Header Ads

Breaking News
recent

پشاور میوزیم (گندھاراتہذیب کا گھر).....


اس کا شمار پاکستان کے قدیم ترین عجائب گھروں میں ہوتا ہے1906ء میں یہ پہلے سے تعمیر شدہ میموریل ہال میں قائم کیا گیا تھا۔ آثار قدیمہ کے مشہور و معروف ماہر سرارل سٹین اس کے سب سے پہلے مہتمم تھے۔ یہ عجائب گھر گورنمنٹ ہائوس کے قریب اس بڑی شاہرہ پر واقع ہے جو پرانے شہر کو چھائونی ریلوے اسٹیشن سے ملاتی ہے۔ عجائب گھر کے تین مشہور حصے گندھارا، مسلم اور قبائلی ہیں۔ اس کی شہرت گندھارا آرٹ کے خوبصورت اور قیمتی مجسموں کی مرہون منت ہے یہاں تخت بھائی وغیرہ سے لائے ہوئے مہاتما بدھ کے مجسّمے ملتے ہیں اس کے علاوہ ایسے مجسّمے بھی ہیں جو فن سنگ تراش کا شاہکار ہیں اور مہاتما بدھ کی زندگی کے مختلف پہلوئوں کی عکاسی کرتے ہیں بدھ مت کے بادشاہ اشوک اور کنشک شہنشاہ کی جو غالباً ان سب میں عظیم ترین تھے مہریں اور نقوش نمایاں طور پر ملتے ہیں۔

مختلف سائز میں پتھر اور پلاسٹر کے بنے ہوئے گوتم بدھ کے مجسّمے اس عجائب گھر کی اہمیت اور شہرت کا باعث ہیں اس میں مختلف دور کے نادر سکوں کا بھی خزانہ موجود ہے تاہم اس کا انمول خزنیہ پشاور کے نواح میں واقع شاہ جی کی ڈھیری سے 1908ء میں آثار قدیمہ کی کھدائی کے دوران ملنے والا کنشک کا زیورات کا صندوقچہ ہے اس منقش صندوقچے میں گوتم بدھ کی ہڈیوں کے تین ٹکڑے پائے گئے تھے انگریزوں نے اسے برما کی بدھ سوسائٹی کو دے دیا تھا جس نے مانڈے کو ایک مقدس زیارت گاہ بنا دیا البتہ یہ نادر صندوقچہ بطور بے مثل یاد گار اس عجائب گھر کی اب تک زینت ہے۔ پشاور عجائب گھر کے زیادہ ذخیرے گندھارا تہذیب سے متعلق ہیں اور ان سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کے یہ علاقے آج سے اڑھائی ہزار برس پہلے بھی کسی عظیم الشان تہذیب کا مرکز تھے۔ سکندر اعظم کے حملے سے پہلے موجودہ وادی پشاور کو گندھارا کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا دارالخلافہ پشکاراوتی تھا جسے ہم آج کل چارسدہ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ یہ واقعہ 327-326 قبل مسیح کا ہے۔ پشاور کے عجائب گھر میں زیادہ مجسّمے چارسدہ سری بہلول، سروان، تخت بھائی، شاہ جی کی ڈھیری اور جمال گڑھی کی کھدائیوں سے دستیاب ہوئے ہیں۔ عجائب گھر میں جو مجسّمے ہیں ہیں ان سے رائج الوقت رسم و رواج کے متعلق بہت معلومات فراہم ہوتی ہیں۔

 ان کے عقائد ان کی پوشاک ہمیں تصویروں کی شکلوں میں نظر آتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ہمیں ان کی فنی قابلیت کے متعلق بھی علم ہو جاتا ہے مثال کے طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ آرٹ کے اعتبار سے بڑی مجسموں کے کان اور پیشانی فنی لحاظ سے قابل تعریف نہیں۔ مہماتما بدھ کے مجسّمے سب سے پہلے گندھارا ہی میں بنائے گئے اور بعد میں جنوبی ہندوستان میں ان مجسموں پر مزید ترقی کی گئی۔ امیر سے لے کر غریب تک کی پوشاک اور حالت کا اندازہ ان مجسموں سے لگایا جا سکتا ہے گھروں کے حالات، جنگ کے ہتھیاروں زرہ بکتر، ہیرے جواہرات، ہودے، گاڑیاں رتھیں، گھوڑے، ان کے سازو سامان، زراعتی اوزار اور موسیقی کے آلات بھی دکھائے گئے ہیں۔ لوگ کام کرکے کھیلتے، عبادت کرتے شادیوں میں مشغول قربانیاں ادا کرتے وغیرہ جیسی حالتوں میں نظر آتے ہیں۔ عام رسومات میں رقص کرتے ہوئے، گانے والے سیاح، پہلوان اور ڈاکو وغیرہ بھی اپنی اپنی جگہ اہمیت واضح کرتے ہیں۔

 یہ مجسّمے دلچسپ واقعات رومان اور عقیدت سے لبریز دکھائی دیتے ہیں۔ عجائب گھر میں جو دوسرے مجسّمے ہیں ان سے عجیب و غریب حالات کا پتہ چلتا ہے۔ عجائب گھر میں داخل ہوتے ہی دائیں ہاتھ کو ہر بتی اور زرخیزی کی دیوی اس کے بچے اور پنچیکا کے بڑے مجسّمے ہیں۔ پشاور عجائب گھر گندھارا کے بہترین ذخائر کا مجموعہ رکھتا ہے ان واقعات کے علاوہ عجائب گھر میں پرانے سکے موجود ہیں ایک طرف قدیم کتبے ہیں۔ پتھر میں کندہ کتبے کسی کنوئیں کی تعمیر کی یاد گار ہیں پرانے زمانے کے مٹی کے برتن جن پر نقش و نگار بھی ہیں قدیم صنعت کاروں کی فنی قابلیت کا پتہ دیتے ہیں۔  ٭

Peshawar Museum

No comments:

Powered by Blogger.