Header Ads

Breaking News
recent

سیاسی بحران کے حل کی جانب پیش رفت.......


اسلام آباد میں دھرنے مسلسل جاری ہیں۔ اگر دھرنے مزید کچھ عرصے یونہی جاری رہتے ہیں اور ان کا کوئی حل نہیں نکلتا تو اس سے حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ امر خوش آیند ہے کہ دھرنے دینے والی جماعتوں کے ساتھ حکومت کے مذاکرات جاری ہیں اور ان کے کئی دور ہو چکے ہیں۔ گزشتہ روز تحریک انصاف اور سرکاری وفد کے درمیان خوشگوار ماحول میں مذاکرات ہوئے ہیں مگر ابھی تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔

ان مذاکرات کا شروع ہونا ہی بڑی کامیابی ہے کیونکہ اب بحران کے حل کے لیے فریقین ایک دوسرے کی بات سن رہے ہیں ۔ چند روز قبل یہ افواہیں گردش کرتی رہیں کہ حکومت نے دھرنے کے شرکا کو طاقت کے بل بوتے پر منتشر کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن حکومت نے ایسے کسی بھی عمل کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ دھرنوں کے خلاف طاقت کے استعمال کا سوچ بھی نہیں سکتی، وہ مسئلے کا پرامن حل چاہتی ہے تاکہ ملک کو بحران سے نکالا جا سکے۔

اب سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری میدان میں آ گئے ہیں اور انھوں نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسئلے کا سیاسی حل نکالنے کا مشورہ دیا ہے۔ آصف زرداری کے سامنے آنے کے بعد اس بحران کے حل کی امید پیدا ہوئی ہے۔ ہفتے کو جاتی امرا رائیونڈ میں آصف زرداری نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے ملاقات کی، اس موقع پر یہ اتفاق کیا گیا کہ جمہوریت کو کسی صورت ڈی ریل نہیں ہونے دیا جائے گا‘ مسائل آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سیاسی طریقے سے ہی حل کیے جائیں گے‘ جمہوریت آئین اور پارلیمنٹ بالادست ہیں‘ ان کا بھرپور دفاع کیا جائے گا۔

آصف زرداری نے کہا ہم کسی فریق نہیں جمہوریت کے ساتھ ہیں پارلیمنٹ کو مدت پوری کرنی چاہیے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو صورت حال واضح ہو جاتی ہے کہ حکومت اور پارلیمنٹ میں موجود سب سے بڑی اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی جمہوری نظام کو بچانے کے لیے متفق ہو گئی ہیں اور کسی بھی ایسے عمل کی مخالفت کر رہی ہیں جس سے اس نظام کو خطرات لاحق ہو جائیں۔ چند روز قبل بھی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے حق میں متفقہ قرار دادیں منظور کی گئی تھیں۔
اس طرح دیکھا جائے تو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ پارلیمنٹ میں موجود تمام اپوزیشن جماعتیں سوائے چند ایک کے‘ حکومت کا ساتھ دے رہی ہیں۔ آصف علی زرداری نے وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے بعد جماعت اسلامی کے ہیڈ کوارٹر منصورہ میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق اور مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت اور مرکزی رہنما چوہدری پرویز الٰہی سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ ان ملاقاتوں کا مقصد اسلام آباد میں جاری سیاسی کشیدگی کا کوئی مناسب حل تلاش کرنا ہے۔

ان ملاقاتوں میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ آئین اور قانون برتر ہیں ان پر عمل ہونا چاہیے افراد آتے جاتے رہتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق بار بار اس امر کا اظہار کر رہے ہیں کہ حکومت اور دھرنا دینے والی جماعتوں کو مسئلے کا حل مذاکرات کے ذریعے ہی تلاش کرنا چاہیے۔ آصف علی زرداری نے بھی سراج الحق کی جانب سے فریقین کے درمیان تصفیہ کروانے اور انھیں مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انھیں ان کوششوں کو جاری رکھنا چاہیے۔

پیپلز پارٹی‘ جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کے رہنما اس امر کا بارہا اعادہ کر چکے ہیں کہ فریقین معاملات کو طول دینے کے بجائے مذاکرات کے ذریعے اس کا حل تلاش کریں۔ دھرنا دینے والی پارٹیوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے رویے میں لچک پیدا کریں اور کوئی ایسا سخت مطالبہ نہ کریں جس سے مذاکرات کا عمل آگے بڑھنے میں رکاوٹ پیدا ہو۔ جب کسی مسئلے پر مذاکرات کا عمل شروع ہوتا ہے اس دوران بہت سی تلخیاں اور اتار چڑھاؤ بھی سامنے آتے ہیں جس سے یوں معلوم ہونے لگتا ہے کہ مذاکرات کا عمل آگے بڑھنے کے بجائے یہیں پر ختم ہو جائے گا لیکن اگر صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ان تلخیوں کو دور نہ کیا جا سکے۔

جمہوریت میں مذاکرات کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے۔ فریقین دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کچھ لو اور کچھ دو کے اصول پر مسئلے کو حل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ سابق صدر آصف علی زرداری کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ اگر ایک مرتبہ بات چیت ناکام ہو جائے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ دوبارہ بات چیت نہیں کرنی‘ ڈائیلاگ‘ ڈائیلاگ اور ڈائیلاگ ہی مسئلے کا واحد حل ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ اس مسئلے کا حل بات چیت سے ہی نکل آئے گا اور سیاستدان سیاسی طریقے سے اس کا حل نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے‘ عمران خان اور طاہر القادری کے جو بھی مطالبات ہیں انھیں بات چیت سے حل کیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے جمہوری حکومت کو اسٹریٹ پاور کے ذریعے ختم کرنے کے عمل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ سڑکوں پر حکومتوں کے خلاف فیصلے کرنے سے جمہوریت کمزور ہو گی‘ حکومتوں سے غلطیاں ہوئی ہوں گی لیکن آہستہ آہستہ قدم بڑھاتے ہوئے بہترین حکومتیں لائی جا سکتی ہیں۔ آصف علی زرداری کے مثبت اور مصالحانہ رویے کے باعث حکومت کو نیا حوصلہ ملا ہے اور جمہوری حکومت ڈی ریل ہونے کے جو خدشات سامنے آ رہے تھے وہ بھی ٹلتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔دھرنوں کا عمل جتنا طول پکڑتا چلا جائے گا وہ حکومت اور ملک کے لیے اتنا ہی نقصان دہ ثابت ہو گا۔ اس لیے تمام فریقین کو چاہیے کہ وہ صبر و تحمل اور دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے جلد از جلد مسئلے کا حل نکالیں۔

 

No comments:

Powered by Blogger.