Header Ads

Breaking News
recent

صدر ایردوان کا دورۂ بھارت

صدر ایردوان نے اکتیس مارچ تا یکم مئی 2017ء بھارت کا سرکاری دورہ کیا۔ یہ
کسی بھی ترک صدر کا سات سال بعد دورۂ بھارت تھا اس سے قبل صدر عبداللہ گل بھارت کا دورہ کر چکے ہیں جبکہ ایردوان نے اس سے قبل وزیراعظم کی حیثیت سے بھارت کا سرکاری دورہ کیا تھا۔ یہ صدر ایردوان کا 16 اپریل کے صدارتی ریفرنڈم کے بعد پہلا غیر ملکی دورہ ہے۔ بھارت روانگی سے قبل استنبول کے اتاترک ہوائی اڈے پر صدر ایردوان نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اور ترکی کے درمیان خاص طور پر تجارتی شعبے میں تعلقات کو فروغ دینے کے لئے دونوں ممالک بڑی صلاحیتوں اور وسائل کے مالک ہیں جن سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ترکی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کے لئے تیار ہے۔ اس وقت ترکی کے لئے بھارت مشرقِ بعید کے ممالک کو کھلنے والے دروازے کی حیثیت رکھتا ہے جبکہ بھارت کے لئے ترکی یورپ تک رسائی حاصل کرنے کا ایک اہم وسیلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے دورہ بھارت کے دوران ان تعلقات کو فروغ دینے کے لئے اعلیٰ بھارتی حکام سے بات چیت کریں گے اور پھر اس کے بعد ہی کسی روڈ میپ کو واضح کیا جائے گا۔
اس سے قبل صدر ایردوان نے بھارتی ٹی وی چینل ’’رلڈ ایز ون نیوز‘‘(ڈبلیو آئی او این ) کو انٹرویو دیتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ثالث کا کردار ادا کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ضروری ہوا تو ترکی کی حیثیت سے ہم معاملے میں شامل ہو سکتے ہیں، مسئلہ کشمیر کا مذاکراتی حل پاکستان اور بھارت دونوں کے مفاد میں ہے۔ ترکی کے صدر ایردوان نے 15 اپریل 2016 کو استنبول میں 13ویں تنظیم اسلامی کانفرنس کے سربراہی اجلاس کے موقع پر تنظیم اسلامی کانفرنس کے سیکرٹری جنرل عیاد مدنی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کے موقع پر بڑے واضح انداز میں کہا تھا کہ ’’ہمیں یقین ہے کہ مسئلہ جموں کشمیر کو بہترین طریقے سے حل کرنے کا راستہ کشمیری عوام کی خواہشات کا احترام کرنے ہی سے گزرتا ہے۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اتنا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود کیوں کر مسئلہ کشمیر کو حل نہیں کیا جا سکا ہے۔ میرے خیال میں علاقے کے عوام کے حقِ خود ارادیت کو تسلیم کیے بغیر اس مسئلے کو حل کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس طرح ترکی ابتدا ہی سے مسئلہ کشمیر کے بارے میں پاکستان کے موقف کی کھل کر حمایت کرنے والا پاکستان کا سب سے قریبی اور دوست ملک ہے۔

ترک صدر ایردوان نے اپنے دورۂ بھارت کے دوران ترک۔ انڈیا بزنس کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’بھارت کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کے لئے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کے لئے ہم پُرعزم ہیں۔ ہم بھارت کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے خواہاں ہیں اور دونوں ممالک کے سرمایہ کاروں کو ایک دوسرے کے ملک میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کے مشترکہ اقتصادی کمیشن کے اجلاسوں کو جاری رکھنے اور آزاد تجارتی سمجھوتے سے متعلق مذاکرات شروع کرنے اور اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے بھارت کے ساتھ اس وقت موجود تجارتی حجم کے ساڑھے چھ بلین ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ اس تجارتی حجم کو وقت کے ساتھ ساتھ مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا کی عظیم ترین 250 کنسٹرکشن فرموں میں42 ترک فرمیں شامل ہیں جن سے بھارت کو بھی استفادہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان اپنی کرنسی ہی میں تجارت کو جاری رکھنے کی بھی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ترکی میں بھارتی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کرنے کی ہر ممکنہ سہولت کی بھی یقین دہانی کروائی اور کہا کہ ترکی، بھارت کے لئے بحیرہ اسود، یورپ، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطی کے علاقے تک رسائی حاصل کرنے کے لئے ایک اڈہ بننے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے اس موقع پر بھارتی سیاحوں کو جن کی تعداد انہتر ہزار سالانہ ہے میں مزید اضافہ کرنے اور بھارت میں شادی کرنے والوں جوڑوں کو ترکی میں شادی کا اہتمام کرنے اور ہنی مون منانے کے بارے میں بھی اپنی خواہش سے آگاہ کیا۔

ترکی جس کے اس وقت یورپی یونین کے رکن ممالک کے ساتھ تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں حالات کو سازگار بنانے کے لئے بھارت، چین اور روس کی جانب اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ اسی لئے ترکی کے صدر ایردوان نے یورپی ممالک کے ساتھ تعلقات کے کھٹائی میں پڑ جانے کے بعد بھارت کا دورہ کیا۔ ترکی خاص طور پر اپنی کنسٹرکشن فرموں کے ذریعے بھارت کے دور دراز علاقوں تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے اور بھارت کے کنسٹرکشن فیلڈ میں بہت کمزور ہونے کے باعث استفادہ کرتے ہوئے علاقے میں کنسٹرکشن کے میدان میں اپنی مہر ثبت کرنا چاہتا ہے۔

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان جب نئی دہلی پہنچے تو ان کا استقبال بھارت کی وزیر اسپورٹس اور یوتھ نے کیا اور بعد میں صدر ایردوان نے بھارت کے صدر مکھر جی پرناب اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ اس کے بعد صدر ایردوان نے بھارت کے بانی مہاتما گاندھی کی سمادی پر پھول چڑھائے اور وزٹنگ بک میں اپنے تاثرات کو قلمبند کیا۔ بعد میں ترک صدر ایردوان نے بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی سے ون ٹو ون ملاقات کی جس کے بعد دونوں ممالک کے وفود کے درمیان مذاکرات منعقد ہوئے اور جس میں مختلف سمجھوتوں پر دستخط بھی کیے گئے۔ اس کے بعد دونوں رہنمائوں نے مشترکہ طور پر پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقع پربھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ترکی میں جی 20 اجلاس میں شرکت اور پھر ترکی کے ساتھ فروغ پانے والے تعلقات کا ذکر کیا۔

ترک صدر ایردوان نے بعد میں دہلی کی جامع ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کی جانب سے ان کو پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری دینے کی تقریب میں بھی شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے اقوام متحدہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے دنیا کے مستقبل کے اقوام متحدہ کے پانچ مستقل رکن ممالک کے ہاتھوں میں ہونے کی شکایت کی اور کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پانچ مستقل رکن ممالک کے علاوہ دیگر عبوری دس رکن ممالک کی کوئی اہمیت نہیں ہے وہ عبوری رکن ممالک ان پانچ مستقل رکن ممالک کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں اقوام متحدہ میں بھارت جس کی آبادی ڈیڑھ بلین کے لگ بھگ ہے اور عالم ِ اسلام جس کی آبادی 7.1 بلین ہے، کوئی نمائندگی نہیں ہے۔ اس سلسلے میں بھارت، اسلامی ممالک اور جاپان کو بھی آواز بلند کرنے اور اقوام متحدہ کے ڈھانچے کو تبدیل کرنے کیلئے اپنے اوپر عائد ہونیوالے فرائض کو ادا کرنے کی ضرورت ہے تا کہ دنیا کو پانچ ممالک کے ہاتھوں یرغمال بننے سےروکا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمارا نظریہ ہے۔ حق پر مبنی ملک ہی کو طاقتور ہونا چاہئے۔‘‘

ڈاکٹر فر قان حمید


No comments:

Powered by Blogger.