Header Ads

Breaking News
recent

پاکستانیوں پر بین الاقوامی سفری پابندیاں


بالآخر وہی ہوا جس کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا تھا اور جس خطرے کا ذکر میں نے اپنے کئی کالموں میں کیا تھا مگر اعلیٰ حکام نے پولیو کی روک تھام اور مکمل خاتمے پر اپنی توجہ مرکوز نہ کی اور غفلت کی نیند سوتے رہے۔ ہماری آنکھ اُس وقت کھلی جب گزشتہ دنوں عالمی ادارہ صحت (WHO) نے پاکستان میں پولیو کی خطرناک صورتحال کے باعث اسے دنیا میں ’’وائلڈ پولیو وائرس‘‘ کے پھیلائو کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے پاکستانی شہریوں پر سفری پابندیاں عائد کردیں ان پابندیوں کے تحت پاکستانی شہریوں پر یہ لازم ہوگا کہ وہ بیرون ملک سفر سے پہلے انسداد پولیو کی ویکسین پئیں جبکہ ان کے پاس ویکسین پینے کا سرٹیفکیٹ بھی ہونا چاہئے جس کے بغیر وہ بیرون ملک سفر نہیں کرسکیں گے۔ اس کے علاوہ عالمی ادارہ صحت کی ہدایت کے مطابق وزیراعظم پاکستان پولیو مہم کے لئے سرکاری طور پر ہیلتھ ایمرجنسی لگانے کا اعلان بھی کریں گے۔

پاکستان پر یہ پابندیاں پولیو وائرس بیرون ملک منتقل نہ ہونے کی صورت میں 6 ماہ تک لاگو رہیں گی جبکہ متاثرہ علاقوں میں پولیو سے بچائو کے اقدامات نہ کئے جانے کی صورت میں اس کی مدت 12 ماہ تک بڑھا دی جائے گی اور یہ بات یقینی بنائی جائے گی کہ پاکستان کے ان علاقوں سے یہ وائرس بیرونی دنیا منتقل نہ ہو۔ WHO کی پابندیوں کے بعد پاکستان کا شمار شام اور کیمرون جیسے ممالک میں ہوگیا ہے جبکہ اس کے برعکس بھارت اور بنگلہ دیش جیسے ممالک کو پہلے ہی پولیو سے پاک قرار دیا جاچکا ہے۔ پاکستان میں عالمی ادارہ صحت کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ سال اور سال رواں کے دوران پولیو کے سب سے زیادہ کیسز ریکارڈ کئے گئے، اس لئے اس کے وائرس کو دنیا کے دیگر ممالک میں پھیلنے سے روکنے کے لئے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ پاکستانی شہریوں کے بیرون ملک سفر پر پابندیاں عائد کردی جائیں۔ ان کے بقول گزشتہ ایک سال کے دوران شام، مصر اور چین میں جو پولیو کیسز سامنے آئے ہیں، وہ وائرس پاکستان سے منتقل ہوا ہے جس سے دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پولیو کے نئے مریضوں کی تعداد میں رواں سال 600 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ اس دوران مرض میں مبتلا افراد کی تعداد 62 ہو چکی ہے جن میں سے بیشتر کیسز شمالی وزیرستان اور 6 کیسز کراچی کے ایسے نواحی علاقوں سے منظر عام پر آئے ہیں جہاں کی زیادہ تر آبادی کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے جبکہ پابندی کے بعد مزید 3 نئے کیسز کے انکشاف نے صورت حال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ واضح ہو کہ کچھ ماہ قبل عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے ملاقات کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیو کے بڑھتے ہوئے کیسز پر تشویش کا اظہار کیا تھا جبکہ انہوں نے صدر اور وزیراعظم سے ملاقات کے دوران پاکستان پر پابندی کا عندیہ بھی دیا تھا مگر اسے سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔

پاکستان میں پولیو کے بڑھتے ہوئے کیسز کا سامنے آنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ پولیو کے خلاف حکومتی مہم سست رفتاری اور ناکامی کا شکار ہوئی ہے۔ ملک میں پولیو کیسز میں اضافے کی ایک بڑی وجہ پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں اور سیکورٹی اہلکاروں پر دہشت گردوں کے حملے بھی ہیں جن میں درجنوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ حکومت شدت پسندوں کے سامنے بے بس نظر آتی ہے۔ اس کے علاوہ کچھ محدود ذہن کے حامل ملک دشمن عناصر نے یہ گمراہ کن مفروضہ بھی پھیلا رکھا ہے کہ پولیو کے قطرے مسلمان بچوں کے خلاف امریکیوں اور یہودیوں کی مشترکہ سازش ہے جس کا مقصد بچوں کو نامرد کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان مفروضوں کے سبب پشاور اور وزیرستان جیسے علاقے پولیو وائرس کا مرکز بن کر ابھرے۔ پولیو مہم کی ناکامی کی ایک اور وجہ کرپشن بھی ہے کیونکہ مہم پر خرچ ہونے والی کروڑوں ڈالر کی امداد اعلیٰ حکام کی جیبوں میں چلی جاتی ہے جبکہ ہیلتھ ورکرز جو اپنی جانوں پر کھیل کر سماجی خدمات انجام دے رہے ہیں، کو آٹے میں نمک کے برابر معاوضہ دیا جاتا ہے۔

پولیو جیسے ہولناک مرض کا ملک میں تیزی سے پھیلنا، دنیا بھر میں اس حوالے سے تشویش پایا جانا اور پھر پابندیاں عائد کرنا ایک سنگین مسئلہ اور لمحہ فکریہ ہے جس کے ملک پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ WHO نے وزیر مملکت برائے نیشنل ہیلتھ سروسز سائرہ افضل تارڑ کی درخواست پر پولیو ویکسین منصوبے پر پیشرفت اور ویکسین کی خریداری کے لئے 2 ہفتے کی مہلت دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے لیکن WHO کے مالی امداد سے انکار کے بعد حکومت کے لئے اس وقت سب سے بڑا مسئلہ پولیو ویکسین کی خریداری ہے جس کے لئے 80 کروڑ روپے درکار ہیں۔ اس معاملے پر وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ پولیو ویکسین کی خریداری صوبائی حکومتوں کا معاملہ ہے۔ ایسی صورت حال میں لگتا ہے کہ حکومت کے پاس عالمی پابندیوں سے نمٹنے کے لئے کوئی واضح حکمت عملی نہیں تاہم یہ اقدام قابل تحسین ہے کہ وفاقی حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لئے ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور سرحدوں پر پولیو ویکسی نیشن کے لئے خصوصی کائونٹر قائم کرنے شروع کر دیئے ہیں جہاں ہر مسافر کو پولیو ویکسی نیشن کے خصوصی کارڈ جاری کئے جائیں گے۔

پاکستان کے مختلف ایئر پورٹس سے روزانہ تقریباً 27 ہزار افراد بیرون ملک سفر کرتے ہیں اور حکومت کے لئے یہ مرحلہ یقینا انتہائی دشوار کن ہو گا۔ پاکستانی شہریوں کو پہلے ہی گرین پاسپورٹ کے سبب کئی مشکلات کا سامنا تھا لیکن WHO کی حالیہ پابندیوں کے باعث اُنہیں بین الاقوامی ایئر پورٹس پر الگ قطار میں کھڑا ہو کر دستاویزات کی جانچ پڑتال کے دوران تضحیک آمیز سلوک بھی برداشت کرنا ہوگا اور اُن کے لئے بیرون ملک سفر کرنا انتہائی مشکل ہو جائے گا،اس کے علاوہ سعودی عرب، خلیجی ریاستوں اور یورپ میں اُن کے روزگار کو بھی خطرات لاحق ہو جائیں گے۔

عالمی ادارہ صحت کی پابندیاں ایک کھلا پیغام ہے کہ پاکستان انسداد پولیو کے لئے سنجیدہ اقدامات کرے۔ پابندیوں کے بعد وزیر مملکت سائرہ افضل تارڑ کا یہ کہنا کہ ’’بہت جلد پولیو مہم کے لئے ایک خصوصی مہم شروع کی جارہی ہے جس میں امام کعبہ بھی شرکت کریں گے‘‘ کافی نہیں کیونکہ ایسے اقدامات پہلے بھی اٹھائے جا سکتے تھے جبکہ ایسی صورت حال میں جب طالبان حکومت سے مذاکرات کے لئے اپنے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کررہے تھے، حکومت کو طالبان سے پولیو ٹیموں پر حملہ نہ کرنے کی یقین دہانی حاصل کرنا چاہئے تھی۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ عالمی ادارہ صحت کو گوش گزار کرائے کہ خیبر پختونخوا اور شمالی علاقوں میں پولیو مہم متاثر ہونے کی ایک بڑی وجہ امریکی سی آئی اے کی اسامہ بن لادن کی تلاش کے لئے ڈاکٹر شکیل آفریدی کے ذریعے چلائی جانے والی وہ جعلی پولیو مہم تھی جس کے باعث عوام کا پولیو مہم پر سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔

اس کے علاوہ حکومت کو چاہئے کہ وہ پولیو سرٹیفکیٹ کی عالمی پابندی کے فیصلے پر نظرثانی کی راہ ہموار کرنے کے لئے پاکستان کو ’’پولیو فری ملک‘‘ بنانے کی عملی کوششیں تیز کرے کیونکہ انہی اقدام کی بدولت مسائل سے نمٹا جاسکتا ہے۔ افسوس کہ ہم دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت تو بن گئے مگر پولیو جیسے مہلک مرض پر قابو پانے میں ناکام رہے جو تمام پاکستانیوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔


بشکریہ روزنامہ ' جنگ '

Enhanced by Zemanta

No comments:

Powered by Blogger.