Header Ads

Breaking News
recent

یہ تیرا برطانیہ نہیں، پاکستان ہے : وسعت اللہ خان

ان دنوں زندگی عذاب میں ہے۔ کیونکہ لندن میں میرے پڑوس میں رہنے والے
میلکم کی اتفاقاً کراچی میں چند ماہ کے لیے پوسٹنگ ہوئی ہے۔ شام کے بعد وہ بالکل ویہلا ہوتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ کراچی اب محفوظ ہے۔ مگر میلکم کے باس نے اسے اتنا ڈرایا ہوا ہے کہ مجھے مجبوراً اسے ہوا خوری کے لیے ہر تیسرے چوتھے دن نکالنا پڑتا ہے مگر وہ ہوا خوری بھی کار سے اترے بغیر کرتا ہے۔
مجھے معلوم ہے کہ میلکم کا پرابلم کیا ہے؟ وہ سارا انگریزی اخبار چاٹ جاتا ہے اور پھر پگلا جاتا ہے اور ایسے ایسے سوالات کرتا ہے کہ میں چریا جاتا ہوں۔ مثلاً کل اس نے یہ خبر پڑھ لی کہ پرویز مشرف نے خصوصی عدالت کو اپنے وکیل کے ذریعے خط بھیجا ہے کہ میں تب عدالت میں پیش ہونے پاکستان آؤں گا جب فوج میری حفاظت کرے اور پیشی کے بعد میری بیرونِ ملک واپسی کو بھی یقینی بنایا جائے۔

یہ تین رکنی خصوصی عدالت پشاور، لاہور اور بلوچستان ہائی کورٹ کے ججوں پر مشتمل ہے اور اس میں پرویز مشرف کے خلاف آئین سے غداری کا مقدمہ زیرِ سماعت ہے اور عدالت نے ملزم کو اشتہاری قرار دے رکھا ہے۔ میلکم کہتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی اشتہاری ملزم اپنی شرائط پر عدالت میں پیش ہونے کا مطالبہ کرے؟ ہمارے برطانیہ میں تو کسی ملزم کو ایسا کرنے کی جرات نہیں ہو سکتی۔ عدالت فوراً اس کا ذہنی معائنہ کروانے کا حکم دے گی۔ میلکم کو اتنی سامنے کی بات بھی ہمالیہ لگ رہی ہے کہ دنیا کی کسی بھی فوج کا ترجمان اپنے ہی ملک کے وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے حکم نامے کو کیسے ایک ٹویٹ کی نوک پر مسترد کر سکتا ہے، بھلے وہ حکم نامہ کسی کو پسند آئے یا نہ آئے۔
اور میڈیا اپنے ہی ملک کے آرمی چیف کی اپنے ہی باس وزیرِ اعظم سے ملاقات کی ایسے تشہیر کیوں کرتا ہے جیسے دو سربراہانِ مملکت کی ملاقات ہو رہی ہو؟ ہمارے برطانیہ میں تو عام آدمی چیف آف سٹاف کا نام تک نہیں جانتا۔ اور یہ کیسے ممکن ہے کہ ڈان لیکس کی تحقیقاتی رپورٹ ابھی جاری ہوئی نہیں مگر اس کی بنیاد پر پرویز رشید، طارق فاطمی اور راؤ تحسین کو باقاعدہ چارج شیٹ کیے بغیر برطرف کر دیا گیا؟ ہمارے برطانیہ میں تو اس معاملے کو لے کر پارلیمنٹ میں کھٹیا کھڑی ہو جاتی۔ کیسے ممکن ہے کہ کوئی اشتہاری ملزم اپنی شرائط پر عدالت میں پیش ہونے کا مطالبہ کرے؟

اور پاناما لیکس کا عدالتی فیصلہ آنے کے بعد وزیرِ اعظم کی بیٹی نے کس حیثیت میں یہ کہا کہ پاناما پیپرز کچرا ہیں اور ان کا بنیادی موضوع کرپشن نہیں۔ اگر ایسا ہے تو سپریم کورٹ نے کیا چار ماہ تک کچرا چھانا؟ کیا وزیرِ اعظم کی بیٹی کا بیان توہینِ عدالت نہیں اور عدالت نے جو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنائی ہے وہ وزیرِ اعظم اور ان کے دو بیٹوں سے کیا پوچھے گی جب سب ہی کچھ کچرا ہے؟ ہمارے برطانیہ میں تو وزیرِ اعظم کے اہلِ خانہ اس دھڑلے سے بات نہیں کرتے۔ اور عمران خان کو سپریم کورٹ کی جانب سے ڈانٹ کیوں پڑی اور سپریم کورٹ نے بس یہ تنبیہہ کر کے کیوں چھوڑ دیا کہ آپ جیسے لیڈر کو پاناما کیس کے بارے میں ججوں کے فیصلے کی من مانی تشریح زیب نہیں دیتی۔ ہمارے برطانیہ میں تو یہ سیدھا سیدھا توہینِ عدالت کا کیس ہوتا۔

اور ایسا کیوں ہے کہ جب پیمرا نے ایک ٹی وی چینل بول کا لائسنس منسوخ کر دیا ہے تو عدالت نے اسے اپنی نشریات جاری رکھنے کی اجازت کیوں دے دی؟ کیا کوئی بھی چینل اس طرح سے اپنی نشریات جاری رکھ سکتا ہے اور وہ بھی منسوخ شدہ لائسنس کے ساتھ؟ ہمارے برطانیہ میں تو۔ ابے تیرا برطانیہ گیا بھاڑ میں۔ کچھ دنوں کے لیے تو یہاں آیا ہے۔ جب ہضم نہیں کر سکتا تو اخبار کیوں پڑھتا ہے۔ یہ تیرا برطانیہ نہیں ہے یہ پاکستان ہے پاکستان۔ یہاں کا اپنا کلچر اور روایات ہیں۔ آخر تم انگریز کب تک دوسروں کو وہ روایتیں سکھاتے رہو گے جو ہمارے کسی کام کی نہیں۔ اچھا ہوا تم سے 70 سال پہلے ہماری جان چھوٹ گئی۔

ورنہ اب تک اپنے اصولوں کی مونگ ہمارے سینوں پر دلتے رہتے۔ تم کیوں چاہتے ہو کہ ہم تمہارے جیسے بن جائیں۔ جہنم میں جائے تمہاری جمہوریت، تمہارے اصول اور تمہارے اداروں کے مخصوص دائرے میں رہنے کی عادتیں۔ سیدھے سیدھے وقت گزارو اور خیریت سے نکل لو۔ ہم جانیں اور ہمارا ملک۔ تمہارے ہی ایک رڈ یارڈ کپلنگ نے کہا تھا کہ ایسٹ از ایسٹ۔ چوبیس گھنٹے سے کافی سکون ہے۔ میلکم کا کوئی فون نہیں آیا۔ لگتا ہے خود جا کے منانا پڑے گا۔ آخر کو پرانی محلے داری کا معاملہ ہے۔ لندن میں میرا بہت خیال رکھتا تھا۔ مگر اسے بھی تو اپنی حد میں رہنا چاہیے۔ بھلا یہ کوئی بات ہوئی ہمارے برطانیہ میں یہ ہمارے برطانیہ میں وہ ۔ 

وسعت اللہ خان
تجزیہ کار

No comments:

Powered by Blogger.