Header Ads

Breaking News
recent

سٹیل ملز۔ کرپشن اور نا اہلیوں کی دردناک داستان

نیشنل سکول آف پبلک پالیسی کے ایگزیکٹو ڈویلپمنٹ انسٹی ٹیوٹ کی دعوت پر میں 10فروری کو لاہور گیا۔ قومی اہمیت کا یہ ادارہ مال روڈ پر واقع ہے۔میری معروضات کا عنوان تھا منیجنگ پبلک اور پرائیویٹ انٹرپرائزز مجھے کہا گیا کہ میں میں اپنی توجہ سٹیل ملز کی کیس ہسٹری پر مرکوز رکھوں۔اس سینئر ترین کورس کے شرکاء میں کچھ صوبائی وزرائ، ایم این اے جنرلز ‘ ججز، بیورو کریٹس اور پرائیویٹ سیکٹر کی بہت تجربہ کار شخصیات کے علاوہ سابق مشیر خزانہ سلمان شاہ صاحب بھی شامل تھے جنہوں نے مباحثے کو کنٹرول کرنا تھا۔ یہ دوگھنٹوں کا ایک سیشن تھا۔ جس میں راقم نے جو چند اہم نکات کورس کے شرکاء کے سامنے رکھے وہ مختصراً پیش خدمت ہیں۔

1947 میں جب پاکستان وجود میں آیا تو ولیکا سمیت چند ٹیکسٹائل ملز کے علاوہ پاکستان کے صنعتی سیکٹر میں ویرانہ تھا۔ اس وقت سٹیل یا دفاعی پیداوار جیسے پیچیدہ اور مشکل کارخانے کی تعمیر کی بات کرنا ایسا ہی تھا جیسے آج آپ میزائل ٹیکنالوجی کے حصول کی بات کرتے ہیں۔ بہرحال اہل بصیرت قیادت موجود تھی اس لئے خان لیاقت علی خان نے دسمبر 1951 میں واہ فیکٹری کی بنیاد رکھ کر یہ مشکل فیصلے کیے اس کے بعد فیلڈ مارشل ایوب خان نے پہلے پنجسالہ منصوبے میں لوہے اور فولاد کی صنعت کا تصور دیا۔

جنرل یحییٰ خان نے ماسکو میں جاکر سٹیل ملز کے معاہدے پر دستخط کئے اور ذوالفقار علی بھٹو نے کراچی سے 42 کلو میٹر دور پپری کے ریگستان میں ساحل سمندر پر سٹیل ملز کی جگہ کا خود بطور وزیراعظم انتخاب کیا۔ اُنکے ہمراہ سابق گورنر بیرسٹر کمال اظفر بھی تھے جنہوں نے مجھے یہ قصہ سنایا۔ دفاع اور سٹیل کے یہ سارے کارخانے پبلک سیکٹر میں اس لئے لگائے گئے کہ اس وقت پرائیویٹ سیکٹر میں اتنی جان نہ تھی۔


19000 ایکڑ جگہ سندھ حکومت سے بھٹو صاحب کے احکامات پر 76 پیسے فی گز کے حساب سے 50 ملین روپے کی خریدی گئی اسکی ساری رقم مرکزی حکومت نے سندھ حکومت ادا کردی اس زمین کا سٹیل ملز کے نام انتقال بھی مکمل ہوگیا یہ Mutation راقم نے اپنے دور میں کروائی تھی اب یہ زمین سندھ حکومت کی نہیں بلکہ مرکزی حکومت کی ہے لیکن اس پر صرف انڈسٹری لگ سکتی ہے کسی اور مقصد کیلئے یہ جگہ استعمال نہیں کی جاسکتی۔ ضروری عملے کیلئے سٹیل ٹائون کھڑا کیا گیا جس میں 4000 کواٹرز ہیں گلشن حدید میں بھی 600 ملازمین کیلئے گنجائش رکھی گئی جہاں اب لاکھوں کی آبادی کے مکان بن چکے ہیں۔165 میگا واٹ کا بجلی گھر،100 بستروں کا ہسپتال ساحل سمندر پر اپنی Jetty،4.3 کلو میٹر نجی کنوئیر بیلٹ، سمندر سے ایک چینل کاٹ کر مل تک لایا گیا،سپورٹس سٹیڈیم، سٹوڈنٹ ہاکی گرائونڈ،400 طلبا کی رہائش کے ساتھ ایک کیڈٹ کالج،12دوسرے تعلیمی ادارے، معذور بچوں کا سکول، حدید ویلفیئر ٹرسٹ، میٹا رجیکل انسٹی ٹیوٹ جو 25ایکڑ پر ہے اور جس میں 500 نشستوں والا ایک ایڈیٹوریم ہے۔ویسٹ واٹر پلانٹ،96 ایکڑ پر فیبریکشن فیکٹری، لاہور گلبرگ، اسلام آباد ایمنسٹی روڈ اور کراچی ڈرگ روڈ پر مارکیٹنگ دفاتر، سٹیل ٹائون میں آفیسرز میس اور 51 بہترین5 سٹار گیسٹ رومز،2کلو میٹر محیط میں قائداعظم پارک،110کلو میٹر لمبی بہترین سڑکیں72 کلو میٹر کی ریلوے لائن،18ریل انجنز اور بجلی کی HT لائنز کیلئے 10 کلو میٹر لمبی سرنگیں شامل ہیں اس کے علاوہ 200ایکڑ جگہ عریبین (SEA) کنٹری کلب کیلئے سٹیل ملز نے لیز پر دی ہوئی ہے۔ نیشنل ہائی وے اور سپر ہائی وے دونوں ساتھ ہیں اور یہ مل پورٹ قاسم کی گود میں ہے کراچی سے پشاور تک جانے والی قومی ریلو ے لائن بھی وہاں سے گذرتی ہے۔

 ان تمام حقائق وسائل کے باوجود تقریباً ہر حکومت نے اس ادارے کو اپنی سیاسی بھرتیوں کا گڑھ سمجھا، فرنٹ مینوں کے ہاتھوں لوٹا، سینکڑوں سٹیل ملز سے تنخواہ لینے والے آئوٹ سائیڈر (باہرلے) کراچی کی سیاسی پارٹیوں کے دفتر میں کام کرتے تھے سارے لوہے کے پتنگ سٹیل ملز سے بنتے، یونین ورکرز کے لبادے میں بہت سے لوگوں نے ملز کی سینکڑوں گاڑیاں اور ٹیلی فون بے جا استعمال کئے۔ سٹیل ملز کی بسیں بھٹو صاحب کی برسی پر سینکڑوں میل دور لاڑکانہ تک سیاسی کارکنوں کو اٹھا کر جاتی رہیں خام مال کے سودے ہوں یا بحری جہازوں کا فریٹ، سکریپ بیچنے کی بات ہو یا فالتو پرزے منگوانے کیلئے ٹینڈر کا قصہ ہو۔سب نے مل کر اس قومی سطح کے سب سے بڑے ادارے کو بے رحمی سے لوٹا۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ احتساب کے کٹہرے میں کسی کو کھڑا نہیں کیا گیا۔ ایک چیئر مین پابند سلاسل ہے لیکن اس کو استعمال کرنے والی سیاسی قوتیں دوبارہ اقتدار میں آنے کی تیاری میں ہیں اُن پر قانون کی کوئی گرفت نہیں وہ بھٹیاں جو میری موجودگی میں 94 فیصد Capicity پر چل رہی تھیں آج مکمل بجھنے کیلئے آخری ہچکیاں لے رہی ہیں۔ 

خام مال کے Yards جہاں کوئلے اور خام لوہے کے پہاڑ لگے ہوئے تھے ہماری ملک دشمنی کا رونا رو رہے ہیں بلاسٹ فرنسز اور کوک اوون بیٹریز کے خام مال کی بھوک سے ہوش ہے جو اربوں کا نقصان ہے۔ ملازمین کو کئی ماہ کی تنخواہ نہیں ملی، بنک (LC) ایل سی کھولنے پر تیار نہیں اور سٹیل ملز کے اس عظیم الشان ادارے میں ایک صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔ سٹیل ملز دراصل ہماری کرپشن اور نا اہلیوں کی دردناک داستان ہے۔ نواز شریف کی پچھلی حکومت نے 1998 میں اس مل کو ایک ترکی کی کمپنی کو آگے بیچنے کی بات کی تو وہ مسئلہ آگے نہ چل سکا۔1999 میں میاں صاحب نے ECC کی ایک میٹنگ میں سٹیل ملز کی Restructuring کا فیصلہ کیا جس کو 2000 میں پرویز مشرف حکومت نے عملی جامہ پہنایا جس سے سٹیل ملز کے حالات کچھ بہتر ہوئے اس وقت سٹیل ملز 19 ارب روپے کی مقروض تھی جس میں سے 12ارب روپے اس کو ادا کرنے تھے اور باقی 7ارب روپے جو خالص سود تھا وہ موخر کردیا گیا۔ جنوری 2004 میں جب میں سٹیل ملز پہنچا تو یہ ادارہ 7.68 ارب روپے کے قرضے کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا 13دسمبر 2006 کو جب میں ملز سے سبکدوش ہوا تو اس کے سارے قرضے اتارنے کے بعد سٹیل ملز میں 6ارب روپے کا خام مال 4ارب روپے کا تیار مال 2ارب روپے کے فالتو پرزے اور 10ارب روپے بنک میں بچت کی شکل میں موجود تھے۔ حکومت کو 6 ارب روپے کا تاریخ میں پہلی دفعہ انکم ٹیکس اور کوئی 12ارب روپے سیلز ٹیکس کی ادائیگی اس کے علاوہ تھی۔

آج سٹیل ملز کا مجموعی خسارہ 87 ارب اور کل قرضہ 106 ارب روپے ہوچکا ہے۔میں نے سامعین کو بتایا کہ چین کے اندر سینکڑوں ادارے آج بھی پبلک سیکٹر میں بہت کامیابی سے چل رہے ہیں اس کی دو بڑی وجوہات ہیں ۔ سرکاری اداروں میں لوگ میرٹ پر تعینات کئے جاتے ہیں کوئی سیاسی بھرتی نہیں اور دسری بڑی وجہ یہ ہے کہ کرپشن میں ملوث بڑے سے بڑے چیف ایگزیکٹو کو تخت دار پر لٹکادیاجاتا ہے لیکن اس میں مشکل نہیں کہ دنیا میں آج جو سوچ ہے وہ یہی ہے کہ حکومتوں کا حجم بہت چھوٹا ہوناچاہئے ان کو کاروبار میں ملوث نہیں ہوناچاہئے حکومت کو خود بالکل نظر نہیں آناچاہئے بلکہ اس کی اچھی حکمرانی کی شکل میں بہترین کارکردگی اس کی پہچان ہونی چاہئے۔ ترقی یافتہ ممالک میں پولیس کا سپاہی بھی سڑک پر نظر نہیں آتا لیکن قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوئی جرأت نہیں کرسکتا۔

2006 میں ہونے والی سٹیل ملز کی نجکاری کو سپریم کورٹ کے فل بنچ نے اس لئے منسوخ نہیں کیاتھا کہ ادارے کی نجکاری کرنا غلط تھی بلکہ اس لئے کہ نجکاری کے طریقہ کار میں گھپلے تھے 20ستمبر 2004 کے ایک خط کے تحت جب نجکاری کمشن نے سٹیل ملز کی نجکاری سے متعلق مجھ سے رائے مانگی تو میں نے کراچی کے ٹاپ کلاس مالیاتی اور قانونی امور کے ماہرین سے رہنمائی حاصل کرنے کے بعد یکم اکتوبر 2004 کو یہ نجکاری کا مندرجہ ذیل طریقہ اختیار کرنے کی رائے دی تھی۔

’’یعنی پہلے سٹیل ملز کے مزید حصص بیچ کر مالی حالت بہتر کی جائے پھر اس کی توسیع ہو اس کے بعد اس کے حصص عوام یا فیکٹری کے مزدوروں کے آگے بیچ دئیے جائیں اور حکومت آہستہ آہستہ اپنی ملکیت سے دستبردار ہوجائے۔‘‘اب تو حالات ناگفتہ بہ ہیں جن کو سدھارنے کیلئے حکومت کو جلد کوئی فیصلہ کرنا ہوگا۔

 

Enhanced by Zemanta

No comments:

Powered by Blogger.