Header Ads

Breaking News
recent

سر زمین حرمین شریفین پر جان و دل قربان.........Pakistan and Saudi Arabia Relations


یہ ایک جانفزا منظر نامہ ہے۔ ایک معزز سعودی مہمان جاتا ہے اور دوسرا تشریف لے آتا ہے، میں اسے رحمتوں کی پھوار سمجھتا ہوں۔ سعودی حکمران صرف پاکستان کے قلبی دوست ہی نہیں، حرمین شریفین کے خادم ہونے کی سعادت بھی اللہ نے انہیں عطا کر رکھی ہے، یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا۔
ولی عہد شہزادہ سلیمان کی آمد تو حد درجہ اہمیت کی حامل تھی۔ پاکستان نے انہیں خوش آمدید کہا، وزیر اعظم نے ہر قسم کے پروٹوکول کو بالائے طاق رکھا اور بنفس نفیس ان کا ایئر پورٹ پر استقبال کیا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانیوں کی نظر میں سعودی مہمان گرامی کی قدرو منزلت کیا تھی لیکن سعودیہ کے اصل احسانات پاکستان پر ہیں، اس نے ہر آڑے وقت میں ہماری مدد کی۔ شاہ فیصل شہید نے تو بادشاہی مسجد کو اپنے آنسووں سے تر کر دیا تھا اور امت مسلمہ خاص طور پر کشمیر اور فلسطین کی آزادی کے لئے انہوں نے گڑ گڑا کر دعائیں مانگیں۔ پینسٹھ اور اکہتر میں پاکستان کو بھارتی جارحیت کا نشانہ بننا پڑا مگر سعودیہ نے ہمارے لئے دامن دل وا کر دیا۔ ملک کے دفاع کو مستحکم اور فول پروف بنانے کے لئے ہم نے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی تو یہ سعودی عرب تھا جس نے دامے درمے سخنے ہماری مدد کا حق ادا کر دیا۔
عالمی میڈیا کہتا ہے کہ سعودیہ کو پاک فوج کی ضرورت ہے، مجھے اس دعوے کی حقیقت کا اندازہ نہین لیکن اگر ہمیں اپنی ساری فوج بھی سعودیہ میں ایئر ڈراپ کرنی پڑے تو اس میں ذرا بھی حیل و حجت سے کام نہیں لینا چاہئے، خدا نخواستہ ہم نہ بھی ہوں اور حرمین شریفین محفوظ و مامون ہوں تو اس کے لئے یہ کوئی بھاری قیمت نہیں، یہ سعودی سرزمین تھی جہاں سے نور کی کرنیں پھوٹی تھیں اور ان سے ساری دنیا بقعہ نور بن کر جگمگا اٹھی تھی، لہلہا اٹھی تھی۔
کہتے ہیں ہماری پچھلی حکومت سعودی فرمانروا کے ساتھ قربت برقرار نہ رکھ سکی، ہو سکتا ہے اس میں کوئی تساہل ہو گیا ہو، مگر ملکوں کے تعلقات حکومتوں کے مابین نہیں،عوام اور عوام کے مابین ہوتے ہیں اور ان میں سرد مہری کی کیفیت پیدا ہو بھی جائے تو محبت کی گدگدی دلوں میں یکبارگی بجلیاں دوڑا دیتی ہے، ویسے بھی جب تک اسلام آباد میں سعودی سفیر محترم موجود ہیں، فکر کرنے کی ضرورت نہیں، وہ ایک شفیق دوست اور بڑے بھائی کے طور پر سارے فاصلوں کو سمیٹ لیتے ہیں۔ بعض اوقات تو ایسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ سعودیہ کے نہیں، پاکستان کے سفیر ہیں کیونکہ انہیں ہمارے مفادات اور مسائل کی ہم سے زیادہ فکر ہوتی ہے، دو ہزار پانچ میں زلزلے نے تباہی مچائی، سعودی سفیر نے کہا کہ وہ نیا بالا کوٹ بساکر دیں گے۔ بعد میں دو مرتبہ ہولناک سیلاب نے قیامت برپا کی، سعودی سفیر بذات خود مصیبت زدگان تک پہنچے اور انکی دستگیری میں کوئی دقیقہ نہ چھوڑا۔
میں سعودی مہمانوں کی آمدو رفت کو جنرل مشرف کے مقدمے کے ساتھ جوڑنے کے لئے تیار نہیں۔ ہمارے میڈیا نے بے پر کی اڑائی کہ مشرف اڑنچھو ہو جائیں گے مگر سب نے دیکھا کہ مشرف یہیں ہیں اور عدالتوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ اور اگر بالفرض اس کیس میں سعودی عرب کوئی ثالثی کرتا بھی ہے تو ہمیں اس مداخلت کو اپنے گھر کی اصلاح اور بہتری کے لئے خوش آمدید کہنا چاہئے۔میں نہیں سجھتا کہ سعودیہ کوئی ایسا قدم اٹھائے گا جو پاکستان اور اس کے عوام کے لئے ناگوار ہو۔
اسلامی کانفرنس کا پلیٹ فارم ہو یا اقوم امتحدہ کا ادارہ ہو، پاکستان اور سعودی عرب نے ہمیشہ قدم سے قدم ملا کر چلنے کی کوشش کی ہے، اس وقت امریکہ کی کوشش ہے کہ سعودیہ کے اثرو رسوخ کو کم کردیا جائے،اس پر ایران کو مقدم سمجھا جا رہا ہے، اصولی طور پر امریکہ کو ایران سے اچھے تعلقات استوا رکرنے کا حق حاصل ہے لیکن سعودی عرب کی قیمت پر ہر گز ایسا نہیں ہونا چاہئے اور ایران کا بھی فرض ہے کہ وہ امریکہ کی چالوں کو سمجھنے کی کوشش کرے اور اسلامی دنیا کے مرکز و منبع سعودی عرب کے مفاد کے خلاف امریکی دوستی کو جوتی کی نوک پہ رکھے۔ ایک اسلامی ملک ہونے کی حیثیت سے ہمارا مفاد مشترک ہے، بالا تر ہے۔
ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اسرائیل عالم عرب کے قلب میں ایک ناسور کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ گریٹر اسرائیل کے نقشے میں سعودی عرب کے مقامات مقدسہ کو شامل کیا گیا ہے، یہ ایک جارحانہ اور استعماری سوچ ہے، مدینہ منورہ پر تو صہیونی استعمار اپنا حق جتاتا ہے اور یہ وہ مقام ہے جہاں کون و مکان کی سب سے محترم ہستی محو استراحت ہیں، ان کے روضہ مبارک کے خلاف صہیونیوں نے ہمیشہ سازشیں جاری رکھیں، جن کو بر وقت ناکام بنا دیا گیا، ہمیں شہر نبی کی حفاظت کے لئے ہمہ وقت سینہ سپر رہنا چاہئے، اور اس کے لئے سعودی حکومت کو ہماری جس مدد کی ضرورت ہو، ہمیں کامل مستعدی اور خوشدلی سے فراہم کرنی چاہئے۔
ہمارا قبلہ اول اسرائیل کے قبضے میں ہے، فلسطینیوں کو یہاں سے بے دخل کر دیا گیا ہے، وہ پون صدی سے کیمپوں میں بھٹک رہے ہیں، مسلمانوں پر قبلہ اول کے دروازے بند ہیں، اپنی طرف سے تو امریکہ نے نئی صلیبی جنگ چھیڑ رکھی ہے، نائن الیون کے بعد جارج بش نے یہی کہا تھا ، اب ہمیں بھی جواب میں اپنی صف بندی کرنی چاہئے اور سعودی قیادت میں قبلہ اول کی آزادی اور فلسطینی ریاست کے قیام کی کامیاب کوشش کرنی چاہئے۔
پاکستان اور سعودیہ یک قالب و یک جان ہیں، ان کے مابین کوئی دوئی اور کوئی تفریق نہیں، ہمارے دکھ کو برادر سعودی عوام اپنا دکھ تصور کرتے ہیں تو ہمیں ان کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھنا چاہئے۔ علاقائی معاملات ہوں، یا بین الاسلامی مسائل یا عالمی سیاست کا دھارا، ہماری سوچ مشترک، ہمارا عمل مشترک، ہمارے فیصلے مشترک اور ہماری راہ عمل مشترک۔ خبردار! کوئی اس میں دراڑ نہ ڈالنے پائے۔ ہمارے جان و دل سرزمین حرمین شریفین پر نثار، ہزار بار!!

بشکریہ روزنامہ ' نوائے وقت '

Pakistan and Saudi Arabia Relations

Enhanced by Zemanta

No comments:

Powered by Blogger.