Header Ads

Breaking News
recent

ملالہ: نوبل انعام......ملالہ کی متنازعہ شخصیت .....


بچیوںکی تعلیم کے لیے جدوجہد کرنے والی 17 سالہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسف زئی نے امن کا نوبل انعام جیت لیا۔ پاکستان کی تاریخ میں ملالہ نوبل انعام حاصل کرنے والی دوسری شخصیت جب کہ دنیا بھر میں سب سے کم عمر نوبل انعام حاصل کرنے والی شخصیت بن گئی۔

ملالہ کو یہ ایوارڈ بھارت سے تعلق رکھنے والے ’’کلاش ستیارتھی‘‘ کے ساتھ مشترکہ طور پر دیا گیا ہے۔ ملالہ کو ملنے والے اس ایوارڈ کی وجہ سے اسے دنیا بھر میں غیرمعمولی شہرت حاصل ہوئی، لیکن ملالہ کو اصل شہرت اس وقت ملی جب اس نے بی بی سی کے ایک پروگرام میں گل مکئی کے فرضی نام سے اپنی ڈائری تحریر کرنا شروع کی (جس میں اس کے سیکولر نظریات نمایاں تھے) یہ زمانہ تھا جب سوات میں طالبان سرگرمِ عمل تھے اس دوران ملالہ ایک حملے میں شدید زخمی ہوجاتی ہے۔ یہ واقعہ سوات میں فوجی آپریشن کے دوران پیش آیا تھا۔ اس واقعے کی وجہ سے ملالہکو دنیا بھر میں غیرمعمولی پذیرائی حاصل ہو جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ملالہ کو نئی زندگی عطا فرماتے ہیں۔ اس دوران ملالہ اور اس کا خاندان مستقل طورپر برطانیہ منتقل ہو جاتا ہے۔ اپنے قیام کے دوران ملالہ یوسف “I Am Malal” کے عنوان سے ایک کتاب تحریر کرتی ہے۔ اس کتاب میں موجود مواد نے ملالہ کی شخصیت کو مزید متنازعہ بنا دیا۔

ملالہ کو نوبل انعام ملنے کے بعد ایک طالبہ کی حیثیت سے مجھے بھی شوق ہوا کہ اس کتاب کا مطالعہ کروں اور اس پر تبصرہ کروں:
“I Am Malal” انگریزی زبان کی یہ کتاب برطانیہ سے شائع کی گئی ہے۔ یہ کتاب 276 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کے پبلشر “Weidenfeld And Nicolson London” ہیں۔ اس کتاب کو تحریر کرنے میں برطانوی صحافی کرسٹینا لیمب نے ملالہ کی مدد کی ہے۔ ملالہ کی اس کتاب پر مختلف تبصرے اور تجزیے مختلف اخبارات و رسائل میں شائع ہو چکے ہیں۔

اس کتاب اپنا تبصرہ پیش کرنے سے پہلے میں اپنا تعارف کروانا چاہوں گا۔ میرا نام عائشہ منصور خان ہے۔ میں ایک نجی اسکول میں آٹھویں جماعت کی طالبہ ہوں میری عمر چودہ سال ہے۔ انگلش فکشن کے ساتھ ساتھ دینی کتب اور اخبارات و رسائل کا مطالعہ کرنا میرا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ اس کتاب کے چھ باب ہیں، اس کے سرورق پر ملالہ یوسف زئی کے ساتھ کرسٹینا لیمب کا نام بھی موجود ہے۔ کرسٹینالیمب برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز سے منسلک ہے۔ مجھے حیرت ہے کہ ملالہ نے اپنے ترجمان کے طور پر ایک ایسی شخصیت کو ہی کیوں منتخب کیا جس کے پاکستان اور اسلام کے متعلق منفی نظریات کے بارے میں میڈیا سے باخبر رہنے والے ہر فرد کو علم ہے۔

اس کتاب کے پہلے باب میں سوات کے معاشرے اس کی تہذیب و ثقافت، رہن سہن اور وہاں کے خوبصورت مناظر کیبارے میں ملالہ نے اپنے خیالات کا اظہارجس انداز سے کیا ہے اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سوات پھولوں، دریائوں اور پہاڑوں کی سرزمین ہے جہاں کے لوگ محنتی، جفاکش اور مہمان نواز ہیں۔ سوات پاکستان کا ایک خوبصورت شہر ہے جہاں نہ صرف ملک کے طول و عرض سے لوگ تفریح کرنے کے لیے آتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ غیرملکی سیاحوں کی ایک بڑی تعداد بھی تفریح کی غرض سے سوات کا دورہ کرتی ہے۔ میں نے بھی کچھ عرصہ قبل اپنے خاندان کے ساتھ تفریح کے لیے سوات کا دورہ کیا تھا اور اب ملالہ کی اس کتاب کا مطالعہ کیا تو مجھے اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ ملالہ نے سوات کے حوالے سے ایک منفرد حقیقت کو بڑی خوبصورتی سے نظر انداز کیا ہے۔

اپنے سوات کے دورے کے دوران ایک طرف جہاں وہاں کی خوبصورتی نے مجھے بہت مسحور کیا وہیں اس بات نے بھی مجھے بہت زیادہ متاثر کیا کہ وہاں کے لوگ خوبصورت اور بااخلاق ہونے کے ساتھ ساتھ دین کے بھی بہت زیادہ قریب ہیں۔ مردوں کی کثیر تعداد باجماعت نماز پڑھتی ہے، اکثر مرد حضرات کے چہرے سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مزین اور باریش ہیں۔ سوات کی عورتیں اور بچیاں اپنے گھر سے باہر باپردہ نظر آتی ہیں۔ لیکن ملالہ کی کتاب میں سوات کے ماحول کے حوالے سے ہر جگہ مجھے پڑھ کر یہ محسوس ہوا کہ وہاں کا مذہبی ماحول ملالہ کو ناگوار گزرتا ہے۔ یا وہ بڑی اکتاہٹ کا اظہار کرتی نظر آتی ہے۔ لیکن جہاں تک میری رائے کا سوال ہے تو مجھے سوات کے لوگوں میں واضح طور پر ایک مذہبی رجحان اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے محبت نظر آئی۔

نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت بلکہ عشق ہم پر فرض ہے اور یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ جب بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ہم تحریر کریں گے تو لازماً صلی اللہ علیہ وسلم یا انگریزی میں (P.B.U.H) ضرور تحریر کریںگے۔ ملالہنے اپنی کتاب میں کئی جگہوں پر پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا ہے لیکن ایک جگہ پر بھی صلی اللہ علیہ وسلم (P.B.U.H) لکھنے کی زحمت نہیں کی حالانکہ اسے یہ معلوم ہونا چاہییکہ اس بات کا حکم قرآن پاک میں خود اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور نواسہ رسول حضرت امام حسینؓ کا ذکر بھی ملالہ نے ایک عام انسان کے انداز میں کیا ہے۔ انکے نام کے ساتھ بھی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تحریر نہیں کیا ہے، یہ سراسر بے ادبی اور بدتہذیبی نہیں تو اور کیا ہے؟

اپنی کتاب میں ملالہ اپنے والد کے نظریات و خیالات سے بے حد متاثر نظر آتی ہے۔ بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ “I Am Malal” نامی کتابملالہ یوسف زئی سے زیادہ ضیاء الدین یوسف زئی کے خیالات کی عکاسی کرتی ہے اور کتاب میں بہت سے جگہوں پر اپنے والد کے حوالے سے جو واقعات ملالہ نے درج کیے ہیں وہ اس کے والد کی لادین سوچ کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر کتاب میں ملعون سلمان رشدی کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تحریر کی گئی توہین آمیز کتاب “The Satanic Verses” کے بارے میں اپنے والد کے حوالے سے ملالہ تحریر کرتی ہے کہ ’’یہ کتاب میرے والد نے پڑھی ہے لیکن وہ اظہار رائے کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں اور یہ کہ میر امذہب اتنا کمزور نہیں کہ آزادی اظہار رائے کو برداشت نہ کر سکے‘‘۔ ملالہ کے والد کا اصرار کہ یہ آزادی اظہار رائے ہے اور ہمیں اسے برداشت کرنا چاہیے اور وہ قانون توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی غلط تصور کرتے ہیں لیکن انہیں یہ بات شاید معلوم نہیں کہ کوئی مسلمان عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر مکمل مسلمان نہیں ہو سکتا اور کوئی توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم برداشت نہیں کر سکتا۔

ملالہ نے اپنی کتاب میں قادیانیوں کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’احمد اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں لیکن حکومت انہیں غیر مسلم قرار دیتی ہے‘‘ ملالہ شاید اتنا بھی نہیں جانتی کہ قادیانی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی ماننے سے انکار کرتے ہیں اس لیے وہ مسلمان کہلائے جانے کے ہرگز مستحق نہیں ہیں۔ اس کتاب میں مصنفہ نے کربلا کے واقعہ اور حضرت امام حسینؓ کی شہادت کیواقعے کو بڑے سطحی انداز میں تحریر کیا ہے حالانکہ کربلا کا واقعہ ہمارے ایک واقعہ نہیں بلکہ عظیم پیغام ہے کتاب میں تحریر ہے کہ ’’جس طرح لوگ محرم میں ماتم کرتے ہیں اور سوگ کی مجالس کا انعقاد کرتے ہیں لگتا ہے کہ یہ واقعہ کل رات کی بات ہے۔‘‘ صفحہ نمبر 76 پر کتاب میں تحریر ہے:

“He gets so emotional you would think the events had happened just the night before, not more then 1,300 years ago”

ملالہ نے اپنی کتاب میں کئی جگہوں پر اسلامی احکامات کا مذاق اڑایا ہے خاص طور پر پردے کے بارے میں اکثر جگہوں پر اپنا ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ صفحہ نمبر 55 پر ملالہ تحریر کرتی ہے: ’’سوات میں طالبان کے آنے کے بعد عورتوںکو برقعہ پہننے پر مجبور کیا جاتا، ایسا برقعہ جو کپڑے کی بنی ہوئی شٹل کاک جیسا ہوتا ہے جس میں آنکھوںکے سامنے دیکھنے کے لیے جالی ہوتی اور گرمیوںمیں یہ برقعہ تندور کی طرح گرم ہو جاتا۔‘‘
اپنے والے کے حوالے سے ایک جگہ لکھتی ہے کہ:

میرے والد ہمیشہ کہا کرتے ہیں کہ پردہ نقاب میں نہیں، پردہ دل میں ہوتا ہے۔ اگر پردل دل میں ہوتا ہے تو پھر اللہ تعالی قرآن میں پردے کو فرض قرار دے کر تمام مسلمان عورتوںکو باپردہ گھروں سے باہر نکلنے کی ہدایت کیوں دی؟
ملالہ اپنی کتاب میں پردے کے حوالے سے متعدد جگہوں پر ناگواری اور ناپسندیدگی کا اظہار کرتی ہے باوجود اس کے کہ وہ خود بھی اپنے آپ کو بڑی سی چارد سے ڈھکے رہتی ہے یہی نہین بلکہ میرے خیال میں سوات کی عورتوں میں پردہ کو ایک اعلیٰ مقام حاصل ہے، پردہ درحقیقت وہاں کی ثقافت ہے۔ ملالہ کی کتاب میں جنرل ضیاء الحق کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتی ہے:

وہ ڈرائونی شکل کا آدمی تھا اس کے گہرے کالے حلقے تھے اس کے لمبے دانت لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے تھے۔

کسی سے سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن اپنی تحریر و تقریر میں کسی شخص کی شکل کا مذاق اڑانا بہت زیادہ غیر اخلاقی بات ہے بلکہ گناہ ہے کیونکہ انسان کی تخلیق اللہ تعالیٰ نے کی ہے اور خود قرآن پاک میں اللہ تبارک و تعاولیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ:
’’ہم نے انسان کو بہترین صورت میں تخلیق کیا‘‘

اللہ کی تخلیق کی ہوئی شکل کا مضحکہ اڑانا، برقعہ جو ایک مسلمان عورت کی پہچان ہے کو ’’گرم تندور‘‘ کہنا داڑھی جو کہ سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کو ’’لائنٹین‘‘ سے تشبیہہ دینا، مردوں کی ٹخنوں سے اوپر شلوار کو مذاق اڑانا، ایسی اور اس جیسی بے شمار احمقانہ باتوں سے ملالہ کی کتاب بھری ہوئی ہے۔
میں نے جوںجوں ملالہ کی کتاب کا مطالعہ کیا تو مجھے اندازہ ہوا کہ اس کتاب میں صرف اسلام کے حوالے سے ہی غلط باتیں نہیں کی گئیں بلکہ پاکستان کے خلاف بھی بہت سا مواد شامل ہے۔ کتاب کے صفحہ 45 پر تحریر ہے:

پاکستان کے پچاس سالہ جشن آزادی کے موقع پر ملالہ کے والد اور ان کے دوستوں نے بازوئوں پر سیاہ پٹیاں باندھی تھیں کیونکہ ان کے خیال میں سواتکو پاکستان میں شامل کرنے سے لوگوں کوکچھ حاصل نہیں ہوا۔

اسی طرح پاکستان کے ایٹمی دھماکوںکے بارے میں ناپسندیدگی کے اظہار کے ساتھ ایک جگہ ملالہ کے حوالے سے تحریر ہے کہ:
آج کل کے حالات میں ہم متحدہ ہندوستان میں رہتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔

یعنی ایک ایسی لڑکی جس کے والد نے پاکستان کی گولڈن جوبلی تقریبات یوم احتجاج کے طور پر منائی ہو اور جو خود متحدہ ہندوستان میں رہنے کو ترجیح دے وہ کیسے پاکستان کی بیٹی کہلانے کی مستحق ہو سکتی ہے؟

دوسری طرف وہ بیرون ملک رہ کر اسی پر پاکستان کی شناخت کے ساتھ انعامات و ایوارڈ وصول کر رہی ہے کیا یہ تضاد نہیں ہے؟

کتاب پڑھ کر تبصرہ کرنا میرا حق تھا، سو میںنے کیا، لیکن اس کیعلاوہ مجھے ذاتی طور پر ملالہ سے کوئی عناد نہیں۔جیسے میں ایک مسلمان پاکستانی طالبہ ہوں ویسے وہ بھی ہے اور اسی حیثیت سے میں اپنی بہن ملالہ یوسف زئی کو یہ مشورہ دوں گی کہ زندگی گزارنے کے لیے اسلام سے بہتر دنیا میں کوئی دین نہیں۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ’’یہود و نصاریٰ کبھی تمہارے دوست نہیں ہو سکتے‘‘ لہٰذا اس حقیقت کو تسلیم کرو اور مغرب کے کمزور سہاروں سے پیچھا چھڑائو۔ اپنے آپ کو اپنے اہل خانہ کو ان کے شر سے بچائو اور اپنی کتاب میں موجود اسلام کے حوالے سے غلط باتوں پر اپنے رب کے حضور دل سے معافی مانگو کیونکہ اللہ توبہ قبول کرنے والا اور بڑا رحیم ہے۔

عائشہ منصورخان

Malala Noble Prize

No comments:

Powered by Blogger.