Header Ads

Breaking News
recent

آخری سوویت وزیرخارجہ ایڈورڈ شیورڈناڈزے.......


جارجیا ،کا کیشیا سے تعلق رکھنے والی بحیرۂ اسود کے کنارے ایک خوب صورت ریاست ہے، آرمینیا، ترکی اور روس سے اس کی سرحدیں ملتی ہیں۔ ایشیا اور یورپ کے بیچ یہ خطہ اپنی ایک شاندار تاریخ رکھتا ہے۔ میں نے جارجیا کو ترکی کے سرحدی شہر آرِتون سے کئی بار حسرت بھری نگاہوں سے دیکھا ہے۔ اس زمانے میں بھی جب جارجیا ،سابق سوویت یونین کی ایک ری پبلک تھی۔ ایڈورڈ شیورڈ ناڈزے جو سابق سوویت یونین کے آخری وزیر خارجہ تھے، ان کی شخصیت اور سیاست بڑے تضادات کی شکار رہی ہے۔ انہوں نے سابق سوویت ری پبلک جارجیا میں کرپشن کے خلاف جب آواز بلند کی تو پہلے ان کو طاقتور حکومتی حلقوں میں مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، بعد میں وہ اسی بنیاد پر ماسکو میں اپنا مقام بنانے میں کامیاب ہوئے۔ انہوں نے بحیثیت فرسٹ سیکریٹری آف جارجین ری پبلک، معاشی اور زرعی اصلاحات کرکے جارجین ری پبلک کو ایک ماڈل کے طور پر سارے سوویت یونین میں پیش کیا۔ اقتدار اور حکومتی کشمکش میں انہوں نے کمیونسٹ حکمرانی کے روایتی حلقوں میں ایک نقاد کی شناخت بنائی، حتیٰ کہ سٹالن کے حوالے سے ان کے نظریات اور کمیونسٹ پارٹی میں کرپٹ بیورو کریسی پر تنقید، لیکن اعلیٰ پرفارمنس ان کے سیاسی کیریئر کے راستے کی تمام رکاوٹیں دور کرتی چلی گئی اور یوں انہوں نے ماسکو کے اشتراکی حلقوں میں بہت بڑا مقام حاصل کر لیا۔

جارجین ری پبلک میں وزیر داخلہ اور کمیونسٹ رہنما کے طور پر وہ ایک اینٹی کرپشن اور کامیاب معیشت کے بانی جانے لگے۔ ان کی کوششوں سے جارجین ری پبلک پورے سوویت یونین میں نمایاں تھی کہ جہاں پر اقتصادی و معاشی جمود قائم نہ ہو سکا۔ شیورڈناڈزے کی زرعی اصلاحات نے جارجین ری پبلک میں زرعی انقلاب برپا کر دیا اور ان اصلاحات کے بعد جارجیا کے کاشتکاروں کو زرعی پیداوار میں حصہ دار بنا دیا گیا۔ جارجیا، شیورڈ ناڈزے کے دور میں زرعی اور صنعتی حوالے سے پورے سوویت یونین میں ماڈل بن کر ابھرا۔ جارجیا ایک حساس سٹرٹیجک خطہ ہے، جس کے ایسٹونیا، ابخازیہ اور آذربائیجان سے علاقائی تنازعات ہیں جو سوویت دَور میں بھی پائے گئے اور اس کے بعد یہ تنازع زیادہ شدت میں دیکھا گیا۔ ایڈورڈ شیورڈ ناڈزے، جارجین ری پبلک میں کامیاب حکمرانی کے بعد اعلیٰ سوویت لیڈر شپ میں شمار ہونے لگے اور جب سابق سوویت رہنما چرننکو کا انتقال ہوا تو وہ میخائل گوربا چوف کے قریب ہو گئے اور دنیا کے طاقتور وزیرخارجہ کے طور پر جانے گئے۔ وہ آندرے گرومیکو کے بعد 2 جولائی 1985ء کو سوویت یونین کے وزیر خارجہ نامزد ہوئے۔ ان کو سرد جنگ کے خاتمے کا ایک طرح سے بانی قرار دیا جاتا ہے کہ جس نے ریاست ہائے متحدہ کے ساتھ بھرپور سفارت کاری کرکے سوویت امریکہ تعلقات کو ایٹمی خطرات سے نکالنے کے لیے عملی اقدامات اور معاہدات کیے۔

دلچسپ تاریخ دیکھیں ،ستر کی دہائی میں شیورڈناڈزے نے ایک سائنس دان اور 
لکھاری، زویدگم سوخردہ کو پابند سلاسل کیا اور جب سوویت یونین تحلیل ہوا تو یہی زوید گم سوخردہ خود مختار جارجیا کا پہلا حکمران بنا۔ اس کے بعد ایڈورڈ شیورڈ ناڈزے 1995ء میں 70 فیصد ووٹ لے کر صدر منتخب ہوئے۔ مگر اب جارجیا اور ایڈورڈ شیورڈ ناڈزے ایک نئے دور میں داخل ہوئے۔ وہ سوویت رہنما جو کبھی اینٹی کرپشن کے زمرے پر اشتراکی نظام میں مقبول ہوا، اب اس کا دور کرپشن اور لوٹ مار سے عبارت ہوا، معیشت برباد ہوئی اور جارجیا، امریکہ کا طفیلی ملک بننے کی طرف گامزن ہوا بلکہ جارجیا ،امریکہ کے لیے کاکیشیا میں علاقائی تنازعات میں الجھنے کے لیے ایک Base کے طور پر اپنا کردار بنانے کے لیے آگے بڑھا، روس کے ساتھ تعلقات شدید متاثر ہوئے۔

ایڈورڈ شیورڈناڈزے، امریکہ کے علاقائی عسکری مفادات کے محافظ اور ناکام حکمران کے طور پر پہچانے جانے لگے۔ اس دوران ایڈورڈ شیورڈ ناڈزے کو کار بم دھماکے میں اڑانے کی کوشش کی گئی اور وہ اس قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہوئے۔ پھر 2003ء میں امریکہ نے سی آئی اے کی منصوبہ بندی کے تحت نام نہاد ’’گلاب انقلاب‘‘ برپا کرکے سابق کامیاب اشتراکی رہنما اور دنیا کے طاقتور سفارت کار اور نئی ری پبلک کے اس طفیلی رہنما کو اقتدار سے باہر کیاگیا۔ اس نام نہاد انقلاب کی تیاری میں امریکہ کے ’’عالمی شہرت یافتہ NGO‘‘ رہنما جارج سورس اور اس کی NGO ”Open Society” نے اہم کردار ادا کیا۔ جرمن حکومت نے ایڈورڈ شیورڈ ناڈزے کو اس کی اشتراکی دَور میں دنیا میں ایٹمی تناؤ کو ختم کرنے کی جدوجہد کے سلسلے میں اپنے ہاں قیام کرنے کی دعوت دی لیکن ماضی کا کامیاب اشتراکی رہنما اور حال کا متنازع جارجین لیڈر اس تضاداتی شناخت کے ساتھ آخری سانسوں تک کاکیشیا کی خوب صورت سرزمین پر ہی رہا اور یہیں سے ہی اس جہانِ فانی سے کوچ کر گیا۔


بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات 

No comments:

Powered by Blogger.