Header Ads

Breaking News
recent

پاکستان اسٹیل مل کو تباہی سے بچایا جائے

پاکستان اسٹیل مل ایک قومی اثاثہ ہے جس کے لئے18 سال تک منصوبہ بندی کی گئی 1955 میں سوچے گئے اس منصوبے پر 1973 میں کام شروع ہوا اور 1985 میں تکمیل کے بعد مل نے پیداوار شروع کردی۔ آج وطن عزیز کو اس جیسی کئی ملوں کی ضرورت ہے لیکن پہلے سے موجود اسٹیل مل کا یہ حال ہے کہ ملازمین کو چار ماہ سے تنخواہ نہیں ملی، 10جون 2015 سے مل میں پیداوار بند ہے۔ ملازمین کا دعویٰ ہے کہ مل کی1777 ایکڑ اراضی افسروں کی بندر بانٹ کا شکار ہو گئی ہے جس کی مارکیٹ قیمت فی ایکڑ پانچ کروڑ ہے اسے کوڑیوں کے مول فروخت کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اسٹیل کو 30 لاکھ روپے فی گھنٹہ نقصان ہو رہا ہے جبکہ مجموعی طور پر 2008 سے اب تک 425 ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے اس سے قبل مل 28 ارب روپے منافع میں چل رہی تھی۔ اسٹیل ملک میں فولاد سازی کا میگا پروجیکٹ ہے جس کا سنگ بنیاد سوویت یونین کے مالی، تکنیکی اور سائنسی تعاون سے 1973 میں اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے رکھا اس پر اس وقت 24.7 ملین روپے لاگت آئی اور 1985 میں صدر ضیاءالحق نے اس کا افتتاح کیا۔ مل کے اسٹاف کو سوویت یونین میں ٹریننگ دی گئی۔ اور مل نے 1.1 ملین ٹن اسٹیل کی پیداوار دینا شروع کر دی۔ 2006 میں وزیراعظم شوکت عزیز کی حکومت نے اس کی پرائیویٹائزیشن کا فیصلہ کیا جس کی ملک بھر میں مخالفت ہوئی اور سپریم کورٹ نے اس کی نجکاری روک دی لیکن اس دوران مل مسلسل خسارے کی طرف بڑھنے لگی۔ 

2011 میں اسے وفاقی حکومت کی پرائیویٹ کمپنی سے نکال کر براہ راست سرکاری ملکیت میں لے لیا گیا اور 2012 میں یوکرین نے اس کی بحالی کی پیشکش کی لیکن مسلسل عدم توجہی سے حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ اس کی پیداوار نہ ہونے سے حکومت کو صرف ڈیڑھ سال کے عرصہ میں 2 ارب ڈالر کا زرمبادلہ خرچ کر کے اسٹیل مصنوعات درآمد کرنا پڑیں۔ پالیسی ساز اداروں اور حکومت کو اس قومی ورثے کوبچانے اور پھر سے منافع بخش بنانے کے لئے سر جوڑ کر بیٹھنا چاہئے ۔

اداریہ روزنامہ جنگ
 

No comments:

Powered by Blogger.