Header Ads

Breaking News
recent

ساقی نامہ از علامہ اقبال (حصّہ اوّل)



ساقی نامہ از علامہ اقبال (حصّہ اوّل)
====================
ہوا خيمہ زن کاروان بہار
ارم بن گيا دامن کوہسار
گل و نرگس و سوسن و نسترن
شہيد ازل لالہ خونيں کفن
جہاں چھپ گيا پردئہ رنگ ميں
لہو کي ہے گردش رگ سنگ ميں
فضا نيلي نيلي ، ہوا ميں سرور
ٹھہرتے نہيں آشياں ميں طيور
وہ جوئے کہستاں اچکتي ہوئي
اٹکتي ، لچکتي ، سرکتي ہوئي
اچھلتي ، پھسلتي ، سنبھلتي ہوئي
بڑے پيچ کھا کر نکلتي ہوئي

رکے جب تو سل چير ديتي ہے يہ
پہاڑوں کے دل چير ديتي ہے يہ

ذرا ديکھ اے ساقي لالہ فام!
سناتي ہے يہ زندگي کا پيام
پلا دے مجھے وہ مےء پردہ سوز
کہ آتي نہيں فصل گل روز روز
وہ مے جس سے روشن ضمير حيات
وہ مے جس سے ہے مستي کائنات
وہ مے جس ميں ہے سوزوساز ازل
وہ مے جس سے کھلتا ہے راز ازل

اٹھا ساقيا پردہ اس راز سے
لڑا دے ممولے کو شہباز سے

Enhanced by Zemanta

No comments:

Powered by Blogger.