Header Ads

Breaking News
recent

Allama Ihsan Ilahi Zaheer Shaeed

  از قلم: ابوعبیداللہ  (حوالہ:تذکرہ علماء اہل حدیث ازمحمدعلی جانباز)۔ 
نام:علامہ احسان الہی ظہیر ۔
 ولدیت:حاجی شیخ ظہور الہی۔
 ولادت:حافظ علامہ احسان الہی ظہیر 31 مئی 1945ءبمطابق 18 جمادی الاولی 1364ھ بروزجمعرات سیالکوٹ میں ہوئے۔
  
تعلیم وتربیت:دینی تعلیم کےلیے آپ جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ اورجامعہ سلفیہ فیصل آباد میں زیر تعلیم رہے۔اور1963ء میں مسجدابراہیمی میانہ پورہ میں خطابت فرماتے رہے۔ 1967ء میں آپ فارغ التحصیل ہوئے۔فارغ التحصیل ہونےکےساتھ آپ نےمولوی فاضل منشی فاضل اورادیب فاضل کےامتحانات بھی پاس کئے کچھ عرصہ تک آپ دارالحدیث چینیانوالی میں تدریسی خدمات سرانجام دیتے رہے۔بعدازاں آپ اعلی تعلیم کےلیے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں داخل ہوگئے۔اور اللیسانس فی الشریعہ کی اعلی ترین ڈگری لےکروطن واپس لوٹے۔اس کےبعد پےدرپے امتحانات دینےشروع کیےاوریوں ایم اے عربی۔اسلامیات۔اردو۔فارسی۔سیاسیات کی ڈگریاں حاصل کی۔

اساتذہ:آپ نےمندرجہ ذیل علماء کرام سےاپنی کشت علم کو سیراب کیا۔
 استادالاساتذہ شیخ الحدیث حضرت مولانا گوندلوی
 شیخ الحدیث حضرت مولانا ابوالبرکات احمدمدظلہ
 فضیلۃ الشیخ علامہ ناصرالدین البانی
 محمد امین الشنقیطی 
 فضیلۃ الشیخ عبدالقادر شیبۃ الحمدمصر
 فضیلۃ الشیخ عطیہ محمدسالم
 فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن باز 
 فضیلۃ الشیخ عبدالمحسن العباد

 درس وتدریس:فراغت کےبعدکچھ عرصہ آپ دارالحدیث چینیانوالی میں تدریسی خدمات سرانجام دیتے رہےپھرمدینہ روانہ ہوئے اوروہاں تعلیم حاصل کرنے کےبعدجب پاکستان لوٹےتوجماعتی اورسیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیناشروع کردیا۔ 1972ءمیں تحریک استقلال میں شامل ہوئے اسی دوران آپ پرقتل وغیرہ کےمقدمات قائم کیےگئے۔ اور قیدو بندکی صعوبتیں برداشت کیں۔ مختلف مقدمات اوراپنوں کی بے وفائی کی وجہ سے 1978ءمیں تحریک سےدستبردارہوگئے۔
اورآپ کو ہفت روزہ اہل حدیث کارئیس مقرر کیاگیا۔ اس دوران حافظ محمدگوندلوی سےشرف دامادی حاصل ہوا۔

 ادارتی خدمات کے ساتھ ساتھ آپ جامع مسجد اہل حدیث چینیانوالی رنگ محل لاہور میں خطبہ جمعہ ارشادفرمانے لگے اور یہ سلسلہ بہت عرصہ تک جاری وساری رہا۔اورلاہور کےاطراف و اکناف سےلوگ کھینچ کھینچ کرخطبہ سننے کے لیے تشریف لاتےتھے۔ اندرون ملک اوربیرون ملک جمعیت اہل حدیث جس کےمولانا ناظم اعلی تھےکاتعارف کروانےمیں آپ کی کاوش اور صلاحیتیں اور قابل صدمبارکباد ہیں۔

علاوہ ازیں آپ نےجمعیت اہل حدیث کےدفتر کےلیے مرکز کےطور پردوستوں کےتعاون سےانتہائی خطیر رقم خرچ کرکے 53لارنس روڑ لاہور میں ایک وسیع وعریض جگہ خریدی۔ جہاں آپ نےمجلس شوریٰ منعقدکرویا۔اور احباب جماعت نےاس مرکزی خریداری پرآپ کوخراج تحسین پیش کیا۔

 تصنیفات وتالیفات:حافظ احسان الہی ظہیر صاحب نےبہت سی کتب تحریر فرمائی ہیں آپ کےاب تک کےتحریرسرمایہ کی تفصیل درج ذیل ہے۔
 ۔الشیعہ واہل بیت )عربی (اس کتاب میں شیعہ فرعومہ کی حب اہل بیت کی حقیقت آشکار کی گئی ہے۔
۔الشیعہ والسنہ(عربی )یہ کتاب علامہ صاحب کی شیعہ کی موضوع پراولین تحریری کاوش ہے۔
۔الشیعہ والقرآن (عربی)شیعہ ازم پریہ علامہ صاحب کی تیسری معرکہ الآراء کتاب ہے۔
 ۔الشیعۃ والتشیع (فرق وتاریخ)(عربی)اس کتاب میں علامہ صاحب نےشیعہ کی مکمل تاریخ پس منظراور اس کےمختلف فرقوں کاتذکرہ کیاہے۔
 ۔البریلویہ (عربی)اس کتاب میں بریلویت کی تاریخ بریلوی عقائدانکی تعلیمات اور انکی خرافات کا تذکرہ ہے۔
(۔القادیانیہ (عربی
 (۔البھائیہ نقدد تحلیل (عربی
(۔البانیہ عرض ونقد (عربی 
 ۔التصوف
 ۔الاسماعیلیہ
 ۔بین الشیعۃ و اہل السنۃ
 ۔دراستہ فی التصوف
 علامہ صاحب کی یہ کتابیں جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سعودی عرب ودیگراسلامی کی یونیورسٹیو ں کےنصاب میں شامل ہیں۔
 
کلیمات ثناء:علامہ حافظ احسان الہی ظہیر کی شخصیت ملکی اور بین الاقوامی طور کی تعارف کی محتاج نہیں۔عوامی حلقوں میں وہ بلند پایہ، ممتاز اور منفرد خطیب کی حیثیت سےمعروف ہیں۔ان کی خطابت کاجاہ چشم۔رعب وادب۔ولولہ۔ہمہمہ اورطفطنہ پرمخالف وموافق سےخراج تحسین وصول کرچکاہے۔ان کی آواز کی گھن گرج سےعوامی اجتماعات میں دیدنی سی کیفیت ہوتی تھی۔علمی حلقوں میں آپ ایک قدآوار علمی شخصیت سمجھےجاتےتھے۔اردو کےساتھ ساتھ عربی کےایک ممتاز اورقادرالکلام متکلم۔ادیب اورعالم دین ہیں۔علم دین کےہر شعبہ میں دسترس حاصل ہے۔بلکہ عر بی زبان میں آپکوگفتگوکرتےہوئےدیکھ کریہ محسوس ہوتاہےکہ آپ کی مادری زبان عربی ہے۔

یہی وجہ کہ آپ نےمختلف فرق  پرتحقیق کرکےجوکتب شائع کی ہیں عرب ممالک میں انکی بہت پزیرائی ہوئی ہےاور انہیں ہاتھوں ہاتھ لیاگیا آپ کی ان کتب کودیکھ کرآدمی حیران رہ جاتاہےکہ ایک عجمی آدمی کیونکر عربی زبان میں ایسےعلمی جواہربار ے اورتحقیقی سرمایہ مہیا کرسکتاہے۔آپ نےباطل فرقوں کےعقائداورنظریات پرجس تحقیقات اورواقعاتی طو رپرروشنی ڈالی ہےوہ قابل تحسین ہے۔
آخری سفر:آپ 23/مارچ 1988 کی شب موچی دروازہ لاہور میں جمعیۃ اہلِ حدیث کے ایک جلسے میں خطاب کررہے  تھے اور علامہ اقبال کے اس شعر 
کافر ہوتو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ ----مومن ہوتو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی--  کے دوسرے مصرعہ پرتھے کہ ایک زور دار دھماکہ ہوا اور تاریخ کا ایک  عظیم سانحہ پیش آیا،جس میں آپ شدید زخمی ہوئے،فورا اسپتال لے جایا گیا،جب یہ خبر سعودی عرب پہنچی تو خادم الحرمین الشریفین  شاہ فہد بن  عبدالعزیز ابن سعود  کے حکم سے ریاض منتقل کیا گیا ،مگر ہزار کوششوں کے باوجود آپ جانبر نہ ہوسکے۔انا للہ و انا الیہ راجعون،اللھم اغفرلہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ اکرم نزلہ ووسع مدخلہ و انزل علیہ شابیب رحمتک یا رب العالمین۔ آپ کو  جنت البقیع مدینہ منورہ  میں ہزاروں علماء مشائخ اور سوگواروں کی موجودگی میں سپردِ خاک کیاگیا۔ مدینہ یونیورسٹی کے ایک طالب علم نےعلامہ صاحب کی شہادت پر اپنے غم 
کا اظہار ان الفاظ میں کیا کہ
 {{اقتباس|اگر علامہ صاحب کے قتل کےبدلےپوری پاکستانی قوم کوقتل کردیاجائے علامہ صاحب کا خون بہا تب بھی اداناھوگا}}

Enhanced by Zemanta

No comments:

Powered by Blogger.