Header Ads

Breaking News
recent

کاشغر۔گوادر کاریڈور کا خواب


ہمارے ایک شاعر نے کہا تھا

اک خواب سن لو کہ ہے عنوان خوشی کا

یہ قصہ تمہارا ہے نہ میرا نہ کسی کا

اور یہ خواب بھی نہیں ہے ایک تاریخی اور جغرافیائی حقیقت اور صداقت ہے کہ قدرتی طور پر پاکستان اپنے خطے اور ایشیا میں ایک ایسا وجود رکھتا ہے کہ دنیا کے سب سے زیادہ آبادی کے ملکوں عوامی چین اور ہندوستان کے درمیان، افغانستان اور وسط ایشیا کی ریاستوں کا برآمدہ اور درآمدہ بن جاتا ہے جو ’’کاشغر گوادر کاریڈور‘‘ کہلاتا ہے اور یہ کاشغر گوادر کا ریڈور درخشاں اور بہتر مستقبل کا خواب اور نوید ہے اور خوشی کا عنوان بن سکتا ہے۔

پاکستان میں چین کے سفیر نے فرمایا ہے کہ چین کے کاشغر سے پاکستان کے گوادر تک پھیلے ہوئے کاشغر گوادر تجارتی برآمدے سے پورے خطے میں تجارتی سرگرمیاں بڑھنے سے ترقی، خوشحالی اور امن پھیلے گا۔ چینی سفیر نے یہ بیان پاکستان کے ایوان صنعت و تجارت کی فیڈریشن سے خطاب میں دیا اور یہ بھی کہا کہ تجارت اور معاشی تعلقات عوامی چین اور پاکستان کے لئے بہت اہمیت رکھتے ہیں اور عوامی چین کی اہم ترین ترجیحات میں شامل ہیں۔جیسا کہ پاکستان میں چین کے سفیر نے کہا ہے گزشتہ سال چین کے وزیراعظم نے پاکستان کے وزیراعظم سے ملاقات میں اس موضوع پراہم مذاکرات کئے ہیں اور باہمی تجارت کے فروغ کی کوششوں پر خصوصی توجہ دی ہے۔ یہ کاریڈور پورے علاقے اور خطے میں ترقی، خوشحالی کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کرے گا جس سے تمام ایشیائی ممالک فیض یاب ہوں گے۔اس موقعہ پر ایوان ہائے تجارت و صنعت کی فیڈریشن کے صدر زبیر احمد ملکانے فرمایا کہ یورپی یونین کی جانب سے GSP ملنے کے باوصف کاشغر گوادر کاریڈور کی تجارتی اور معاشی سرگرمیوں میں اضافے کی بے پناہ گنجائش ہے اور یہ گنجائش وقت گزرنے کے ساتھ بڑھتی رہے گی۔ اس وقت چین اور پاکستان کے درمیان باہمی تجارت میں اضافہ ہورہا ہے اور مزید اضافے کی توقع ہے۔

یہ باہمی تجارت اگلے سال 2015ء تک 15 ارب ڈالروں سے کہیں زیادہ تجاوز کر جائے گی۔کاشغر گوادر کاریڈور کی سرگرمیوں میں اضافہ کرنے کے لئے ریلوے کے نظام کی فراہمی کی تجویز بھی ہے یہ توقع بھی ظاہر کی جاتی ہے کہ پاکستان کی موٹر وے پر تجارتی سرگرمیاں بمپر ٹو بمپر ٹریفک کے تجربے سے گزرے گی اور تجربہ اس سارے علاقے میں خوشحالی، امن، بہتات اور فراوانی کے حالات کو جنم دے گا۔جن لوگوں کو ٹیلی ویژن پلے ’’دشت‘‘ دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے وہ جانتے ہوں گے کہ ہم نے برسوں پہلے اس کھیل میں اس متوقع خوشحالی، بہتات، فراوانی اور امن کا ذکر کیا تھا اور ایک ہلکی سی جھلک بھی دکھائی تھی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ برصغیر ہندو پاکستان دو براعظموں کے ٹکرانے سے وجود میں آیا تھا ہندوستان صدیوں پہلے سمندر میں تیرتا ہوا سلسلہ ہائے کوہ ہمالیہ کی دیوار سے آن ٹکرایا تھا۔ آغا خان رورل سپورٹس پروگرام کے ادارے نے دو براعظموں کے وصال کے مقام پر ایک بورڈ بھی آویزاں کر رکھا ہے۔ اس وصال کی وجہ سے گوادر کا علاقہ سمندر سے باہر نکل آیا تھا اور وہاں کی جغرافیائی ساخت اس کا ثبوت فراہم کرتی ہے۔یقینی بات ہے کہ کاشغر گوادر کاریڈور کی تجارتی سرگرمیاں محض تجارت تک ہی محدود نہیں رہ سکیں گی۔ تجارتی تعلقات علم و فضل کے تعلقات، پیار محبت کے رشتوں اور ایک دوسرے کے تجربات سے آگہی کو بھی فروغ دیں گے اور تجربات سے آگہی کے فروغ سے بڑی ترقی اور کوئی نہیں ہوسکتی۔ ہمارے مرحوم دوست جاوید شاہین نے کہا تھا؎

روک لیتا ہوں اگر گرنے لگے دیوار خواب

خواب کے اندر کہیں پر جاگتا رہتا ہوں میں

خواب دیکھنے سے زیادہ اہم خواب کے اندر جاگتے رہنے ہوتا ہے جو خوابوں کے ساتھ ان کی تعبیروں کے عمل کو بھی زندہ رکھتا ہے۔ خواب اور ان کی تعبیروں کا عمل زندگی کا ثبوت فراہم کرتا ہے۔


بشکریہ روزنامہ 'جنگ

Gwadar Port 

Enhanced by Zemanta

No comments:

Powered by Blogger.