Header Ads

Breaking News
recent

خان کی ”قربانی“۔۔۔!.......



نواز شریف کی مقبولیت کا ثبوت پاکستان کا پانچ ہزار کا نوٹ ہے ۔قائد اعظم کی تصویر کے ساتھ کسی اور کا نا م لکھا جانا بھی پاکستان کی تاریخ میں پہلا واقعہ ہے ۔نواز شریف کا نام قائد اعظم کی تصویر کے ساتھ لکھنے کی تحریک نواز شریف کے لئے اعزاز ہے جبکہ ”گو گو“کسی نام کے ساتھ بولا جائے تو انگریزی میں اس سے ”جوش و ولولہ“ کا اظہار لیا جاتا ہے ۔انگریزی میں اس انداز تکلم کو عمومََاکھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔”گو ٹائیگر گو“۔۔۔”گو مشرف گو ،گو زرداری گو“ اور اب ”گو نواز گو“ اور یہ ”گو گو “ سیاستدانوں کے لئے ہمیشہ مبارک ثابت ہوا ہے۔نہ مشرف گیا ،نہ زرداری گیا اور نہ ہی نواز کے جانے کی امید ہے البتہ طاہر القادری پاکستانی کرنسی ضائع کر رہے ہیں۔غربا کو مزید غریب کرنے کی مہم چلانا چاہتے ہیں۔جس انداز سے ”گو نواز گو “ کے نعرے لگوا رہے تھے ،یقین مانئے ان کے حال پر رحم آرہا تھا۔
اچھا خاصا عالم دین ،دیوانہ ہو گیا ہے۔عجیب ہیجانی کیفیت کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔

خان اور قادری ذہنی توازن کھو رہے ہیں۔ایک خاتون نے اپنے شوہر سے لاڈ کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر میں مر گئی تو آپ کیا کریں گے؟ شوہر نے کہا ’میں پاگل ہو جاﺅں گا“ بیوی نے کہا ’آپ دوسری شادی تو نہیں کریں گے ؟ شوہر نے کہا ’پاگل کچھ بھی کر سکتا ہے‘۔ قادری اور خان کے اعلانات و بیانات دیکھ کر ان کے پاگل پن میں کوئی شبہ نہیں رہا۔ جنونیت خوفناک صورتحال اختیار کر چکی ہے۔قادری کرتب دکھا کر کینیڈا لوٹ آئیں گے مگر خان پٹھان ہے۔ شیخ رشید عید سے پہلے خان کی قربانی لے چکا ، اب اس کی جان کے درپے ہے تا کہ زرداری کی طرح ”تعزیت “ کے ووٹوں پر اقتدار حاصل کر سکے۔ہم واحد قلم کار ہیں جو دھڑلے کے ساتھ لکھتے رہے کہ عمران خان کالفٹر سے گرنا حادثہ نہیں سازش کی ہے ۔موجودہ صورتحال کے تناظر میںماضی کے کچھ واقعات و حادثات کا جائزہ لیا جائے تو ناپاک عزائم واضح طور پر دکھائی دےنے لگیں گے۔ ”محسن جمہوریت“ جاوید ہاشمی کے بیانات کو بھی سامنے رکھا جائے تو تمام کھیل سمجھ آجائے گا۔

شاہ محمود قریشی اور شیخ رشید نے عمران خان کو استعمال کرنے کی سازش تیار کی تھی۔عمران خان کو لفٹر سے دھکا دے دیا گیا تا کہ خان کی ہڈی پسلی ٹوٹ جائے ،زندگی بھرکے لئے معذور ہو جائے اور یہ شیطان ٹولہ ہمدردی اور عیادت کے ووٹوں پروزارت اعظمیٰ حاصل کر سکے۔ اللہ سبحان تعالیٰ نے عمران خان کو ”مہلت“ دے دی لیکن خان نے روحانی مہلت کو سیاسی داﺅ پر لگا دیا۔اس نے سیاسی خود کشی کا منصوبہ تیار کر لیا مگر اس بار لفٹر کا کردار جاوید ہاشمی نے ادا کر دیا اور خان کو اتنا برا دھکا لگا کہ اٹھارہ سالہ سیاست چکنا چور ہو گئی ۔ شیخ رشید ،شاہ محمود قریشی شرمناک طریقے سے بے نقاب ہو چکے ہیں مگر شکست تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ خطرناک لوگ ہیں، اس بار سازش خان کی زندگی کے خلاف تیار کی جا رہی ہے ۔حکومت سے انتقام میں شدت آ چکی ہے۔ ”تعزیت“ کی سیاست تیار کی جا رہی ہے۔ شیخ رشید کو ہر صورت قربانی چاہیے اور وہ بھی عید سے پہلے ۔”الزام خان“ کو وہ سب کچھ بیان کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو اندر خانے پک رہا ہے ۔ہم نے لکھا :”واجاں ماریاں بلایا کئی وار میں ،تے کسے نے میری گل نہ سنی “۔۔۔

جاوید ہاشمی نے تشریح بیان فرما دی۔ ہم نے لکھا ”کس منہ سے واپس جائیں۔“ جاوید ہاشمی نے آج پھر وضاحت فرما دی کہ ظالموں نے خان کو واپسی جوگا نہیں چھوڑا۔ گزشتہ نو ماہ سے حقائق لکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔جاوید ہاشمی بھی ہماری جذباتی کیفیت سے آگا ہ تھے اور عمران خان کو بچانے میں ہاشمی صاحب ہماری امید کی آخری کرن تھے وہ خان کو تو نہ بچا سکے البتہ خود بچ گئے۔ اللہ نے انہیں ضمیر کا غلام بنایا اور پاکستان کو مصر بننے سے بچا لیا ۔شفاف نیت اور ضمیر زیادہ دیر تک آلودگی برداشت نہیں کر سکتا۔ عمران خان کو ہر قیمت پر اقتدار چاہئے تھا جبکہ شیخ رشید ،قادری ،چودھری یہ سب شریف برادران سے انتقام چاہتے تھے۔ ہاشمی صاحب کا یہ جملہ کہ ”اب آپ خوش ہیں ؟ ہماری مہینوں کی ذہنی اذیت کا ترجمان ہے۔ ہم عمران خان کو ضائع ہوتے نہیں دیکھ سکتے تھے لہذا کبھی خان اور کبھی ہاشمی صاحب سے شیخ رشید اور شاہ محمود قریشی سے چھٹکارے کی گزارش کرتے رہتے۔

عمران خان تو شارٹ کٹ کے چکر میں ضائع ہو چکا مگر اس نے محمد علی جناح کے ملک کی نسلوں کو بھی کسی جوگا نہیں چھوڑا ۔اس قدر نفرتیں ۔۔۔؟ دوست چھوٹ گئے، خاندانوں میں پھوٹ ڈل گئی، بچے بد زبان اور بے لحاظ ہو گئے، پولیس کے خلاف اشتعال، میڈیا کے خلاف اشتعال، جو شخص جمہوریت کی بات کرے اس کے خلاف گالی گلوچ، مبینہ اشتعال اور شرانگریزی پھیلانا ، تکبر، جنونیت، بیزاری، جھوٹ، منافقت، دوغلا پن، الزامات، بہتانات۔۔۔ کچھ بھی نہیں چھوڑا اس شخص نے ۔ نواز حکومت آج جائے کل جائے ،کچھ فرق نہیں پڑے گا البتہ خان نے اٹھارہ سالوں کی محنت کو قادری اور شیخ رشید کے قدموں میں ڈال دیا ہے۔ خان کہتا ہے کہ اسے روزانہ دو سو پیغاماے موصول ہوتے ہیں کہ وزیر اعظم کا استعفیٰ لئے بغیر واپس نہ جانا۔یہ دو سو پیغامات شیخ رشید کے حواریوں کی جانب سے موصول ہوتے ہوں گے ۔یہ لوگ خان کے ہمدرد نہیں بلکہ اندرون و بیرون ملک سے ڈرائینگ میں بیٹھے ہوئے وہ تماشبین ہیں جو خان کی زندگی سے کھیل رہے ہیں۔ ہم بتا چکے ہیں کہ ”یہ کم بخت ٹرک ، اس لفٹر سے بھی زیادہ منحوس ثابت ہو گا “۔ شیخ رشید اور اس کے حواری خان کو واپس نہیں جانے دیں گے خواہ اس کے لئے انہیں خان کی جان کی ”قربانی“ لینا پڑے۔

طیبہ ضیاء چیمہ
بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت

 

No comments:

Powered by Blogger.