Header Ads

Breaking News
recent

ایم کیو ایم کے استعفے اور موجودہ بحران......


بد قسمتی کی بات ہے کہ عین اس وقت جب محسوس یوں ہو رہا ہے کہ شاید اس مسئلے کا کوئی حل نکل پائے، ایک نیا پہلو سامنے آ گیا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کی طرف سے اس تمام بحران کے درمیان کچھ نہ کچھ دائیں بائیں کی خبریں آرہی تھی کہ شاید کوئی واضح پوزیشن وہ اپنی نہ لیں۔ لیکن اب تک لگتا یہ تھا کہ ان کی واضح پوزیشن واضح یہی تھی کہ انہوں نے واضح پوزیشن نہیں لینی۔

اس وقت اگر متحدہ قومی موومنٹ اپنے استعفے دیتی ہے تو دو درجن سے زیادہ لوگ جو ہیں وہ اسمبلی سے نکل جائیں گے اور اگر ان لوگوں کی تعداد کو آپ پاکستان تحریک انصاف کی تعداد سے ملائیں تو آپ کو احساس ہو گا کہ ان کے اخراج سے ہی اس اسمبلی کی نمائندہ حیثیت کے اوپر سوالیہ نشان اٹھانے میں کافی مدد ملے گی۔

آئین اور قانون کے مطابق دیکھیں تو اسمبلی سے مستعفی ہونا کسی بھی نمائندہ جماعت کا حق ہے لیکن نمائندہ جماعت کے حق کو ایسے وقت پر استعمال کرنا کہ جب معاملات اس اسمبلی کی قسمت کا فیصلہ کر سکتے ہیں، محسوس یہ ہوتا ہے کہ شاید اصل میں یہ ایشو اسی طرف جا رہا ہے۔ آج پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے اس حد تک لچک دکھائی گئی کہ شاہ محمود قریشی اسمبلی کے اندر آئے اور انہوں نے اپنے تمام ان لوگوں کے ساتھ مل کر جو اسمبلی میں اپنے استعفے جمع کرا چکے ہیں۔ اپنی نمائندگی کا آخری مرتبہ شاید حق استعمال کیا اور خصوصی ان کو ایک طریقہ کار کے ذریعے اپنی تقریر کرنے کا موقع دیا۔ جس سے اسمبلی والے بظاہر ناراض بھی ہوئے۔

جب اسمبلی سے جا رہے تھے جواب سنے بغیر اور استعفوں کا اعلان انہوں نے نہیں کیا حتمی طور پر تو یوں لگ رہا تھا کہ شاید اس جگہ کو استعمال کر کے حکومت اور پاکستان تحریک انصاف معاملے کو کسی اور طرف لے جائیں۔ لیکن اب ایم کیو ایم نے استعفے دینے کی دھمکی دی ہے اور عین ممکن ہے کہ استعفے وہ دیں بھی دیں۔ لگتا یہ ہے کہ جو پلان طاہر القادری اور عمران خان سڑک کے ذریعے نہیں کر پائے اب وہ اسمبلی کے اندر سے کروانے کی کوشش کی جائے گی۔

ایم کیو ایم کے جانے کے بعد پھر بھی اسمبلی کے اندر یہ آواز اٹھے گی کہ تمام اسمبلی کے مستقبل کا فیصلہ ایک جماعت نہیں کر سکتی۔ لیکن ایم کیو ایم چوں کہ کراچی کے اندر ہڑتالیں کر سکتی ہے، حیدر آباد کے اندر ہڑتالیں کر سکتی ہے۔ اگر ان ہڑتالوں کو آپ پاکستان تحریک انصاف کی ممکنہ بڑھتی ہوئی ہڑتالوں کے ساتھ ملا دیں اور دونوں کے استعفے اکٹھے کر دیں تو ملک میں یہ سیاسی بحران ایک ایسا زاویہ اختیار کر سکتا ہے جس کے بعد زیادہ لوگوں کو یہ کہنے کی ضرورت محسوس ہو گی یا ان کو یہ موقع ملے گا کہ شاید اب اس اسمبلی کی جگہ نئی اسمبلی منتخب ہونی چاہیے۔

تو وہ جو الیکشن کا معاملہ ہے وہ بار بار سامنے آ رہا ہے۔ میرے خیال میں ایم کیو ایم کے استعفوں کی دھمکی یا اس پر عمل در آمد نئے الیکشن کروانے کے پلان کا ایک حصہ ہے۔

جاوید ہاشمی کے عمران خان پر الزامات

دیکھیں اس معاملے کوتو اگر لپیٹنا ہے تو اس معاملے کو پاکستان کے اندر تمام جو سیاسی اہم لوگ ہیں ان کو مل بیٹھ کر اس کا حل سوچنا ہو گا۔ پارلیمان کے اندر کی جانے والی تقریروں کو غور سے سنیں تو محسوس ہوتا ہے کہ جس طرح یہ شک بار بار مختلف حلقوں سے واضح کیا جا رہا ہے کہ شاید اس کے پیچھے آرمی یا اسٹبلشمنٹ کا کوئی حصہ ہے۔

جاوید ہاشمی صاحب انٹرویو پر انٹرویو دے رہے ہیں اور انہوں نے اپنی پریس کانفرنس کے بعد ان الزامات کو دو تین مرتبہ مختلف انداز سے دہرایا ہے۔ ظاہر ہے آرمی کی طرف سے اس پر ایک پریس ریلیز کی شکل میں شدید تردید بھی آ چکی ہے اور حکومت نے بھی ایک دو مواقع کو چھوڑ کر عموماً یہ پالیسی اپنا رکھی ہے کہ ہم اس معاملے کو سلجھانا چاہتے ہیں۔ اگر الجھانے لگ جائیں تو اس کی تفصیل میں پڑ جائیں گے اور کسی جگہ پر پہنچنے کی کوشش کریں گے اور اسکے بعد آپ کو پتہ ہے کہ پاکستان میں طاقت کا کھیل کس طرح کھیلا جاتا ہے۔

اس وقت تدبر و تد بیر کی زیادہ ضرورت ہے، غصے کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان میں اگر سیاسی بھونچال اگر آیا تو وہ صرف اس حکومت کو نہیں لپیٹے گا۔ وہ مستقبل کے کسی نظام پر بھی بہت گہرا سوالیہ نشان چھوڑ جائے گا۔ یہ ایک بدقسمت موڑ ہے پاکستان کی سیاست میں، وہ تمام خواہشات، امیدیں لیکر جو یہ نظام چلا تھا اب یہ خاک میں ملتے ہوئے نظر آ رہی ہیں۔

اگرچہ ظاہرا ایک جمہوریت اس بحث کی شکل میں نظر آ رہی ہے لیکن اندر خانے طاقت کا کھیل بھی آپ کو نظر آ رہا ہے۔ ہم یہی امید کر سکتے ہیں کہ تحقیقات اور الزام تراشی اور شکوک و شہبات گہرا کرنے کی جو روایت ہے اس سے پہرے ہٹ کر ایک اور نئی روایت جنم لے گی جو اس ملک کے دیر پا مسائل پر عمل درآمد ہو بھی جائے جس کا اظہار سازشوں کی صورت میں کیا جا رہا ہے تو بھی پاکستان میں آنیوالے دنوں میں استحکام آنا آپ کو مشکل نظر آتا ہے۔

نئے انتخابات کروانے یا اس مبینہ سازش کی جڑوں تک پہنچنے کا معاملہ اپنی جگہ پر ہے۔ سیاسی اتفاق رائے اور سیاسی ماحول آپ کو بری طرح اس وقت متا ثر نظر آتا ہے۔ اس میں اگر خداوند تعالی کی طرف سے خا ص چنے ہوئے لوگ بھی متعین کر دیے جائیں تب بھی جو انتخابات ہوں گے، یا جو تحقیقات ہوں گی ان کے نتائج پر ہمیشہ انگلی اٹھائی جاتی رہے گی۔

میرا اپنا خیال ہے کہ شاید ان حالات میں اس نظام میں سے راہ نکالنے کی ایک صورت نکالنی چاہیے، اگر الزامات کی طے تک پہنچنے کی کوشش کی گئی یا خدشات کو خواہشات کو عملی شکل میں دیکھنے کی کوشش کی گئی تو پھر طوفان بڑا ہو جائے گا اور کچھ نہیں بچے گا۔

طلعت حسین

MQM Resignation from Assembly

No comments:

Powered by Blogger.