکستان کے ٹی وی رپورٹرز کو اپنے ادارے کی طرف سے تنخواہ تو کیا کیمرہ تک مہیا نہیں کیا جاتا ۔ جس طرح اس ملک کی سیاست کا سرپیر معلوم نہیں‘ اسی طرح اب صحافت بھی بے سمت بن گئی ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ یہ محروم پاکستان کب تک انتظار کرتا اور تماشہ دیکھتا رہے گا۔ کیا حکمران طبقات کی طرح میڈیا کو بھی اس وقت کا انتظار ہے کہ ان محروم علاقوں کے محب وطن اور پرامن عوام بندوق برداروں کی طرح بندوق کے زور سے اپنی طرف متوجہ کریں۔

سلیم صافی
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ

No comments:

Powered by Blogger.