Header Ads

Breaking News
recent

کیا پارلیمنٹ کی کوئی وقعت ہے؟........


سیاسی رہنماؤں کی جانب سے پارلیمان کی بالادستی سے متعلق اپنے عزم کا مسلسل اظہار کرنے کے باوجود اسمبلی میں ان کا حقیقی رویہ اس اصول پر پورا نہیں اترتا۔ اپنے پہلے پارلیمانی سال میں قومی اسمبلی نے ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے جب کہ وزیرچاعظم نواز شریف کی حکومت نے بھی پارلیمنٹ کو حکمرانی کا کلیدی حصہ بنانے میں زیادہ دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا۔چیہ بات کئی طریقوں سے پتہ چلتی ہے جس کی سب سے نمایاں توضیح یہ حقیقت ہے کہ شریف حکومت اقتدار کے پہلے سال کوئی ایک قانون بھی منظور کرانے میں نا کام رہی۔
حکمراں جماعت اپنے اس خراب ریکارڈ کے دفاع میں یہ دعویٰ کر سکتی ہے کہ قومی اسمبلی میں 11 بل (جو کوئی معقول تعداد نہیں) منظور ہوئے لیکن کئی بل سینیٹ میں روک لئے گئے یا پھر موخر کر دیئے گئے کیونکہ سینیٹ پر حکومت کو کوئی کنٹرول حاصل نہیں۔ لیکن قوانین کی منظوری کی راہ ہموار کرنے کے لئے پارلیمانی اتفاق رائے پیدا کرنا اور اسمبلی میں حمایت اکٹھی کرنا جمہوریت کے اندر حکومت کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ جب کہ قوانین سازی میں ناکامی کے عذر تراشنا ان ذمہ داریوں میں شامل نہیں۔ اور نہ ہی اس سے موجودہ حکومت کی اس نمایاں ترجیح کی پردہ پوشی ہوگی جو اس نے آرڈیننس کے ذریعے قوانین سازی کرنے کے لئے اپنائی تھی۔

حال ہی میں اپنا پہلا سال مکمل کرنے والی 14 ویں قومی اسمبلی کی کار کردگی متاثر کن نہیں رہی۔ قائد ایوان کے طور پر وزیر اعظم نے اسمبلی کی کارروائیوں میں کبھی کبھار ہی شرکت کی اور اقتدار کے پہلے سال ایک بار بھی سینیٹ نہ آکر پارلیمانی تاریخ رقم کی۔ اس سے وزراء کے لئے بھی ایک مثال قائم ہوئی جنہوں نے اسمبلی نہ آنا معمول بنالیا۔ مثال کے طور پر بجٹ بحث شروع ہونے کے ایک دن بعد حکومتی نشستوں کی اگلی قطاریں خالی پڑی تھیں۔ سینیٹ میں تو صورت حال اور بھی زیادہ خراب تھی۔ جب بجٹ بحث شروع ہوئی تو اطلاعات کے مطابق حکومتی نشستوں پر ایک بھی رکن موجود نہ تھا۔ اس پر اپوزیشن نے حکومت کے متکبرانہ رویّے کے خلاف احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔ یہ بائیکاٹ صرف تب جا کر ختم ہوا جب حکمراں جماعت کے ایک رکن نے سینیٹ کو وزراء کے حاضر ہونے کی یقین دہانی کرائی۔ بالآخر 5 وزراء سینیٹ میں حاضر ہوئے۔ اپوزیشن کے دباؤ پر ہونے والی اس حاضری کے باوجود حکومتی اراکین نے پارلیمانی کارروائیوں میں دلچسپی لینا شروع نہ کی۔

حتیٰ کہ پیپلزپارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن ارکان پارلیمان قومی اسمبلی میں کورم کے پورا نہ ہونے اور حکمراں جماعت کے ہاتھوں پارلیمنٹ کی بے توقیری کی طرف اکثر و بیشتر اسپیکر کی توجہ دلاتے رہے لیکن بجائے اس کے کہ ایک مستقل مسئلے کو حل کرنے کے لئے حکومتی نشستوں کی جانب سے کوششیں کی جاتیں، ان شکایات کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیا گیا۔ ایسے میں اسپیکر نے اسمبلی کی تمام کمیٹیوں میں کی جانے والی تقرریوں کو پہلے سال کی کامیابی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی، جس نے یہ عمل ہی الجھن میں ڈال دیا۔ موجودہ قومی اسمبلی کے پہلے سال کے نا خوشگوار ریکارڈ کے پیچھے کئی وجوہات ہیں جن میں سے چار اہم ہیں۔ پہلی کا تعلق حکمراں جماعت اور پارلیمانی اداروں سے متعلق اس کے رویے سے ہے۔
دوسری کا تعلق نئی پارلیمانی پارٹی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے موقف سے ہے جب کہ تیسرے پہلو کا تعلق اس حقیقت سے ہے کہ اراکین پارلیمان کی نمایاں تعداد سیاسی جماعتوں سے وفاداری نبھانے میں اس لئے بھی حد سے تجاوز کرتی ہے کیونکہ وہ پالیسی امور پر اپنے حلقوں کی نمائندگی کرنے کے بجائے اپنی حیثیت کو بد ستور سر پرستی اور مراعات حاصل کرنے کے نظام تک رسائی کا ذریعہ سمجھتی ہے۔ چوتھی چیز ملک میں 24/7 چلنے والی میڈیا نشریات کے عروج کے بعد سے سامنے آئی ہے یعنی سیاسی جماعتوں کا اپنے نمائندوں کو ٹاک شوز میں بھیجنے کو ترجیح دینے کا رجحان، بجائے اس کے انہیں پارلیمانی بحث و مباحثے میں شامل ہونے کا حکم دیا جاتا۔ ان عوامل کے مجموعی نتیجے نے پارلیمان کے کردار کو بے توقیر اور اس کی افادیت کو کم کیا ہے۔

چونکہ اکثریت رکھنے والی جماعت ہی پارلیمانی سرگرمی کے لئے ماحول اور اس کی اساس بناتی ہے لہٰذا اس کا رویہ ہی موجودہ اسمبلی کے ایک متحرک کے بجائے غیر موثر فورم میں تبدیل ہونے کی بنیادی وجہ ہے۔ یہ رویہ وزیراعظم نواز شریف کے ماضی کے دو ادوار کا ایک تسلسل لگتا ہے، جب انہوں نے پارلیمان کو بنیادی طور پر پارٹی کو اقتدار میں رکھنے کا ایک ذریعہ بناکر رکھ دیا تھا بجائے اس کے کہ اسے طرز حکمرانی کا ایک آلہ بناتے یا ایک ایسا فورم بناتے جہاں قوانین پیش اور تشکیل دیئے جاتے اور جہاں پالیسی کی وضاحت اور اس پر بحث کی جاتی۔
اس بار بھی حکمراں جماعت نے قانون سازی اور سوچ و بچار دونوں فرائض کو زیادہ موثر طور پر ادا کرنے کے لئے اسمبلی کی حوصلہ افزائی کرنے میں بے دلی کا مظاہرہ کیا ہے۔ مضحکہ خیز امر یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کی بھاری اکثریت سے بھی اس کے رہنماؤں کو اس بات کا حوصلہ نہیں ملا کہ وہ پارلیمنٹ کو زیادہ موثر کردار ادا کرنے کے لئے طاقتور بناتے۔وہ عدم تحفظات جو ایک ایسی حکومت کو لاحق ہوتے ہیں جسے معمولی اکثریت حاصل ہو اور بے بھروسہ اتحادیوں پر انحصار کرنا پڑتا ہو، ایسے عدم تحفظات سے پاک ایک اکثریتی پارٹی کو قوانین کی تشکیل اور بحث و مباحثے میں معنی خیز حصہ لینے کے لئے اپنے اراکین کی حوصلہ افزائی کرنے میں کوئی ڈر نہیں ہونا چاہئے۔

لیکن حکومت پارلیمانی بحث و مباحثے کی اہمیت کو اتفاق رائے پیدا کرنے اور اپنی پالیسوں کے لئے حمایت اکٹھی کرنے کے طریقہ کار کے طور پر سمجھنے میں ناکام رہی ہے۔ حکمراں جماعت پارلیمنٹ کی قدر و قیمت کو موقف کے اظہار، موقف بدلنے اور موقف کے تبادلے کے فورم کے طور پر پہچاننے میں نا کام رہی لہٰذا اس نے اپنے پالیسی اقدامات کو چھان بین کے عمل سے گزارنے کے لئے پارلیمانی بحث و مباحثے کو ایک ذریعے کے طور پر استعمال نہیں کیا۔ اگر وہ ایسا کرتی تو ان اقدامات کی قانونی حیثیت میں بہت اضافہ ہوتا اور ایسے پارلیمانی امتحانات کی چھلنی سے گزر کر ان میں بہتری آتی۔ پارلیمانی مباحثے کے خلاف اس مزاحمت کی وجہ چاہے اپنے ہی اراکین پر حکومتی اعتماد کی کمی ہو یا پارلیمنٹ کی کارگزاری کو سمجھنے میں کمی، نتیجہ مجلس قانون ساز کے کردار کے زوال اور استحصال کی صورت ہی بر آمد ہوا ۔
اسمبلی میں دوسری سب سے بڑی اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی کے رویے نے بھی کسی حد تک اس نتیجے میں اپنا حصہ ملایا ہے۔ ایک نئی سیاسی قوت پارلیمانی کارروائیوں سے نئی زندگی اور نیا ولولہ حاصل کر سکتی تھی لیکن پارٹی یہ فیصلہ کرنے میں ہی ناکام رہی کہ اسمبلی کو سنجیدگی سے لے یا پھر اس کی قانونی حیثیت پر اعتراض اٹھائے۔

اس طرح، وہ پارلیمنٹ کو اپنے نظریات پر زور دینے کے لئے استعمال کرنے یا پھر جلسے جلسوں کی سیاست کو ترجیح دینے کیلئے اسے نظر انداز کرنے کے دو پہلوؤں کے درمیان ہی پھنسی رہی۔ اب تک تحریک انصاف نے اپنے نگراں کردار کو مضبوط بنا کر اور حکومت کا احتساب کرنے کا مطالبہ کر کے جانتے بوجھتے ایک کارگزار پارلیمنٹ کا موقع گنوا دیا ہے۔ اسمبلی میں ایک منقسم اپوزیشن نے اس کے کردار کو مزید کمزور کیا۔ اس پہلو سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ پارلیمانی اپوزیشن نے حکومت کا احتساب کرنے اور اس کے اقدامات کی مکمل نگرانی کرنے کی اپنی کلیدی ذمہ داریوں کو عمدہ طریقے سے نہیں ادا کیا ۔
ایک تیسری رکاوٹ جس نے پارلیمنٹ کی صلاحیت کو مزید موثر ہونے سے روکا، عوامی نمائندوں کی وہ قسم ہے جس کا بدستور اسمبلی کی رکنیت خصوصاً حکمراں جماعت پر غلبہ ہے لیکن دیگر جماعتیں بھی اس خرابی سے مبرا نہیں۔ حلقہ جاتی سیاست میں طاق اور اقربا پروری کے کلچر میں پروان چڑھنے والے اس قسم کے اراکین قومی امور کے بجائے چھوٹے موٹے معاملات میں الجھے رہتے ہیں۔
ان نمائندوں کے لئے منتخب نشست بنیادی طور پر ریاستی سرپرستی حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہوتی ہے جس سے انہیں اپنے طاقت کے مقامی مرکز کو مضبوط کرنے میں مدد ملے۔ ان کی سیاست کا عوامی پالیسی سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا بلکہ انہیں ترقیاتی فنڈز کی تقسیم اور اپنے حامیوں کے نیٹ ورکس کی سرپرستی کی فکر ہوتی ہے لہٰذا ایسے اراکین پالیسیوں اور مملکت کے قوانین کی تشکیل میں اپنے حلقوں کے مجموعی مفادات کی نمائندگی کرنے کی اپنی ذمہ داریوں سے بالکل غافل ہوتے ہیں۔ کئی لوگوں کے لئے پارلیمنٹ کی رکنیت ایک مراعات کے کلب میں گھسنے کا ذریعہ ہوتی ہے تاکہ ریاستی وسائل سے فوائد اٹھاسکیں۔ اس لئے اس پر کوئی حیرت نہیں ہونی چاہئے کہ وہ اسمبلی کی کارروائیوں میں باقاعدگی سے شرکت اور ان میں فعال طریقے سے حصہ لینے کی زحمت کیوں نہیں کرتے۔

چوتھی وجہ 24/7 چلنے والی میڈیا نشریات کی حرکیات سے پیدا ہوئی ہے۔ یہ سیاسی بحث و مباحثے کے لئے تیزی سے ایک مسابقتی فورم بن چکا ہے اور کئی سیاست دان معاملات پر بحث اور قانون سازی پر اثر انداز ہونے کے لئے باقاعدگی سے پارلیمنٹ کا رخ کرنے کے بجائے ٹیلی ویژن پر آنے کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ ان کے خیال میں ٹیلی ویژن منظر عام پر آنے کے فوری اور زیادہ مواقع فراہم کرتا ہے جب کہ پارلیمانی شرکت اتنی زیادہ موثر نہیں ہوتی۔بلاشک و شبہ، میڈیا سے اس طرح کے روابط رکھنا 24/7 چلنے والی نشریات سے بننے والے نئے ماحول میں ایک سیاسی مجبوری ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پارلیمنٹیرین ٹی وی پر آنے کو پارلیمانی سرگرمیوں کا متبادل سمجھنے لگیں۔ یہ ایک منتخب نمائندے کی حیثیت سے ان کی بنیادی ذمہ داری سے پہلو تہی ہوگی۔ اس سے ایک اور برا پہلو بھی نکلتا ہے۔

اراکین بحث و مباحثے کے ایک مقام کی حیثیت سے پارلیمنٹ کو جتنا زیادہ نظر انداز کرتے ہیں میڈیا پیدا ہونے والے خلاء کو اتنا ہی زیادہ بھرتا جاتا ہے، جس سے پارلیمنٹ کا مباحثے کے ایک کمرے کی حیثیت سے کردار مزید کمزور ہوگیا ہے۔ ان مختلف وجوہات کی بنا پر پارلیمانی افادیت اس سطح اور معیار تک نہیں پہنچ سکی ہے جس کی توقع کی جارہی تھی۔ مزید اہم یہ کہ قومی اسمبلی کی جانب سے تاحال وہ محوری کردار ادا کیا جانا باقی ہے جو اسے جمہوری طرز حکومت میں ادا کرنا چاہئے۔ یہ ایک عجیب و غریب امر ہے کہ ملک اپنی زیادہ تر تاریخ میں حقیقی نمائندہ اداروں سے محروم رہا ہے لیکن جب اسے یہ ادارے میسر ہیں تو اس کے اراکین انہیں اہمیت دینے اور سیاسی اداروں کو مضبوط کرنے پر آ مادہ نہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

No comments:

Powered by Blogger.