Header Ads

Breaking News
recent

پتن مینار.....Patan Minar


تاریخی عمارتیں ہر قوم کے نزدیک بڑی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں پتن مینار بھی ایک ایسی ہی تاریخی عمارت ہے جس کی تعمیر کے پیچھے باقاعدہ ایک تاریخ ہے۔ یہ تاریخی ورثہ اب تباہی کی جانب بڑھ رہا ہے اس کے اردگرد کی تمام زمین فروخت کر دی گئی ہے۔ اب اسے منہدم کر دیا جائے گا اور یہاں کاشت کاری شروع ہو جائے گی۔ رحیم یار خان سے 15 کلو میٹر کے فاصلے پر پتن مینار واقع ہے پتن مینار کے اردگرد کا علاقہ کپاس کی کاشت کے لیے مشہور ہے یہاں سے بڑی مقدار میں روئی حاصل کی جاتی ہے۔

 لیکن ان کھیتوں کھلیانوں کے درمیان کھڑا تاریخی ورثہ کسی کی توجہ کا مرکز نہیں۔ اب یہ صرف اینٹوں کا ایک مینار باقی رہ گیا ہے جو کسی بھی وقت زمین بوس ہو سکتا ہے۔ اس مینار تک پہنچنے کے لیے ایک ٹیلے پر مبنی سیڑھیوں سے گزرنا پڑتا ہے یہاں محکمہ اوقاف پنجاب کی جانب سے تختی آویزں ہے جس پر اسے تاریخی ورثہ قرار دیئے جانے سے متعلق عبارت درج ہے۔ مینار بھی آدھا زمین میں دھنس چکا ہے اور تختی پر واقع تحریر بھی واضح نہیں رہی۔ یہاں مقیم لوگ مینار کی تاریخ سے واقف ہیں اور اس کے متعلق مختلف قصے کہانیاں بیان کرتے ہیں۔ مولوی خلیل احمد کے مطابق پتن مینار 326 قبل ازمسیح میں تعمیر کیا گیا تھا جس وقت یہ تعمیر ہوا اس کے پہلو سے دریائے سندھ سے نکلنے والا ایک چھوٹا دریا گھاگرا گزرا کرتا تھا۔ اس مینار نے بہت سی ثقافتیں اور قومیں گزرتی دیکھی ہیں۔ یہ موہنجودڑو، ہڑپہ اور ٹیکسلا سے مطابقت رکھتا ہے اور بدھ مت، آریان، برہمنوں کے علاوہ یہ افغان حکمران فیروز شاہ تغلق کے زمانے میں بھی اہم مقام رہا۔ کئی حکمران دوران سفر یہاں قیام کیا کرتے تھے۔

 سکندر اعظم برصغیر پر حملہ آور ہوا تو اس مقام پر اپنی فوجی چھائونی تعمیر کروائی تھی جس کا انتظام ایک یونانی گورنر کے ہاتھ میں تھا یونانیوں نے یہاں ایک یونیورسٹی اور کمپلیکس بھی تعمیر کروایا تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس جگہ کی اہمیت میں کمی واقع ہوتی چلی گئی پہلے چونکہ اس کے قریب سے دریا گزرا کرتا تھا بعد میں دریائے سندھ نے اپنا رخ موڑ لیا اور اس میں سے نکلنے والا چھوٹا دریا بھی خشک ہوگیا جس کے بعد یہاں آباد کاروں نے بھی ہجرت کرلی اور یہ جگہ محض کھنڈر بن کر رہ گئی۔1849ء میں ماہر تعمیرات کرنل منچن نے یہاں پر خزانے کی تلاش کا کام شروع کیا تھا لیکن یہ بھی مشہور تھا کہ یہ خزانہ روحانی طاقتوں کے قبضے میں ہے اس لیے خزانے تک پہنچنا ممکن نہیں ہے لیکن اس کے باوجود کرنل نے کھدائی کا عمل جاری رکھا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ خزانے تک پہنچ گیا تھا۔

 انہیں اس دوران ایک راستہ مل گیا تھا۔ کھدائی کے جاری عمل میں یہاں مزدوروں پر اچانک غیبی حملہ ہوگیا یوں اس سوراخ کو بند کر دیا گیا۔ کرنل منچن کی شروع کردہ خزانے کی یہ کھوج یہیں ختم نہیں ہوگئی بلکہ تلاش کا یہ عمل جاری رہا۔ ریاست بہائولپور کے نواب صادق عباسی کے دور حکمرانی میں بھی خزانے کی تلاش کا کام شروع ہوا انہوں نے اپنے وقت کے کئی جوگیوں اور روحانی پیروں کی مدد حاصل کی لیکن ان تمام تر کوششوں کے باوجود وہ اپنے مقصد میں ناکام رہے۔ پتن مینار سے چند سو گز کے فاصلے پر ایک قدیم مسجد بھی ہے جسے ابوبکر مسجد کے نام سے پکارا جاتا ہے اسے ایک مسلم حکمران محمد ابو بکر سانول سائیں نے 1849ء میں تعمیر کرایا تھا اس جگہ پہلے ایک مندر تھا جو سولنگ کے نام سے جانا جاتا تھا لیکن جب سانول کو شیولنگ کے کارناموں کا اندازہ ہوا تو اس مندر کو زمین بوس کرنے کا حکم دیا اور اس کی جگہ مسجد کی تعمیر کا حکم جاری کر دیا۔ یہ مسجد پتن مینارہ کے قریب آج پوری شان و شوکت سے کھڑی ہے۔ اس کی حفاظت کی جا رہی ہے اور یہاں پانچ وقت نماز ادا ہوتی ہے۔ مقامی طور پر کئی مرتبہ کوشش کی گئی کہ پتن مینار کو خوبصورتی اور دوام بخشا جائے اور اسے تاریخی ورثے کے طور پر عوام کے سامنے پیش کیا جائے اس کے اردگرد کمپلیکس اور پارک تعمیر کیا جائے تاکہ لوگ اس کی جانب متوجہ ہوں اس سلسلے میں رحیم یار خان کے عباس زیدی نے 1993ء میں ان امور کی جانب قدم بڑھایا اور اس مقصد کے لیے کثیر زرمبادلہ بھی وقف کیا گیا اور اس سلسلے میں کام شروع کر دیا گیا پھر نہ جانے کیوں یہ منصوبہ اچانک ہی کھٹائی میں پڑ گیا۔

 (شیخ نوید اسلم کی کتاب ’’پاکستان کے آثارِ قدیمہ ‘‘ سے ماخوذ)

No comments:

Powered by Blogger.