Header Ads

Breaking News
recent

عبرت

آج کا سب سے بڑا اور واحد موضوع بد صورت بنا دی جانے والی قوم ہے اور اس کا بنا بنایا بد صورت حکمران جس کے لیے فی الحال ایک شعر ہی کافی ہے

جو درباروں پہ اِتراتے تھے ان کو

یہی دربار رسوا کر رہے ہیں

کبھی تو یہ عالم تھا کہ میں ڈرتا ورتا نہیں ہوں لیکن اب وہ ڈر بھی رہے ہیں اس قدر کہ دل بیٹھ گیا ہے اور ور بھی رہے ہیں اس قدر اپنے بچاؤ کے لیے ہر ایک کے سامنے ہاتھ پھیلا رہے ہیں۔ پاکستان کے مہنگے ترین وکیل ان کی مدد کر رہے ہیں لیکن ان میں اتنی ہمت نہیں کہ عدالت میں جا کر ان وکیلوں کی مدد حاصل کر سکیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان کے بے چین سینے میں ایک ضرورت اور معمول سے زیادہ دھڑکتا ہوا دل ہے اور کاٹ کھانے والا اسپتال کا بستر ہے۔ تاریخ کا ایک تماشا یہ ہے کہ جن کرتوتوں کی وجہ سے ان پر یہ وقت آیا ہے اب وہی کرتوت پلٹ کر ان کی ذات پر نازل ہو رہے ہیں۔ دوسروں کو زبردستی جلا وطن کرنے والے اب خود اپنی رضا کارانہ جلا وطنی کے لیے ہر ایک سے بھیک مانگ رہے ہیں۔ ’’اور ہم ان دنوں کو انسانوں کے درمیان پھرتے اور لوٹاتے رہتے ہیں‘‘ مگر جو انسان ڈرتے ورتے نہیں ہیں وہ ان دنوں کے پھیر میں ایسے پھیلتے ہیں کہ دنیا کے لیے عبرت کا نشان بن جاتے ہیں۔ ان کے اپنے وکیلوں کا کہنا ہے کہ غداری کے جرم کی سزا موت ہے لیکن اس قوم اور اس کے حکمرانوں میں قومی مجرموں کو سزا دینے کا شاید حوصلہ نہیں ہے اور اسی لیے قوم ان قیاس آرائیوں میں مصروف ہے کہ اسے باہر کس کی سفارش پر جانے کی اجازت ملے گی یا کس کے حکم پر اسے یہ رعایت دی جائے گی۔ وہ تمام ملک صحیح و سلامت موجود ہیں جو پاکستان سے ایسے کام کرایا کرتے ہیں۔

ان کے ایلچیوں کے قدم پاکستان کی طرف بڑھ رہے ہیں لیکن مجھے ایک اور بات معلوم نہیں کیوں اس موقع پر فوراً ہی ذہن میں

آ جاتی ہے کہ اسلام آباد کے مدرسے کی معصوم پھولوں جیسی بچیوں کی چیخیں کس سولی کے گرد بھٹک رہی ہیں اور وہ کہاں کس میدان میں گڑی ہے، یہ خدا ہی جانتا ہے۔ انسانی دل و دماغ کی یہ حالت ہے جیسے وہ تاریخ کے یہ تماشے دیکھ کر ماؤف ہو رہا ہے اور عبرت کے اس خوفناک مرحلے اور مقام پر بے ہوش پڑا ہے۔ حیرت ہے انسانوں پر کہ جب وہ کسی اختیار کے مالک ہوتے ہیں تو ان کے دل و دماغ اقتدار کی سرشاری میں مست ہو جاتے ہیں اور جب اقتدار ان کو چھوڑ دیتا ہے تو اترتی ہوئی یہ مستی و سرشاری قیامت برپا کر دیتی ہے۔ جانا عدالت کو ہوتا ہے مگر پہنچ اسپتال جاتے ہیں۔ راستے گم ہو جاتے ہیں۔

ہم مسلمانوں کے لیے تو حکمرانوں کی زندگی عام انسانوں کی فلاح کے لیے ہی ہوتی ہے ورنہ اسے کند چھری سے ذبح ہونے کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ یہ تو کوئی نہیں کہتا کہ ہمارے حکمران عمر بنؓ خطاب یا عمر بن عبدالعزیزؒ بن جائیں لیکن انسانیت کے جامے میں تو رہیں۔ جراتیں اتنی نہ بڑھ جائیں کہ وہ نہ کسی سے ڈریں اور نہ کسی سے وریں۔ اب بتائیں کہ ان کے یہ ڈر اور ور کہاں گئے، وہ کسی عدالت میں حاضر ہیں یا کسی وزیر اعظم کو عاجزانہ نظروں سے دیکھ رہے ہیں اور ہاتھ میں عرضی کانپ رہی ہے۔ قدرت کا یہ تماشا کتنا حیران کن ہے کہ کل جس آدمی کو اس نے اسی حالت میں کر دیا تھا جس میں اس وقت وہ خود مبتلا ہے یہ الگ بات ہے کہ آج وہی آدمی اس سے کوئی انتقام لے رہا ہے یا اسے معاف کر رہا ہے لیکن یہ بہر حال ایک سوالی کی حیثیت میں ہے۔ اس شخص کو یاد کرنا چاہیے کہ وہ ایک دوسرے ملک سے ہجرت کر کے پاکستان آیا تھا، ایک بچہ تھا لیکن اس ملک نے اسے ایک اعلیٰ ترین منصب پر پہنچا دیا۔

اس پر شکر ادا کرنا تھا لیکن اس بدقسمت نے رعونت اختیار کی جس کی سزا اسے آج مل رہی ہے۔ پاکستانی قوم نے بدقسمتی سے فوجی آمروں کی غلامی کی ہے لیکن سوائے اس قوم کی اشرافیہ کے کس نے فوجی آمر کی عزت نہیں کی، بعض فوجی آمروں سے اچھے کام بھی ہو گئے جیسے ایوب خان کے صنعتی اور زرعی ترقیاتی منصوبے یا ضیاء الحق کے ہاتھوں سوویت یونین کی بربادی بلکہ خاتمہ جو ایک پاکستان دشمن طاقت تھی اور سنٹرل ایشیاء کے بعد پاکستان پر نظریں جمائے ہوئے تھی۔ اللّہ نے پاکستان کو اس سے بچا لیا لیکن ان کے علاوہ فوجی حکمرانوں کو عوام نے کبھی اپنا جائز حکمران نہ سمجھا۔ پرویز مشرف بھی اسی ناپسندیدہ سلسلے کی ایک کڑی تھی جو آج اس قوم کے لیے ایک عبرت کا نمونہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اس قوم کے گناہوں کو معاف کرے اور انھیں کوئی واقعی ڈرنے والا حکمران عطا کرے جس سے وہ محبت کر سکیں۔

عبدالقادر حسن

بشکریہ روزنامہ 'ایکسپریس'




 
Enhanced by Zemanta

No comments:

Powered by Blogger.