Header Ads

Breaking News
recent

مشتاق احمد یوسفی ,ایک رجحان ساز اور صاحب اسلوب مزاح نگار


مشتاق احمد یوسفی ایک رجحان ساز اور صاحب اسلوب مزاح نگار ہیں، یوسفی صاحب اردو کے مزاحیہ ادب کا ایک ایسا نام ہیں جنھیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ آپ کے بارے میں اگر میں (ناچیز) یہ کہوں کہ آپ مزاح کی امتیازی اور جداگانہ روایت کے موجد بھی ہیں اور آخری رکن بھی۔ انھوں نے بلاشبہ اردو ادب کو مزاح کے میدان میں بے پایاں عزت دی۔ اردو مزاح کا کوئی بھی دور ان کے بغیر ناممکن ہے، یوسفی صاحب اردو زبان وادب کے صف اول کے ادیبوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ یوسفی صاحب کا آبائی وطن جے پور جسے ’’پنک سٹی‘‘ بھی کہتے ہیں۔ ضلع ٹونک، راجستھان، بھارت ہے وہ وہاں کے مقامی مسلمان تھے۔ ان کے باپ دادا جے پور میں نسلوں اور پشتوں سے آباد تھے، یہ علاقہ حرف عام میں راجپوتانہ بھی کہلاتا ہے۔ یوسفی صاحب کا حلقہ احباب بے حد وسیع ہے اور یہاں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ انسان محض اپنی ذات میں محدود ہوکر زندگی کا حسن کشید نہیں کرسکتا اسی لیے دوستی کی اہمیت اور افادیت زندگی کے کسی مرحلے پر بھی رد نہیں کی جاسکتی اور ایسے شخص کے مفلس ہونے میں کیا شک ہوسکتا ہے۔ جس کا کوئی دوست نہ ہو، یوسفی صاحب آپ ہرگز بھی مفلس نہیں ہیں ازراہ مذاق، وہ انگریزی ادب میں زیادہ پسندیدہ لکھنے والے مارک ٹوین (Mark Twain) ہیں اسٹیفن لیکاک (Stephen Leacock) کے بھی متاثر ہیں اور اردو ادب میں غالب کے اثرات ان کے فکر و فن پر زیادہ غالب ہیں۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ اردو کے تقریباً تمام مستند اسالیب کی جھلک ان کے یہاں دکھائی بھی دیتی ہے۔ یہاں یہ بات بھی بتانی ضروری ہے کہ یوسفی صاحب نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز ’’مشتاق احمد‘‘ کے قلمی نام سے کیا۔ شاید یوسفی کا قلمی نام یوں رکھ لیا ہو کہ ان کے ادبی کاموں میں جو برجستہ حسن ہے وہ حضرت یوسف کی خوبصورتی سے لیا گیا ہو، وہ فرماتے ہیں، بینکنگ کی وجہ سے مجھے ادب میں تو کوئی تکلیف نہیں ہوئی لیکن ادب کی وجہ سے مجھے Banking میں بہت تکلیف ہوئی، معاملہ اس کے برعکس بھی ہوسکتا تھا۔ مشتاق احمد یوسفی کا پہلا باقاعدہ مطبوعہ مضمون ’’صنف لاغر‘‘ ہے جو طباعت کے لیے سب سے پہلے معروف ادبی جریدے ماہنامہ ’’ادب لطیف‘‘ کے مدیر میرزا ادیب نے شایع کیا، ان کی باقاعدہ ادبی زندگی کی ابتدا 1955 کے زمانے میں ہوئی۔ یہ حیران کن بات ہے کہ یوسفی صاحب نے کبھی فکاہیہ کالم نہیں لکھے آج کل تو وہ لوگ بھی فکاہیہ کالم لکھ رہے ہیں یا ایسے لوگ بھی مزاح نگاری اور مزاحیہ شاعری کر رہے ہیں جن کو مزاح کی ا،ب،پ،ت بھی نہیں پتا۔ جب کہ یوسفی صاحب کو پوری حروف تہجی ازبر یاد ہے۔ یوسفی صاحب کی 5 فروری 1941 کو مشتاق احمد یوسفی کے نام سے ان کی کتاب ’’پہلا پتھر‘‘ اپنے بارہ مضامین پر مشتمل پہلی کتاب ’’چراغ تلے‘‘ شایع ہوئی اور اس کتاب کے تقریباً 9 سال کے بعد ’’خاکم بدہن‘‘ جنوری 1970 میں لاہور سے شایع ہوئی۔

لوگ کیوں، کب اور کیسے ہنستے ہیں جس دن ان سوالوں کا صحیح صحیح جواب مل جائے گا انسان ہنسنا چھوڑ دے گا۔ یوسفی صاحب کہتے ہیں کراچی والے آگے ہوکر کراچی کی برائی کرتے ہیں لیکن کوئی اور ان کی ہاں میں ہاں ملا دے تو خفا ہوجاتے ہیں۔بے ساختہ ہنسی خالصتاً فطری ردعمل ہے، یہ جذبہ کن وجوہات کے زیر اثر انسان کے اندر وقوع پذیر ہوتا ہے، کافی پیچیدہ اور دیرینہ سوال ہے۔ زمانہ قدیم سے ہی ہنسی کے اظہار پر بحث ہوتی رہی ہے۔ John Keats کی ایک نظم Why did the psychology of laughter جوکہ گریگ (J.Y.T Garag) کی معروف کتاب ہے اس میں ایسی تین سو تریسٹھ (363) کتابوں کا حوالہ دیا گیا ہے جو ہنسی سے متعلق بحث کرتی ہیں۔ اندروں انسان جب حبس کی فضا جنم لیتی ہے تو اچانک کسی صورت وہ جام جذبات سے لبریز ہوجاتا ہے اور وہ بے ساختہ ہنسنے لگتا ہے‘‘۔ ہنسی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کوئی شے ہوتے ہوتے رہ جائے اور انسانی توقعات ایک بلبلے کی طرح پھٹ کر ختم ہوجائیں۔ تاہم یہ ہنسی کی کوئی حتمی تعریف نہیں ہے درست ہے کہ ’’ہنسنا‘‘خوشی کے احساس کا نام ہے، اور احساس کوئی مجسم چیز نہیں ہے جسے مثال کے طور پر ہاتھ سے چھو کر پیش کیا جاسکے لیکن یہ سوچنے کی بات ہے کہ کیا ہر ہنسی، خوشی کا اظہار ہوا کرتی ہے، کیونکہ جو لوگ اپنے دکھ درد اپنے دل میں چھپا کر ہنس رہے ہیں ان کی ہنسی، دل لگی اور مذاق کو کیا نام دینا چاہیے۔ مزاح نگاری کے اہم حربوں میں مزاحیہ صورت واقعہ (Humor of situation) مزاحیہ کردار نگاری “Humor of character” لفظی مزاح (Pun) تعریف (Parody) موازنہ (Comparison) تشبیہہ (Simile) اور قول محال (Paradon) شامل ہوتے ہیں۔

مزاح نگاری میں مسلسل ترسیل علم اور پڑھنے پڑھانے کا عمل دخل رہتا ہے، مزاح پکھڑ پن کا بھی نام ہے جو آج کل رائج بھی ہے، لیکن ایک ایسا مزاح جو جذبات کو مجروح کیے بغیر، بنا کسی کی دل آزاری سے عاری ہو وہ صرف مطالعے ہی سے وجود میں آتا ہے، یوسفی صاحب کی تحریروں میں طنز اور مزاح اصلاح معاشرہ کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے، وہ پچھلے کئی برسوں سے اس عرق ریزی کے ذریعے اپنے قارئین و سامعین کو زمانے کی تلخیوں سے روشناس کروا رہے ہیں۔ ان کے جملوں کی کاٹ دو دھاری تلوار کا کام کیا کرتی ہے۔ سید ضمیر احمد جعفری شاعری میں، اس کے علاوہ دلاور فگار، ضیا الحق قاسمی نے بھی عمدہ مزاح اپنے قاری کو دیا ہے لیکن میرے خیال میں اب تک یوسفی صاحب ہی وہ واحد زندہ جاوید ہستی ہیں جو بلاتامل اچھا اور مثبت مزاح تخلیق کر رہے ہیں۔

یوسفی صاحب کے کردار ایک، ان کا فن دوئم، ان کی مزاح نگاری، ان کی متنوع شخصیت چار آپ کس کس بات کو مختصر سے کالم میں قلم بند کرسکتے ہیں، یہ تو دریا کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے۔ یوسفی صاحب کی نثر طنز و مزاح کی دلکش آمیزش سے ترتیب پاتی ہے ، موضوعات کا تنوع ان کے ہاں سب سے اہم اور مقامیت کے جگر آفاقیت کا وصف نمایاں ہے۔ تحریف نگاری (Parody) ان کا من پسند آلہ مزاح ہے، لیکن مزاح زیادہ تر گفتگو، تبصرے، خیال، بحث اور مکالموں کے ذریعے سے پیدا کرتے ہیں، یوسفی صاحب طنز و مزاح نگاری کے لیے مضمون، آپ بیتی، خاکہ، تاریخ، مرقع، افسانہ، ناولٹ، ناول جیسی اصناف کو استعمال میں لائے ہیں (آپ ہیں کیا) تاریخ دان ہیں، محقق ہیں، نقاد ہیں، مورخ ہیں، ان کے سدا بہار اسلوب کی تشکیل میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

بقول پروفیسر ڈاکٹر محمد علی صدیقی:

’’یوسفی صاحب نظیر اکبر آبادی کی طرح سرسید جیسی شخصیت پر پبتیاں کستے تھے اور سرسید اپنے کام میں جتے رہتے تھے، کبھی کبھی کسی سے کدورت دوسرے کو عزت دوام بخشتی ہے، یوسفی صاحب پر بھی پبتیاں کسی گئیں اگر یوسفی صاحب ان پبتیوں پر کان دھرتے تو آج وہ مشتاق احمد کے نام سے جانے جاتے۔

ڈاکٹر ناصر مستحسن   

Mushtaq Ahmad Yusufi

 

Enhanced by Zemanta

No comments:

Powered by Blogger.