Header Ads

Breaking News
recent

پاکستانی میڈیاکی جادوگری…......


پاکستان سمیت دنیا بھر میں عوام کو معلومات پہنچانے اور ان کا سیاسی، سماجی، مذہبی، معاشی اور اخلاقی شعور اجاگر کرنے میں ملکی اور بین الاقوامی میڈیا کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ پاکستان میں پچھلے دس برسوں میں جن بڑے مراکز نے اپنی طاقت منوائی ہے ان میں عدلیہ اور میڈیا پیش پیش ہیں۔ اس وقت پاکستان کی ریاست اور حکومت سمیت بالادست طبقات سمجھتے ہیں کہ میڈیا ایک ایسی طاقت بن گیا ہے جو اچھی ہے یا بری، لیکن اسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ خود میڈیا میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آج پاکستان کے طاقت کے مراکز میں دیگر فریقین کے مقابلے میں میڈیا ہی اصل طاقت ہے۔ ایک زمانے میں الیکٹرانک میڈیا ریاست کے کنٹرول میں تھا، لیکن اب میڈیا کی نج کاری کے بعد ایسا ممکن نہیں رہا۔
میڈیا کا جو پھیلائو ہوا وہ صرف الیکٹرانک میڈیا تک ہی محدود نہیں، بلکہ پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا بھی اب ایک نئی طاقت بن کر سامنے آئے ہیں۔ میڈیا کا مضبوط ہونا ایک مثبت عمل ہے، کیونکہ پاکستان کو نہ صرف مضبوط بلکہ ذمہ دار میڈیا کی ضرورت ہے۔ بالخصوص ایک ایسی ریاست اور حکمرانی میں جو عوام کے مفادات سے زیادہ ذاتی مفادات کی سیاست کرتی ہو، اس میں میڈیا عام لوگوں کے حقوق کا ضامن بنتا ہے۔ لیکن اگر ہم پاکستان کے مجموعی میڈیا کا تجزیہ کریں تو اس کو کسی ایک جملے میں سمویا نہیں جاسکتا۔ کیونکہ کوئی چیز نہ تو مکمل بری ہوتی ہے اور نہ ہی مکمل اچھی۔ یعنی چیزوں کے دونوں پہلو ہوتے ہیں… کوئی بہت زیادہ اچھا اور کوئی بہت زیادہ برا۔ اس لیے یہ کہنا بھی مکمل سچ نہیں ہوگا کہ پاکستانی میڈیا نے کوئی اچھا کام نہیں کیا۔ یقینا ریاستی میڈیا کے مقابلے میں پرائیویٹ میڈیا میں ایسا سچ بھی سامنے لایا جاتا ہے جو عمومی طور پر ریاستی میڈیا میں ممکن نہیں ہوتا۔ اس لیے اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا سے عوام کو معلومات اور شعور ملا ہے تو اس سے مکمل انکار نہیں کیا جاسکتا۔
لیکن یہاں سوال مجموعی میڈیا کا ہے۔ ہمیں صورت حال کا تجزیہ کرتے وقت پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو دو مختلف صورتوں میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ مجموعی طور پر پرنٹ میڈیا کی ایک تاریخ ہے۔ اس تاریخ کا جائزہ لیں تو ہمیں پرنٹ میڈیا اور اس میں کام کرنے والے صحافیوں اور ان کی تنظیموں کی ایک بڑی جدوجہد بھی نظر آتی ہے۔ اگرچہ اب یہ جدوجہد اور تنظیم سازی کا عمل دیگر شعبوں کی طرح کمزور ہوا ہے۔ 1960 سے 1980 کی دہائی تک پرنٹ میڈیا کا کردار قابل فخر تھا۔ اس کی ایک بڑی وجہ دائیں اور بائیں بازو کی نظریاتی جنگ بھی تھی۔ اس جنگ کا ایک بڑا اثر ہمیں پرنٹ میڈیا میں غالب نظر آتا تھا۔ لیکن اب پرنٹ میڈیا کی صورت حال بھی ماضی سے کافی مختلف ہوگئی ہے۔ اب نہ نظریاتی صحافت رہی اور نہ ہی وہ نظریاتی صحافی… اس کی جگہ کمرشل ازم نے لے کر نظریاتی محاذ کو شدید نقصان پہنچایا۔ البتہ اس کے برعکس الیکٹرانک میڈیا کی کہانی کافی مختلف ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کا جو طوفان بڑی تیزی سے پاکستانی ریاست اور حکومت سمیت عام لوگوں میں داخل ہوا وہ اب ایک بڑے کھیل میں تبدیل ہوگیا ہے۔
پاکستان میں مجموعی طور پر میڈیا کے حق اور مخالفت میں کافی دلائل دیے جاتے ہیں۔ اسی طرح سیاسی اور میڈیا کی اشرافیہ میں میڈیا کے بارے میں جو رائے ہے وہ بھی تقسیم ہے۔ میڈیا کے حق میں ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اس نے اپنی طاقت سے ایک نیا معاشرہ تشکیل دیا ہے، لوگوں کو وہ معلومات بھی مل رہی ہیں جن کا تصور ماضی میں ممکن نہیں تھا۔ ریاست، حکمرانوں اور بالادست طبقات کے حکمرانی کے انداز کومیڈیا نے بے نقاب کیا ہے۔ جبکہ اس کے برعکس ایک دوسری رائے بھی ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس رائے کے مطابق میڈیا مجموعی طور پر ذمہ دار کردار ادا کرنے کے بجائے غیر ذمہ داری کا زیادہ مظاہرہ کرتا ہے۔ معلومات تو دی جاتی ہیں لیکن تحقیق کا فقدان نظر آتا ہے۔ میڈیا مجموعی طور پر بحران پیدا کرتا ہے چاہے اسے یہ بحران جان بوجھ کر ہی کیوں نہ پیدا کرنے پڑیں۔ بھارت کی مشہور دانشور اور انسانی حقوق کی کارکن ارون دھتی رائے کے بقول ’’کرائسس میں چلنے والے میڈیا کو اپنی بقا کے لیے بھی کرائسس درکار ہوتا ہے‘‘۔ یعنی بحران کو پیدا کرنا اس میڈیا کی مجبوری ہے، اور اس کے بغیر یہ اپنا پیٹ نہیں بھر سکتا۔ یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ میڈیا کیوں ماننے کے لیے تیار نہیں کہ اس سے بھی غلطیاں سرزد ہورہی ہیں؟
ایک بڑا مسئلہ نان ایشوز کی سیاست ہے جو میڈیا کی مدد سے بہت کامیابی سے چلائی جارہی ہے۔ حال ہی میں ملک میں ایک بحث کون شہید اور کون ظالم ہے کے تناظر میں چلائی گئی۔ امیر جماعت اسلامی سید منورحسن کی جانب سے ایک ٹی وی انٹرویو میں اٹھائے گئے ایک سوال پر کہ کون شہید ہے اورکون نہیں اس کا فیصلہ ہونا چاہیے، اس پر میڈیا میں جو تماشا لگایا گیا وہ اہم معاملہ ہے۔ کیا میڈیا میں حساس ادارے سمیت کسی پر کوئی سوال نہیں اٹھایا جاسکتا؟ اور کیا سوال اٹھانے پر کسی کو محب وطن یا غیر محب وطن قرار دیا جاسکتا ہے؟ اسی طرح میڈیا کے تناظر میں یہ بحث ہونی چاہیے کہ کیا اس طرح کے موضوعات پر بات کی جانی چاہیے؟ اور جو میڈیا میں ان موضوعات کو زیر بحث لاتے ہیں اُن کے اصل مقاصد کیا ہیں؟ یہاں سوال یہ ہے کہ لوگوں کو محتاط گفتگو سے کون دور لے کر جارہا ہے؟ یہ جو ہم نے میڈیا میں ریٹنگ کاروبار شروع کررکھا ہے اس کا کون ازالہ کرے گا؟ کیونکہ ہم متنازع معاملات کو اچھال کر ایک طرف اپنے لیے ریٹنگ کا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں تو دوسری طرف خود کو مقبولیت دلانے کے لیے اس طرح کا کردار ادا کرنا اپنے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔ میڈیا میں ایک لفظprovokingکا استعمال ہوتا ہے جہاں آپ کوشش کرتے ہیں کہ بال کی کھال اتار کر ایسی بات نکلوائی جائے جو تماشا بنے۔ اس وقت آپ کے سامنے تماشا یا متنازع امور اہم ہوتے ہیں اور ذمہ داری کا پہلو پیچھے چلا جاتا ہے۔ حالانکہ جس تناظر میں سید منور حسن کی بات سامنے آئی اس میں اہم سوال یہ نہیں کہ کون شہید اورکون ظالم ہے، بلکہ اصل بات تو یہ ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جس جنگ کا شکار ہے اس سے کیسے باہر نکلا جائے۔ اہم بات اس جنگ سے متعلق سوالات کی ہے جو قومی بحران سے نکلنے کا راستہ فراہم کرسکیں، لیکن ہم ایسے معاملات میں الجھے ہوئے ہیں جو صورت حال کو بہتر بنانے کے بجائے رائے عامہ کو مزید تقسیم کرنے کا سبب بنتے ہیں۔
سید منور حسن کے بیان پر میڈیا نے جو ماحول پیدا کیا ایسا پہلی بار نہیں ہوا، بلکہ یہ مظاہرہ وقتاً فوقتاً دیکھنے کو ملتا ہے، جہاں عقلی گفتگو کا پہلو کم اور جذبات یا اپنی خواہشات کے حصار کا معاملہ زیادہ سرفہرست ہوجاتا ہے۔ دراصل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے ’’کوڈ آف کنڈکٹ‘‘ نامی کوئی چیز یا قانون بھی ہوتا ہے۔ پاکستان میں کیونکہ قانون پر عملدرآمد کا پہلو کافی کمزور ہے اس لیے میڈیا سے متعلق بنائے گئے قانون پر عملدرآمد کی صورت حال اچھی نہیں ہے۔ پیمرا، پاکستان پریس کونسل، انفارمیشن منسٹری، اخباری اور میڈیا تنظیموں سمیت سب کی کارکردگی اس پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ کیونکہ پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ یہاں کوئی قانون کے دائرہ کار میں رہ کر کام کرنے کے لیے تیار نہیں۔ سب ہی یہ سمجھتے ہیں کہ جو ہم کررہے ہیں وہی قانون ہے اور اسی پر معاملہ آگے بڑھنا چاہیے۔ بعض اوقات میڈیا اپنی ناسمجھی کی بنیاد پر بہت سے مسائل پیدا کرتا ہے، لیکناکثر اوقات جان بوجھ کر معاملات کو خراب کیا جاتا ہے۔کیونکہ ریاست، حکومت اور بالادست طبقات مل کر میڈیا کو اپنے حق میں بھی استعمال کرتے ہیں یا وہ میڈیا کے ساتھ مفادات کے معاملات کے ساتھ کچھ لو اورکچھ دو کی بنیاد پر آگے بڑھتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ میڈیا میں عملی طور پر ’’ گیٹ کیپر ‘‘ کا کردا ر ختم ہوگیا ہے۔ نہ صحافیوں کو گائیڈ کرنے والاکوئی ہے اورنہ کوئی میڈیا میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو یہ بتانے کے لیے تیار ہے کہ میڈیا کو کیسے چلایا جائے۔ میڈیا میں جو کچھ دکھایا جاتا ہے اس کی جانچ پڑتال کا نظام انتہائی ناقص ہے اور سنگین مواد کی روک تھام کا کوئی نظام نہیں۔
دراصل میڈیا نان ایشوز کی سیاست زیادہ کرتا ہے۔ اس کے پیچھے یہ سوچ کارفرما ہوتی ہے کہ لوگوں کو مختلف فکری مغالطوں میں الجھاکر ان کی اصل مسائل سے توجہ ہٹائی جائے۔ مصنوعی محاذ آرائی اور ذاتیات پر مبنی پروگرام کرکے ہم اجتماعی مسائل کی پردہ پوشی کرتے ہیں۔یہ بحث بھی ہونی چاہیے کہ جو کچھ میڈیا نے اب تک قوم کے سامنے رکھا اس سے قومی معاملات میں کس حد تک درستی کا پہلو پیدا ہوا۔اصل میں ہم بھول جاتے ہیں کہ میڈیا کا ایک بڑا مقصد قومی مسائل کے حل میں مددگار کا کردار ادا کرنا بھی ہوتا ہے۔بین الاقوامی میڈیا کے ماہر استاد مالکم ایکس نے ذمہ دار میڈیا کے بارے میں ایک اہم بات کہی ہے جو قابلِ غور ہے۔ ان کے بقول ’’ اگر آپ محتاط نہیں ہیں تومیڈیا آپ کو اُن لوگوں سے نفرت کرنا سکھادے گا جو ظلم و زیادتی کا شکار ہیں، اور ان لوگوں سے محبت جو ظلم و زیادتی کررہے ہیں۔‘‘اس سے مراد یہ ہے کہ ہم میڈیا میں کس حد تک ذمہ داری کا مظاہر ہ کررہے ہیں، اس کا جواب میڈیا سے وابستہ افراد کو ضرور تلاش کرنا چاہیے۔
اہم سوال یہ ہے کہ میڈیا میں ایجنڈا کون طے کرتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ہمارا میڈیا آزاد ہوگیا ہے، لیکن اس آزادی کے باوجود میڈیا کا ایجنڈا کن کے ہاتھوں میں ہے اس پر بھی بحث کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک زمانے میں ہمارے میڈیا میں ایڈیٹر انسٹی ٹیوشن ہوا کرتا تھا، لیکن اب اس کی جگہ مالک نے لے لی ہے۔ اس لیے ایجنڈا مالک کے قریب ہوگیا ہے۔ اسی طرح ایک دور میں کہا جاتا تھا کہ ہمارے میڈیا میں پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کا بڑا کردار ہوتا ہے۔ یعنی میڈیا اسٹیبلشمنٹ یا پس پردہ قوتوں کے دبائو میں ہوتا ہے۔ یہ بات کافی حد تک ٹھیک ہے، لیکن اب معاملہ اس سے ایک قدم آگے بڑھ گیا ہے۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ بھی میڈیا میں اہمیت اختیار کرگئی ہے۔ اس بیرونی اسٹیبلشمنٹ کا دائرہ کار اس لیے بھی بڑھنا تھا کہ پاکستان کی سیاست اب ایک گلوبل سیاست کا حصہ بن گئی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف ہم جس عالمی جنگ کا حصہ بنے ہیں اس میں بیرونی طاقتوں کا سامنے آنا فطری امر ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب بڑی طاقتیں عالمی سطح پر جنگوں کی حکمت عملیاں طے کرتی ہیں تو اس میں ایک حکمت عملی عالمی میڈیا کی بھی ہوتی ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت یہ طے کیا جاتا ہے کہ ہمیں میڈیا کے ہتھیار کو اپنی اس جنگ میں کیسے اپنے حق میں استعمال کرنا ہے۔ مثال کے طور پر ایک طرف سیاسی و عسکری قیادت طالبان کے ساتھ مذاکرات پر متفق ہوتی ہے تو دوسری طرف میڈیا ہی کی مدد سے یہ تاثر بڑھایا جاتا ہے کہ مذاکرات کن لوگوں سے کیے جارہے ہیں اور کیا دہشت گردوں سے مذاکرات ہوسکتے ہیں!کیا ایسا نہیں کہ ریاست پہلے ہی طے کرچکی ہے کہ ہمیں طالبان کے خلاف آپریشن کرنا ہے، لیکن پہلے آپریشن کرنے کے بجائے مذاکرات کا کھیل رچا کر لوگوں کو مطمئن کیا جائے کہ دیکھو ہم مذاکرات کے حامی تھے، لیکن طالبان مذاکرات کے لیے تیار نہیں، اس لیے ہمیں آپریشن مجبوری کے تحت کرنا پڑا ہے۔
اس جنگ میں امریکہ سمیت عالمی طاقتیں پاکستان کے میڈیا کو براہِ راست مالی مدد فراہم کررہی ہیں۔ یہ وہ رقم ہے جو رسمی طریقے سے سامنے آئی ہے۔ اس کے تحت بعض میڈیا مالکان امریکی امداد سے اپنے پروگرام چلانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ایک چینل نے کچھ سال قبل عورتوں کے حقوق سے متعلق ایک مہم بھی چلائی تھی۔صحافیوں کو امریکی دورے بھی کروائے جاتے ہیں جہاں ان کو مختلف پروگراموں کا حصہ بنایا جاتا ہے۔صحافیوں کے لیے اسکالر شپ پروگرام بھی جاری کیے گئے ہیں جس کے تحت تواتر سے صحافی امریکہ جارہے ہیں۔ایک طرف میڈیا میں کام کرنے والوں پر سرمایہ کاری کی جارہی ہے تو دوسری طرف مالکان کو بھی مختلف فوائد دے کر ان کو اپنے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ معاملہ محض سیاست اور سیکورٹی کے معاملات تک محدودنہیں، بلکہ سماجی اور کلچر کے معاملات پر بھی سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔حالانکہ میڈیا کے کوڈ میں یہ شامل ہے کہ وہ براہِ راست بیرونی امداد نہیں لے گا، لیکن ایسا ہورہا ہے اور کوئی اس پر پریشان نہیں کہ اس کھیل کے پیچھے اصل سیاست کیا ہے ا و رکیوں اس پر خاموشی اختیار کی گئی ہے۔
گزشتہ ایک دہائی سے جنگ، دہشت گردی، خودکش حملے اور پُرتشدد واقعات ہمارے میڈیا میں ’’ہاٹ اسٹوری‘‘ کے طور پر موجود ہیں۔ اس دہشت گردی کی جنگ نے جہاں ہمیں کمزور کیا، وہیں میڈیا کے کاروبار کو بہت وسعت دی۔ اشتہارات کی دنیا میں جو انقلاب آئے انہوں نے اس جنگ میں بنیادی کردار ادا کیا اور اس کے نتیجے میں میڈیا سے وابستہ مالکان نے خوب پیسہ کمایا۔ کیونکہ ریاست اور حکمران طبقات جو اس وقت جنگوں کی قیادت کرتے ہیں انھیں اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے میڈیا کے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ عراق کی جنگ نے امریکی میڈیا کی ریٹنگ بڑھائی جس کے نتیجے میں وہاں کے میڈیا نے خوب پیسہ کمایا۔ اس جنگ میں میڈیا نے لوگوں میں کئی فکری خلفشار پیدا کیے۔ عالمی سطح پر یہ بحث بھی موجود ہے کہ کیا میڈیا کا طرزعمل دہشت گردی کو کم کرنے کا سبب بن رہا ہے یا اس کھیل کو مزید تقویت دے کر ریاستوں کے لیے مسائل پیدا کررہا ہے؟
اس کھیل میں ریاست اور حکمرانوں کا بھی ایک خاص ایجنڈا ہوتا ہے۔ کیونکہ ریاست اور حکمران طبقات جس انداز سے قومی معاملات پر یوٹرن لیتے ہیں تو انھیں لوگوں کو پرانی باتوں سے نکال کرنئے کھیل کا حصہ بنانا بھی اہم ہوتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ پاکستانی میڈیا کے اہم افراد اب براہِ راست ملکی اور غیر ملکی ایجنسیوں کی مدد سے اپنا کام آگے بڑھاتے ہیں۔ اس وقت بھی ملک میں میڈیا کے مختلف چینلز کے درمیان یہ مقابلہ جاری ہے کہ کون سب سے زیادہ غیر ملکی امداد حاصل کرتا ہے۔ مقدمات عدالت میں ہیں اور بعض اینکرز ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال رہے ہیں۔بعض حضرات نے تو دستاویزات بھی پیش کیں کہ کس نے کس سے غیر ملکی امداد حاصل کی۔عمران خان واحدآدمی ہیں جنھوں نے کھل کر ایک میڈیا گروپ پر تنقید کی اور کہا کہ وہ ثابت کریں گے جو میڈیا غیر ملکی فنڈ سے چل رہے ہیں ان کے پیچھے کن لوگوں کا ہاتھ ہے۔ اب یہ معاملہ عدالت میں ہے اور دیکھنا ہوگا کہ وہ کیا فیصلہ کرتی ہے۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ یہ معاملہ ایک میڈیا چینل تک محدود نہیں بلکہ پس پردہ بہت سے چینلز اس کھیل کا حصہ بن گئے ہیں۔ بڑے بڑے سرمایہ دار اور کارپوریٹ سیکٹر کے لوگ میڈیا میں اپنی سرمایہ کاری کی بنیاد پر قوم کے ایجنڈے میں اپنا حصہ ڈال کر اسے اپنی ترجیحات کے مطابق چلانا چاہتے ہیں۔
یہ مسئلہ محض میڈیا کا ہی نہیں بلکہ ہم تو ریاست اوراس کے اداروں سمیت حکومت کے بارے میں بھی شکوک وشبہات کا شکار رہتے ہیں۔ کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری جیسی ریاست اور حکومت آزادانہ بنیادوں پر فیصلہ کرنے کے بجائے عالمی طاقتوں بالخصوص امریکہ کے فیصلوں کے سامنے بے بس نظر آتی ہے۔ اس لیے ضروری نہیں کہ جو کچھ ریاست، حکومت اور میڈیا لوگوں کو بتانے کی کوشش کررہے ہوں وہ مکمل سچائی کی تصویر ہو۔ ہوسکتا ہے اس میں ان کے مفادات کا کھیل زیادہ نمایاں ہو۔
اس لیے ایسی بحرانی صورت حال میں جو اس وقت ریاست کو درپیش ہے، اس میں جہاں دیگر چیلنج نمایاں ہیں وہیں خود میڈیا بھی ہے۔ لیکن کیونکہ ہم میڈیا کے خوف کا شکار رہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ میڈیا پر براہِ راست تنقید کرنے سے ہماری کوریج پر اثر پڑے گا، اس ڈر سے ہم بھی میڈیا کے سامنے اس کے کردار پر تنقید کے لیے تیار نہیں۔ حالانکہ یہ بحث ہم سب کو کرنی چاہیے کہ اس وقت پاکستان کو ایک ذمہ دار ریاست اور حکومت کے ساتھ ساتھ ذمہ دار میڈیا کی بھی ضرورت ہے۔ذمہ دار میڈیا سے مراد ایسا میڈیا جو لوگوں کے مفادات کو فوقیت دے اور اس فوقیت میں قومی مفادات اور سلامتی کے امور بھی اہمیت رکھتے ہوں۔اس بحث کو ہمارے سیاسی عمل کا حصہ بننا چاہیے اور یہ بات آگے بڑھانی چاہیے کہ میڈیا اچھے کام کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اندر موجود خامیوں کو دور کرنے کی طرف بھی توجہ دے۔میڈیا کو یہ سمجھنا چاہیے کہ قومی مفاد یہ ہے کہ ہمیں اس دہشت گردی کی جنگ سے باہر نکلنا ہے۔ یقینا دہشت گردی کا ایجنڈا ہماری اہم ترجیحات میں شامل ہے، لیکن یہ بھی میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ بات آگے بڑھائے کہ اس جنگ کے خاتمے کے لیے حکمت عملی بھی ہماری ہی ہونی چاہیے۔کیونکہ بہرحال ہمیں اس جنگ سے نکلنا ہے، لوگوں کو کنفیوژ اور رائے عامہ کو بڑے پیمانے پر تقسیم کرکے ہم ملک کو بحرانوں سے نہیں نکال سکیں گے۔
سلمان عابد

Enhanced by Zemanta

No comments:

Powered by Blogger.