Header Ads

Breaking News
recent

وہ نہیں ہوا۔ اب کیا ہوگا؟.....




یہ سب کچھ اس طرح ہونا تھا۔ دو لاکھ لوگوں پر مشتمل قافلہ اسلام آباد میں داخل ہوتا۔ نعروں کی گونج سے تھرتھراتی فضا میں پہلے سے اپنی اپنی جگہوں پر متعین کیے پھرتا‘ ذرایع ابلاغ اس المیے کو تاریخ کا سب سے بڑا واقعہ قرار دیتے ہوئے اور اس کی قیادت کو پاکستان کی بقاء کا ضامن بتلاتے ہوئے وزیر اعظم ہائوس کے سامنے لا کھڑا کرنے میں مدد گار کردار ادا کرتے۔

ریڈ زون کے ارد گرد انتظامی حصار پانی کی طرح بہہ جاتا اور تعینات کی ہوئی افواج کے سربراہ وزیر اعظم سے اگلے مرحلے کے بارے میں ہدایات طلب کرتے۔ کیا راستہ ہوتا نواز شریف کے سامنے؟ اعصاب شکن لمحات میں حکومت کی ایسی سٹی گم ہوتی کہ کوئی کار گر مشورہ دینے کے قابل ہی نہ ہوتا۔ درمیانی حل سامنے آتا کہ عمران خان اور طاہر القادری کی گرج چمک کے سائے تلے میاں نواز شریف نئے انتخابات کی تاریخ مقرر کرتے اور پھر اس سیاسی شرمندگی کی تاب نہ لا کر خود ہی کرسی چھوڑ کر اقتدار عبوری مگر انتہائی پارلیمانی قومی حکومت کے حوالے کر دیتے۔

دھاندلی کے الزامات اور ’عدالتی‘ دباؤ کے سامنے گرنے کے بعد مسلم لیگ ن کا سیاسی ’کڑاکا‘ نکل جاتا۔ آیندہ بننے والی حکومت کے سامنے ایک نیا پاکستان موجود ہوتا جس میں پرانے سیاستدانوں میں سے بیشتر تطہیری عمل کے ذریعے ہمیشہ کے لیے فارغ ہو جاتے۔ چونکہ یہ عوامی انقلاب بن جاتا، لہذا عدلیہ کے لیے پرانے آئین اور عمومی قانون کے حوالے دینا ممکن نہ ہوتا۔ جب خلق خدا ٹی وی چینلز کے ذریعے بول رہی ہو تو اس نقار خانے میں جج صاحبان کی آوازیں کیوں کر سنائی دیتیں۔

مگر یہ سب کچھ ایسے نہیں ہوا۔ مارچ کی قیادت نئے پاکستان کی تلاش میں اتنی تیزی سے آگے بڑھی کہ پیچھے مڑ کر دیکھنے یا جاننے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی کہ ان کے ہمراہ عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے یا نہیں۔ وہ دھچکہ جو ایک دم میں حکومت کو تہس نہس کرنے کے لیے استعمال ہونا تھا اس عدم شرکت کے باعث موخر کرنا پڑا۔ لشکر کشی، پڑائو یا گھیرائو میں تبدیل کرنا پڑی۔ بد انتظامی اور سفر کی کوفت جان کو آ گئی۔ کھلے آسمان کے نیچے عوام کی اصل تعداد ظاہر ہونے لگی تو ذرایع ابلاغ پر تکیہ بڑھ گیا۔ تمام اہتمام کے باوجود موقع ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ اب حکومت کے پاس وقت تھا ۔ وہ سانس بحال کر کے اپنے قدم جما سکتی تھی۔ جو معاملہ تین دن میں ختم ہونا تھا اب لٹک چکا تھا۔
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ایک ہفتہ پہلے جو حکومت اس خوف میں مبتلا تھی کہ اس کی آخری گھڑیا ں گنی جا چکی ہیں اب تمام بڑی اور چھوٹی سیاسی قوتوں کے جھرمٹ میں کھڑی نسبتا تندرست و توانا لگ رہی ہے۔ آئین کی بالا دستی ایک طرف ہے اور سڑک پر مظاہرے کے ذریعے تبدیلی لانے کی حمایت صرف پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے قائدین تک محدود ہو گئی ہے۔

بین الاقوامی حلقے، سوچ رکھنے والے شہری اور اس ریاست کے دوسرے آئینی ادارے سب خلفشار اور افراتفری سے بچائو کی تاکید کر رہے ہیں۔ عدالت عظمی نے آئینی پوچھ گچھ شروع کر دی ہے۔ اسی وجہ سے ابھی تک ہر روز بڑی خبر کے وعدے کسی بھی خبر میں تبدیل نہیں ہو پا رہے۔ وہ جس کو حل بننا تھا اب بحران ہو گیا ہے۔ جو کچھ ہونا چاہیے تھا وہ نہیں ہوا۔ اور جو کچھ ہو رہا ہے اس کے لیے نہ عمران خان نے تیاری کی تھی اور نہ طاہر القادری نے۔
یہاں سے آگے کیا ہو سکتا ہے اس کے تین جواب سوچے جا سکتے ہیں۔ پہلا جواب منطقی اور عمومی دانشمندی کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف دھاندلی کے حجم کے تعین اور اس میں حکومت وقت کے اہلکاروں اور عہدے داروں کے کردار کو ثابت کرنے کے لیے عدالت عظمی کے کمیشن پر اتفاق کر لے۔ اگر دھاندلی ثابت ہو گئی اور ن لیگ کے ہاتھ اس گھنائونے جرم میں رنگے نظر آئے تو موجودہ حکومت فارغ۔ نئے انتخابات ہوں گے تو سب کے مستعفی ہونے کا مسئلہ خود بخود حل ہو جائے گا۔ اس پر ن لیگ کو بھی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ پوری قوم سیاسی عمل کو بہترین اور غیر متنازعہ بنیادوں پر قائم دیکھنا چاہے گی۔

دوسرا جواب یہ ہو سکتا ہے کہ حکومت حالات کی نزاکت کے پیش نظر کچھ ایسے فیصلے کرے جو وقتی سیاسی دھچکہ تو ہوں مگر جس کے نتیجے میں احتجاج کرنیوالوں کے تمام جواز ختم ہو جائیں۔ پنجاب میں وزیر اعلی کی اپنے عہدے سے علیحدگی اور وزیر اعظم کی طرف سے زبانی وعدہ کہ دھاندلی ثابت ہونے کے نتیجے میں وہ خود بخود عہدے سے علیحدہ ہو جائیں گے۔ یا پھر اس سے بھی بڑھ کر یہ اعلان کہ وہ دھاندلی کا معاملہ طے ہونے تک اپنی کرسی و منصب سے ہٹ جائیں گے۔

اس وقت یہ دونوں جواب بے معنی اور نا قابل عمل نظر آ رہے ہیں۔ منطق کی بات کنٹینر کی آہنی دیواروں سے ٹکرا کر واپس آ جاتی ہے جب کہ عہدوں سے علیحدگی کے معاملے پر ن لیگ اور پارلیمان سمیت تمام آئینی اور سیاسی قوتوں کے اتفاق رائے بننے کے بعد کسی قسم کی پیشرفت یا گنجائش کا امکان ختم ہو گیا ہے۔
اب تیسرے جواب کی شکل میں حالات سامنے آ سکتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف ملک گیر احتجاج کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے اس بحران کو مزید گہرا کرنے کا تاثر دے گی۔ میڈیا اپنی روش کے مطابق ایک مرتبہ پھر ہر جگہ سے ’’استعفی دو‘‘ کی آواز نشر کرے گا۔ یوں محسوس ہو گا کہ جیسے حکومت یہ جنگ ہار رہی ہے۔ حالات سے تنگ آ کر نواز شریف اور ان کے مشیران مسئلے کے حل کے لیے کوئی اور راستہ اختیار کریں گے۔ جیسے اسلام آباد میں آئی جی پولیس کو ہٹایا گیا ہے ویسے کسی اور اہم عہدے میں تبدیلی لانے کا سوچے گی۔ اس پر فوج اور حکومت میں فاصلے بڑھ جائیں گے۔

کہا جائے گا ایک طرف نواز زرداری اور لال مسجد والے ہیں اور دوسری طرف تحریک انصاف اور عوامی تحریک جیسی قوتیں جو ’نئے پاکستان‘ کی نمایندہ ہیں۔ شہروں میں سیاسی کارکنان کا تصادم ہو گا۔ ایک دو بڑے واقعات اور ہوں گے اور پھر ۔۔۔۔۔ کھڑاک! وہ تمام ہیجانی اور ظاہراً بے معنی تقاریر اور بے ڈھبے ترانے جو ریڈ زون سے قوم کو ذہنی دبائو کا شکار کیے ہوئے ہیں جھٹ سے تبدیلی کی خبر میں بدل جائیں گے۔ ٹائیگر کنٹینر سے نمودار ہو گا۔ قائد ثانی بنے گا۔ تاجپوشی ( یا شادی ) کی تیاریاں ہوں گی َ تبدیلی آ جائے گی۔
مگر پھر یہ کبھی سوچیئے گا کہ اگر یہ سب ہی ویسے نہ ہوا جیسے خواہش یا پلان کیا جا رہا ہے تو کیا ہو گا؟ اگر ن لیگ تمام آئینی قوتوں کو ساتھ ملا کر خیبر سے کراچی تک ویسے ہی ضد میں آ گئی جیسے عمران خان نے اپنائی ہوئی ہے تو کیا ہو گا؟ پلان کرنے والوں کا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہو گا۔ ستمبر کے پہلے ہفتے تک ان کا اسکرپٹ لاگو ہو چکا ہو گا۔ مگر میری اطلاعات اس سے تھوڑی سی مختلف ہیں۔

اس مرتبہ اگر طاقت سے اکھاڑ پچھاڑ کی گئی تو لڑائی طویل ہو گی۔ اس جنگل میں اور جانور بھی بستے ہیں ٹائیگر کے سوا۔ چیتے پر سواری کر کے شکار کرنیوالوں کو جاننا ہو گا کہ ماحول اتنا سازگار بھی نہیں ہے جتنا وہ سمجھ رہے ہیں۔ لاہور سے ریڈ ذون کا سفر بھی اسی امید پر کیا گیا تھا کہ سب کچھ ہاتھ میں ہے۔ اب ایک اور کوشش کی جا رہی ہے۔ ہم نہ جانیں کب سیکھیں گے۔ شائد کبھی نہیں۔

طلعت حسین

No comments:

Powered by Blogger.