Header Ads

Breaking News
recent

نیا پاکستان کیسا ہو گا؟.....


تو کیا 15 اگست بھی گزر گئی مگر تاحال ہم پُرانے پاکستان میں رہ رہے ہیں اور نیا پاکستان تعمیر نہیں ہو سکا۔ اب اس کا الزام پومی بٹ کو دیں جس نے پتھر مار کر آزادی مارچ کو ڈبل مارچ پر مجبور کر دیا یا پھر اس طوفانی بارش کو جس نے شرکاء کے حوصلے پست کر دیئے۔ ہفتہ کی صبح عمران خان خطاب کرنے کے بعد اپنی رہائش گاہ بنی گالہ چلے گئے اور شرکاء کو یہ پیغام دے گئے کہ ملتے ہیں ایک شارٹ بریک کے بعد۔ عمران خان گزشتہ 40 گھنٹوں سے مسلسل حالت سفر میں تھے، ایک پل بھی آرام نہیں کر سکے، جاوید ہاشمی بھی پیرانہ سالی کے باوجود موسلادھار بارش میں جم کر بیٹھے رہے، ان سب قائدین کو آرام کی شدید ضرورت تھی مگر ہوٹل جاتے وقت کسی کو یہ خیال نہ آیا کہ اس رات بھر جو مرد و زن ان کی محبت میں جاگتے اور بھیگتے رہے، ان کا کیا ہو گا؟ وہ اس موسم میں کدھر جائیں گے؟ تبدیلی کے وہ خواہشمند جو اپنے بیوی بچوں کو لے کر آئے ہیں، ان کی جائے پناہ کیا ہو گی اور 3 بجے تک ان کا پرسان حال کون ہو گا؟ عمران خان کی باتیں بہت دلنشین اور خیالات بہت اعلیٰ و ارفع ہیں، ہم سب چاہتے ہیں کہ ایک نیا پاکستان بنے، جس میں حقیقی جمہوریت ہو، جہاں ایک دوسرے کا احترام ہو، کوئی کسی کا حق نہ مارے، سیاستدانوں کے دلوں میں مسیحائی کا جذبہ اور عوام کا درد ہو۔ شیخ رشید کے بقول ایسا نہ ہو کہ اپنا بچہ روئے تو دل میں درد ہو اور غریب کا بچہ روئے تو سر درد ہو۔ لیکن گفتار سے قطع نظر جب میں نیا پاکستان بنانے والوں کے کردار کو دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں ،یہ پُرانا پاکستان ہی ٹھیک ہے۔

شیخ رشید کا ولولہ انگیز خطاب جاری تھا تو ان کے ایک جملےنے میری توجہ اپنی طرف مبذول کرائی، وہ فرما رہے تھے، قوم کے ساتھ 65 سال کے دوران کئی مرتبہ دھوکے ہوئے ہیں۔ میں نے ان کے اس ادھورے جملے کو یوں مکمل کیا کہ قوم کے ساتھ کئی مرتبہ دھوکے ہوئے ہیں اور میں ہر بار دھوکہ دینے والوں کے ساتھ رہا ہوں۔ بس پھر کیا تھا پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا گینگ نے گالیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ میرے ہم عصر کالم نگار، اینکر اور رپورٹر تو ایک عرصہ سے اس حسن سلوک سے مستفید ہو رہے ہیں مگر مجھے پہلی بار ان گالیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ دن بھر فیس بک اور ٹوئٹر پر مارچ کے شرکاء کی تعداد کے حوالے سے تبصرے ہوتے رہے، میں نے اپنی طرف سے تو تاحال کوئی رائے نہیں دی البتہ جب مختلف چینلوں، خبررساں اداروں اور دیگر ذرائع سے کوئی تخمنیہ آتا اور میں اسے شیئر کرتا تو عمران خان کے متوالے مشتعل ہو جاتے۔ مغرب کے بعد وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے ایک رپورٹر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لاکھوں افراد یہاں موجود ہیں، لاکھوں عمران خان کے ساتھ آ رہے ہیں۔ میں نے ان کا یہ جملہ ہو بہو بغیر کسی تحریف یا تبصرے کے شیئر کیا تو ایک بار پھر طوفان بدتمیزی بپا ہو گیا، شائد ایسا کرنے والوں کو بھی اس کا ادراک تھا کہ یہ دعویٰ مضحکہ خیز ہے مگر وہ اس پر اصرار کرتے رہے۔ جلسہ شروع ہوا تو پہلے مقرر ہی شیخ رشید تھے جنہوں نے مبالغہ آرائی کی تمام حدیں عبور کرتے ہوئے کہہ دیا کہ یہ ملین نہیں بلین مارچ ہے، دس ملین یعنی ایک کروڑ افراد موجود ہیں۔ تعجب ہے جب جلسہ ختم ہوا تو یہ ایک کروڑ افراد ایک گھنٹے سے پہلے منتشر ہو گئے۔ اس جلسے کی حاضری توقعات سے بہت کم تھی۔ سرکاری ادارے تو کہتے ہیں کہ 15 سے 20 ہزار افراد تھے لیکن بہت فراخدلی سے تخمینہ لگایا جائے تو بھی اس جلسے کے شرکاء کی تعداد 40 ہزار سے زائد نہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان کو دوبارہ شرکت کے لئے اپیل کرنا پڑی اور یہ کہنا پڑا کہ لاہور سمیت پنجاب کے کئی علاقوں سے قافلے اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔

عمران خان بیشک دھرنے کے زور پر اس حکومت کو بھگائیں اور نیا پاکستان ضرور بنائیں مگر اتنا تو بتائیں کہ کیسا ہو گا یہ نیا پاکستان؟ کیا خد وخال ہوں گے اس نئے پاکستان کے؟ کیا اس نئے پاکستان میں بھی امیر غریب، اور حکام عوام کی تفریق برقرار رہے گی؟ کیا اس نئے پاکستان میں قوم کا قائد عوام کو برستی بارش میں بھیگتا حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ کر اپنی رہائش گاہ میں خواب خرگوش کے مزے لینے چلا جائے گا؟

کیا اس نئے پاکستان میں یہ ہو گا کہ طبقہ اشرافیہ کے لوگ تو پنج تارہ ہوٹلوں کے آرام دہ کمروں میں محو استراحت ہوں اور غریب غرباء سڑکوں پر بے یار و مددگار پھرتے رہیں؟ کیا اس نئے پاکستان میں صوبائی دارالحکومت بارش اور طوفان کی زد میں ہو گا،چھتیں گرنے کے واقعات میں لوگ مر رہے ہونگے،سڑکوں اور گلیوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہو گا، لاکھوں بے گھر افراد امداد کے منتظر ہوں گے تو اس صوبے کا وزیر اعلیٰ اپنی کابینہ کے ہمراہ اسلام آباد میں گھوم رہا ہو گا؟ کیا ایسا ہی ہو گا نیا پاکستان جس میں عوام دکھ اور کرب کا شکار ہوں گے تو قائدین جشن طرب منا رہے ہونگے؟ کیا اس نئے پاکستان میں کہ مکرنیوں کا یہی عالم ہو گا کہ جس شخص کے بارے میں آپ کہا کرتے تھے، میں اسے چپراسی بھی نہ رکھوں، آج اسے اپنے ساتھ اسٹیج پر بٹھاتے اور انقلابی تقریریں کرواتے ہیں؟

کیا اس نئے پاکستان میں دروغ گوئی کا یہی عالم ہو گا کہ چند ہزار افرادکے مجمع کو لاکھوں نہیں، کروڑوں افراد کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر قرار دیا جائے؟ کیا اس نئے پاکستان میں تمام تر فیصلے سڑکوں پر ہوا کریں گے اور یہی دستور ہو گا کہ جو شخص لانگ مارچ کرنے میں کامیاب ہو جائے،پہلے موجود حکومت کا تختہ الٹ کر اسے وزیر اعظم بنا دیا جائے؟ کیا اس نئے پاکستان میں عدم برداشت اور حقائق سے چشم پوشی کا یہی عالم ہو گا کہ جو کوئی بھی آئینہ دکھانے یا سچ بتانے کی کوشش کرے گا ،اسے گالیوں سے نوازا جائے گا؟ یہ طفلان انقلاب کیا انقلاب لائیں گے جو تنقید سننے کو تیار نہیں۔ نیا پاکستان ضرور بنائیں لیکن پہلے اپنی صفوں میں تبدیلی لائیں۔ اپنے نونہلان انقلاب کو اخلاقیات سکھائیں، اپنی پارٹی میں جمہوری رویئے لائیں، اپنی ذات اور اپنے مزاج سے تکبر و نخوت نکال کر خود کو شاہانہ مزاج سے پاک کریں، عوام کے سامنے ثابت کریں کہ عمران خان اپنے موقف پر قائم رہتا ہے، لوگوں کو یہ باور کرائیں کہ جب بھی کوئی کڑا وقت آئے گا وہ قوم کے ساتھ کھڑے ہوں گے، ساتھ جئیں گے ساتھ مریں گے۔ لوگ واقعی اس نظام سے تنگ ہیں، روائتی سیاستدانوں سے عاجز ہیں، تبدیلی کے لئے ترس رہے ہیں اور تبدیلی کا لالی پاپ دینے والے ہر شخص کے ساتھ چل بھی پڑتے ہیںلیکن آپ ثابت تو کریں کہ آپ روائتی سیاستدانوں سے مختلف ہیں۔ لوگ آپ کو سر آنکھوں پر بھی بٹھائیں گے اور وزیر اعظم بھی بنائیں گے، پہلے اپنی اہلیت تو ثابت کریں۔ سب کے سب اس پرانے پاکستان سے تنگ ہیں اور تبدیلی چاہتے ہیں لیکن بتائیں تو سہی نیا پاکستان پہلے والے سے کتنا مختلف ہو گا؟

محمد بلال غوری
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ 

No comments:

Powered by Blogger.